سیالکوٹ واقعہ: پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں ملزم کی شناخت اور سزائیں کیسے ہوتی ہیں؟

نیوز ڈیسک

کراچی – جمعے کو سیالکوٹ شہر کی ایک فیکٹری میں ”توہین مذہب“ کے نام نہاد الزام میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن مینیجر پریانتھا کمارا کو بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا

بپھرے ہجوم کے ہاتھوں قتل کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں، لیکن اس ضمن میں کئی دیگر امور کے ساتھ یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ ایسے واقعات میں ملزمان کی شناخت کیسے کی جاتی ہے

اس حوالے سے مشال خان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل شہاب خان خٹک نے بتایا کہ پُرتشدد ہجوم کے ایسے واقعات میں ایک قدر مشترک ہے کہ وہاں پر موجود لوگ ایسے دردناک واقعات کی تصاویر اور وڈیوز بناتے ہیں

ان کے مطابق جب سنہ 2017 مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم مشال خان پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے، تو یہ سب مناظر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیے۔ بعد میں اس واقعے کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئیں

شہاب خٹک کے مطابق پولیس نے ان وڈیوز میں پہلے شناخت کی کہ کون مشال خان کو مارنے پر اکسا رہا ہے اور کس کا اس سارے معاملے میں کیا کردار ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے مرکزی ملزم عمران علی کو گرفتار کر کے اس کی وڈیو بنائی اور پھر واقعے کی وڈیوز کے ساتھ اس وڈیو کو فارنزک کے لیے بھیج دیا

ان کے مطابق فارنزک میں یہ ثابت ہو گیا کہ مشال خان کو گولی مارنے والا مرکزی ملزم وہی ہے، جس کی حراست کے دوران پولیس نے وڈیو بنا کر تصدیق کے لیے بھیجی تھی

وکیل شہاب خٹک کے مطابق فوجداری مقدمات میں مزید شہادتیں جمع کرنے کے بھی طریقہ کار درج ہیں، لیکن ایسے مذہبی نوعیت کے واقعات میں ملزمان خود بھی اپنے کیے سے انکاری نہیں ہوتے اور وہ خود بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا اس وجہ سے کیا ہے

جیو فینسنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے فوجداری قوانین کے ماہر بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات میں سب سے پہلے تو مرکزی ملزمان کی شناخت وڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں اس علاقے کی ’جیو فینسنگ‘ کی جاتی ہے یعنی حقائق کو جدید آلات، سائنسی شواہد اور طریقوں کے ذریعے اکٹھا کیا جاتا ہے

پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق کی رائے میں جیو فینسنگ ایک طویل اور پیچیدہ طریقہ تفتیش ہے۔ ان کے خیال میں آج کے دور میں وڈیوز ہی ملزمان تک پہنچنے کا اہم ذریعہ ہیں

مولوی انوارالحق کے مطابق پولیس کو وقت ضائع کیے بغیر ایسے شواہد کو سامنے لانا ضروری ہوتا ہے وگرنہ دیر سے پیش کیے جانے والے شواہد کی ساکھ متاثر ہوتی ہے

ان کی رائے میں جن افراد نے بھی وڈیوز بنائی ہیں، ان کا عدالت میں آ کر یہ شہادت دینا بھی ضروری ہے کیونکہ ان مقدمات میں موت کی سزا ہوتی ہے

سلمان صفدر کے مطابق سیالکوٹ واقعے کی ویڈیوز بھی دستیاب ہیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی افراد سری لنکن شہری پریانتھا کمارا پر تشد کر رہے ہیں اور اسے جان سے مار رہے ہیں، وہ سب نظر آ رہے ہیں

ان کے مطابق اس کے علاوہ فیکٹری کے اندر کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ پریانتھا کے ساتھ اس سارے تنازع کی بنیاد کس نے رکھی

سلمان صفدر کی رائے میں پولیس کی تحقیقات اور سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والے جدید سائنسی شواہد، جس میں موبائل ڈیٹا کا اہم ترین کردار ہوتا ہے، جو مرکزی ملزم کی شناخت کرتا ہے اور پھر یہی شواہد ملزم کی سزا کا باعث بن جاتے ہیں

شہاب خٹک کے مطابق دیگر شواہد میں پولیس یہ جانچ پڑتال بھی کر سکتی ہے کہ جمعے والے دن کون کون ڈیوٹی پر موجود تھا اور اس وقت جب یہ تنازع شروع ہوا تو کس نے کیا کردار ادا کیا تھا

ان کی رائے میں پولیس جس انداز میں شہادتیں جمع کرتی ہے اس کی فوجداری قوانین میں اپنی اہمیت ہوتی ہے

مولوی انوارالحق کے مطابق اگر کسی ایک شخص کے وار سے یا گولی سے کسی کی موت واقع بھی ہوجائے، تو ایسے میں پرتشدد ہجوم میں دیگر لوگوں کی جان خلاصی نہیں ہو جاتی

ان کی رائے میں سیالکوٹ واقعے کی وڈیوز بہت صاف ہیں اور ’کامن اٹینشنز‘ کی شق کے تحت دیگر ملزمان جن کی شناخت ہو رہی ہے، انہیں بھی سزائیں سنائی جا سکتی ہیں

سرکاری طور پر نصب کیے گئے کیمروں سے شواہد اکٹھے کرنے کے بارے میں سابق اٹارنی جنرل کہتے ہیں کہ ایسے میں صرف ان کیمروں کا انچارج ہی جا کر عدالت کی تسلی کرا سکتا ہے کہ کونسی وڈیو کس کیمرے سے حاصل کی گئی ہے

تقریباً گیارہ سال قبل سیالکوٹ میں دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا گیا اور پھر دونوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انہیں ہلاک کردیا گیا

سنہ 2010ع میں سیالکوٹ کے نواحی علاقے بٹر میں پولیس کی موجودگی میں بہت سے لوگوں نے دو سگے بھائیوں حافظ مغیث اور منیب کو رسیوں سے باندھا اور اس کے بعد دونوں بھائیوں پر ڈنڈوں سے تشدد کر کے انہیں ہلاک کردیا

ہجوم نے دونوں بھائیوں کی لاشوں کو پہلے الٹا لٹکایا اور بعد میں ان بھائیوں کی لاشوں کو شہر میں گھمایا

جب اس واقعے کی بنائی جانے والی فوٹیجز مقامی ٹی وی چینلوں نے نشر ہوئیں تو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس کا نوٹس لیا

ان دو بھائیوں کے قتل کے ذمہ داروں کو سنائی جانے والی سزائے موت کو گذشتہ برس سپریم کورٹ نے عمر قید میں بدل دیا

واضح رہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تو مولوی انوارالحق اٹارنی جنرل کے منصب پر فائز تھے. ان سے جب ماضی میں پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں قتل کے واقعات میں ملزمان کی بریت اور سزائیں کم ہونے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ تمام شواہد کے بعد یہ عدالت پر ہی منحصر ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو کیا سزا سناتی ہے

واضح رہے کہ مولوی انوارالحق لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہ چکے ہیں

مشال خان کے وکیل شہاب خٹک کے مطابق ’موب جسٹس‘ یا پرتشدد ہجوم کے واقعات ایک دن میں نہیں ہوتے، بلکہ ایسے واقعات کے لیے پہلے باقاعدہ ذہن سازی کی جاتی ہے

ان کے خیال میں سب سے اہم یہ ہے اور ریاست کا یہ کام ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے

ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ ساز مذہب کو اتحاد کے ایک ہتھیار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ان وجوہات سے صرف نظر کیا جاتا ہے، جن کی وجہ سے ایسے دلخراش واقعات پیش آتے ہیں

ان کے مطابق جب مذہب کی بنیاد پر کیے جانے والے ایسے واقعات میں کسی کو سزا ہوتی ہے، تو معاشرے میں اسے ہیرو کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے اور پھر ادارے بھی اس دباؤ کو محسوس کرتے ہیں اور آخر میں ایسے سنگین واقعات میں ملوث ملزمان بری ہوجاتے ہیں یا ان کی سزائیں کم ہو جاتی ہیں

ان کی رائے میں ”اس وقت نفرت پر مبنی تقریر تو کوئی جرم ہی نہیں رہ گیا ہے۔“

شہاب خٹک کا کہنا ہے اگر ریاست نے نفرت پر مبنی بیانیہ بدلنا ہے تو پھر ایسے بیانیے کو میڈیا، عدالتوں، عبادت گاہوں اور درس گاہوں کے ذریعے بدلنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایسے مقدمات دہشتگردی کی عدالتوں میں سنے جاتے ہیں اور یہی ذہنیت معاشرے میں دہشتگردی کا باعث بنتی ہے

ادہر پنجاب پولیس کے دعوے کے مطابق جمعے کو سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں پریانتھا کمارا نامی ایک سری لنکن شہری کو تشدد کر کے ہلاک کرنے اور پھر اس کی لاش کو آگ لگانے والے مرکزی ملزمان کی شناخت کر دی گئی ہے

سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مرکزی ملزمان سمیت اب تک ایک سو سے زائد ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جنہوں نے ہجوم کو اشتعال دلایا تھا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے مرکزی ملزمان کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری مینیجرز کی معاونت سے واقعہ میں ملوث افراد کی شناخت کی گئی ہے

لاہور میں آئی جی پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث ایک سو سے زائد گرفتار ملزمان میں 13 مرکزی ملزم شامل ہیں۔ ان تمام مرکزی ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے

ان کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق 160 کیمروں کی فوٹیج لی گئی ہے اور گرفتاریوں کے لیے دس ٹییمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ واقعے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ آر پی او اور ڈی پی او چوبیس گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کر رہے ہیں

پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث تمام مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور ان کی شناخت بھی ہو چکی ہے جب کہ آئی پنجاب نے پولیس کی کوتاہی کا امکان خارج کر دیا ہے

پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پنجاب پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی ملزم کو مبینہ طور پر وڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے

پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ کہ انہوں نے سو سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، ‘جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے۔’

پولیس کا کہنا تھا کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ مشال خان کے ساتھ پیش آیا تھا، وہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم تھے، جنہیں سال 2017 میں مشتعل ہجوم نے م تشدد کے بعد ہلاک کر دیا تھا

مشال خان کے قتل میں 61 افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا، جن میں سے 57 ملزمان کو گرفتار کرکے سماعت شروع کر دی گئی تھی۔ ان میں زیادہ تر عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبا اور یونیورسٹی کے ملازمین تھے

مشال خان پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے لیکن اس بارے میں قائم تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ایسے کوئی شواہد نہیں ملے

پولیس کی جانب سے مشال خان قتل کیس میں گرفتار 57 ملزمان میں سے عدالت نے مرکزی ملزم عمران علی کو سزائے موت، پانچ کو 25 سال قید جبکہ 25 ملزمان کو چار سال قید کی سزا سنائی تھی۔ جبکہ باقی 26 ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا

چار سال قید کی سزا پانے والے ملزمان کو پشاور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے

اس طرح سنہ 2015ع میں لاہور کے یوحنا آباد کے علاقے میں واقع مسیحی برادری کی دو عبادت گاہوں پر بم دھماکے ہوئے تھے، جس کے بعد مشتعل علاقہ مکینوں نے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ بھی کی اور پولیس کے ساتھ بھی ان کی جھڑپ ہوئی تھی

اسی دوران مسلمان برادری سے تعلق رکھنے والے بابر نعمان اور حافظ نعیم مشتعل افراد کے ایک ہجوم کے ہاتھ چڑھ گئے تھے۔ ہجوم نے انہیں دہشت گرد تصور کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد ان پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی گئی تھی

پولیس نے ایک طویل تفتیش کے بعد چالیس سے زائد ملزمان کی نشاندہی کی تھی اور ان پر انسدادِ دہشت گردی سمیت قتل اور دیگر کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے تھے

بعد میں لواحقین نے اس مقدمے میں صلح کرلی، جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی کہ ایسے واقعات میں صلح کی بھی گنجائش ہوتی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close