موٹروے پر چالان کی مدد سے ایک تاجر کو ’اغوا‘ کرنے والا کیسے پکڑا گیا؟

نیوز ڈیسک

لیہ / بھکر – موٹر وے (ایم ٹو) پر تیز رفتاری کی وجہ سے کیا جانے والے چالان کے باعث اس وقت دلچسپ صورت پیدا ہو گئی، جب ضلع بھکر کی پولیس نے اسی چالان کی مدد سے ایک تاجر کے اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ایک ملزم کو گرفتار کر لیا

واقعہ کی تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر لیہ سے تعلق رکھنے والے تاجر سمیع اللہ چند ہفتے قبل اپنے شہر سے ٹیکسی کے ذریعے اسلام آباد کا سفر کر رہے تھے، در ایں اثنا راستے میں کسی مقام پر نامعلوم افراد نے ڈرائیور سمیت انہیں تاوان کی غرض سے اغوا کر لیا

تاجر سمیع اللہ کے مطابق انہیں اغوا کاروں کو تاوان تو دینا پڑا، لیکن موٹر وے پولیس کے چالان کی وجہ سے ان کا سراغ ملا اور ان میں سے ایک گرفتار بھی ہو گیا

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور کی عقل مندی اور موٹر وے پولیس کے چالان نے سمجھیں کہ میرے لیے معجزہ ہی کر دیا

پولیس کے مطابق پنجاب کے ضلع بھکر میں تھانہ سرائے مہاجر کے ایس ایچ او اشرف اعوان نے موٹر وے پولیس کے چالان کی مدد سے سمیع اللہ کے اغواکاروں میں سے ایک کو گرفتار کر لیا ہے

سمیع اللہ کے اغوا کے کیس کو دلچسپ اور حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے اشرف اعوان نے بتایا کہ اس کیس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اغوا ہونے والوں کا تعلق لیہ سے ہے، انہیں ضلع میانوالی کے کسی علاقے سے اٹھایا جاتا ہے، تاوان کی ادائیگی اسلام آباد کے بلیو ایریا میں ہوتی ہے اور ایک اغوا کار ضلع بھکر سے گرفتار ہوتا ہے

اشرف اعوان کا مزید کہنا تھا کہ اغوا کاروں تک پہنچنے میں موٹر وے پولیس کے چالان نے حیرت انگیز طور پر تفتیش میں سب سے زیادہ مدد کی۔ جب چالان لینے والے کی شناخت ہو گئی تو باقی کام اس کے موبائل نمبر کو ٹریس کر کے کر لیا گیا

ایس ایچ او اشرف اعوان کے مطابق مجموعی طور پر سمیع اللہ کو اغوا کرنے والے گیارہ افراد تھے، جو اس قسم کی دوسری وارداتوں میں بھی مطلوب ہیں

انہوں نے کہا کہ اس گروہ کا ایک رکن گرفتار ہو چکا ہے اور سرائے مہاجر پولیس دوسرے ارکان کا پیچھا کر رہی ہے

اغواء ہونے والے تاجر سمیع اللہ نے رہائی کے بعد سرائے مہاجر تھانے میں درج ایف آئی آر میں بتایا کہ میں لیہ سے اپنے بااعتماد ٹیکسی ڈرائیور محمد فیاض کی گاڑی میں اسلام آباد کا سفر کر رہا تھا، راستے میں میری آنکھ لگ گئی اور گاڑی کے جھٹکے سے رکنے پر میں جاگا، تو میں نے دیکھا کہ ایک دوسری گاڑی نے ہمارا راستہ روکا ہوا تھا

انہوں نے بتایا کہ اس گاڑی سے ہاتھ میں پستول لیے ایک شخص ہماری گاڑی کی طرف بڑھا اور ہمیں گاڑی سے اترنے کا اشارہ کیا

دوسری گاڑی میں موجود چار نامعلوم افراد نے سمیع اللہ کو اپنے ساتھ سوار کیا اور ان پر تشدد کرنا شروع کر دیا، جبکہ دیگر دو لوگ ڈرائیور فیاض کے ساتھ انہی کی گاڑی میں بیٹھے اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہو گئے

سمیع اللہ کا کہنا تھا کہ وہ لوگ کبھی خود کو سرکاری محکمے والے ظاہر کرتے اور کبھی کہتے کہ وہ بعض کالعدم تنظیموں کے لیے چندہ اکٹھا کر رہے ہیں

اغواکاروں نے سمیع اللہ سے پہلے پچاس لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ جو بعد میں کم کر کے بیس لاکھ کر دیے گئے

ایف آئی آر کے مطابق سمیع اللہ کو تقریباً چار پانچ گھنٹوں کے لیے نامعلوم مقام پر ایک گھر میں قید بھی رکھا گیا، جہاں ان پر تشدد کیا گیا

لیہ کے تاجر نے آخر کار بیس لاکھ روپے اغواکاروں کو ادا کرنے کی ہامی بھر لی جس کے لیے انہوں نے اسلام آباد میں اپنے ایک دوست کو فون کر کے قرض مانگا

پیسوں کی ادائیگی اور مغویوں کی آزادی کے لیے اغوا کاروں نے اسلام آباد کے بلیو ایریا کا انتخاب کیا، جہاں سمیع اللہ کے دوست نے رقم پہنچانا تھی

سمیع اللہ کے مطابق سب کچھ خیر خیریت سے ہو گیا۔ انہیں پیسے مل گئے اور مجھے راولپنڈی میں موٹر وے چوک کے پاس چھوڑ دیا گیا۔ جہاں ڈرائیور فیاض اپنی گاڑی کے ساتھ موجود تھا

لیکن اس سارے واقعے نے اس وقت دلچسپ موڑ لیا جب تاوان کی ادائیگی اور رہائی کے اگلے روز سمیع اللہ لیہ میں اپنے گھر پر تھے، جہاں ڈرائیور فیاض ان سے ملنے آئے اور اغوا کاروں کے ساتھ اپنے گزرے وقت کی روداد سنائی

سمیع اللہ کے مطابق تاوان کی رقم اور ادائیگی کا مقام طے ہونے کے بعد اغوا کار گروہ کے کچھ رکن فیاض کو اسلام آباد لا رہے تھے، لیکن انہیں راستہ معلوم نہیں تھا اور انہیں کافی تاخیر ہو رہی تھی

ڈرائیور فیاض کے مطابق لیٹ ہونے کی وجہ سے اغواکار موٹر وے کے ذریعے اسلام آباد آ رہے تھے اور گاڑی بہت تیز تھی۔ جو اغوا کاروں کا ایک ساتھی ہی چلا رہا تھا

اس روداد کے دوران فیاض نے سمیع اللہ کو ایک ایسی بات بتائی، جو آگے چل کر اس سارے واقعے کا دلچسپ پہلو بن گئی

ڈرائیور فیاض نے بتایا ”ایم ٹو پر اسلام آباد ٹول پلازہ کے قریب گاڑی کو موٹر وے پولیس نے تیز رفتاری کے باعث روکا تھا اور ان کا چالان بھی کیا“

تبھی فیاض کی یہ بات سن کر سمیع اللہ نے موٹر وے پولیس سے رابطہ کر کے اس ٹوکن (چالان) کی کاپی نکلوائی جو گاڑی چلانے والے اغواکار کے نام پہ کٹا تھا

موٹروے پولیس نے ڈرائیونگ لائسنس کی مدد سے اغواکار کی تفصیلات نکالیں، اور نام اور پتہ وغیرہ معلوم کیا، اس دوران  یہ بھی پتا چلا کہ وہ مجرمانہ کاروائیوں میں بھکر پولیس کو مطلوب ہے

سمیع اللہ نے بھکر کے تھانہ سرائے مہاجر میں ایف آئی آر درج کرائی جس کے بعد پولیس اور سی آئی اے کی مشترکہ کاوشوں سے ایک اغوا کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے

یوں موٹر وے پر تیز رفتاری کے باعث کاٹا گیا ایک چالان اغواکاروں کے گروہ تک پہنچنے میں پولیس کا مددگار بن گیا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close