کراچی میں اغوا برائے تاوان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری اہلکار ملوث نکلے!

نیوز ڈیسک

کراچی –  سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلشن معمار سے اغوا کیے گئے نوجوان کے کیس میں مزید اہم پیش رفت ہوئی ہے

تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل نوجوان حمزہ کی والدہ کو بھی اغوا کیا تھا اور اہل خانہ نے پولیس کو بتائے بغیر تاوان کی رقم بھی ادا کی تھی ، گرفتار آٹھ ملزمان سرکاری ملازم اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں

واضح رہے کہ پولیس اور رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اغوا برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت میں ملوث آٹھ رکنی گینگ گرفتار کیا تھا جس کے سلسلے میں جمعرات کو پریس کانفرنس بھی کی گئی تھی

تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزمان میں شامل عدنان اختر مغوی نوجوان حمزہ کا قریبی رشتے دار اور اغوا کی دونوں وارداتوں کا ماسٹر مائنڈ ہے ، حماد اور عمیر کسٹم اہلکار ہیں ، ملزم ذیشان پولیس میں زیر تربیت اے ایس آئی ہے جبکہ ملزم مسعود خواجہ اجمیر نگری تھانے میں تعینات ہے

ملزم حسان عدنان ایل ایل بی کے سیکنڈ ایئر میں زیر تعلیم ہے، جبکہ ملزم حارث اسٹیٹ لائف کارپوریشن میں اعلیٰ عہدے پر تعینات ہے ، اس کے علاوہ ملزم زوہیب کے ڈی اے میں بطور ایجنٹ کام کرتا ہے

تفتیشی حکام نے مزید بتایا کہ دوران تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے حمزہ کے اغوا سے کچھ عرصہ قبل حمزہ کی والدہ کو بھی اغوا کیا تھا ، حمزہ کی والدہ کی رہائی کے لیے بھی بھاری رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اہل خانہ نے رقم بھی ادا کردی تھی ، اس واردات میں بھی اہل خانہ نے پولیس کو نہیں بتایا تھا جبکہ حمزہ کے اغوا کے وقت بھی پولیس کو لاعلم رکھا گیا تھا

حمزہ کی رہائی کے عوض تاوان کی رقم سہراب گوٹھ پر وصول کی گئی تھی، جبکہ اسے گلشن معمار سے اغوا کیا گیا تھا ، تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اغوا کی دونوں وارداتوں کا ماسٹر مائنڈ عدنان اختر ہے جوکہ ان کا قریبی رشتے دار ہے ، اس کا حمزہ کے خاندان کے ساتھ کاروباری اور خاندانی تنازع چل رہا ہے جس کی خلش کی بنیاد پر اس نے یہ دونوں وارداتیں کیں

بتایا گیا ہے کہ ملزمان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کرتے تھے، جبکہ اسی بنیاد پر کئی شہریوں سے بھی بھاری رقم وصول کرچکے ہیں ، ملزمان سے مزید تحقیقات جاری ہے جس میں کئی اہم انکشافات متوقع ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close