عرب اسپرنگ: اپنے ڈوبتے اقتدار کے آخری لمحات میں سابق آمر کی فون کالز

ویب ڈیسک

لندن – حال ہی میں معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تیونس کے سابق صدر اور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کی چند ایسی فون ریکارڈنگز تک رسائی حاصل کی ہے، جب وہ سنہ 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بیرون ملک روانہ ہو رہے تھے

ان ریکارڈنگز سے ان آخری لمحات کی منظر کشی ہوتی ہے ، جب تیونس میں جمہوری نظام کے حق میں مظاہرے عرب اسپرنگ کے آغاز اور بن علی کے تیئیس برس کے آمرانہ اقتدار کے خاتمے کی بنیاد رکھ رہے تھے

بی بی سی کے مطابق ان فون ریکارڈنگز کا فارینزک معائنہ آڈیو ایکسپرٹس کی مدد سے کیا گیا، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان میں کسی قسم کی جعل سازی یا ھیراپھیری نہیں ہوئی

سنہ 2019ع میں بن علی کا جلا وطنی کے دوران انتقال ہو گیا تھا۔ بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ فون ٹیپس چند ایسے افراد کو سنوائی گئیں، جو ان لوگوں کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، جن کی آواز ان ٹیپس میں سنی جا سکتی ہے۔ ان افراد نے ان ریکارڈنگز کی تصدیق کی، لیکن کچھ متعلقہ افراد ایسے بھی تھے، جنہوں نے ان ٹیپس کو اصلی ماننے سے انکار کیا

لیکن اگر یہ فون ٹیپس واقعی درست ہیں تو یہ ان آخری اڑتالیس گھنٹوں کا حیران کن ثبوت ہیں، جب بن علی کو آہستہ آہستہ اس بات کا ادراک ہو رہا تھا کہ تیونس میں شروع ہونے والے مظاہرے کس طرح ملک اور ان کی پولیس اسٹیٹ کی تقدیر بدلنے والے ہیں

ان فون ریکارڈنگز کا آغاز 13 جنوری 2011 کو ہوتا ہے۔ بن علی کی جانب سے پہلی فون کال اپنے ایک قریبی ساتھی کو کی جاتی ہے

اس شخص سے متعلق خیال ہے کہ یہ طارق بن عمار ہیں، جو تیونس کے کامیاب میڈیا ٹائیکون ہیں اور جنہوں نے پہلی اسٹار وارز فلم کی تیونس میں عکس بندی کے لیے ہالی وڈ ڈائریکٹر جارج لوکاس کو قائل کیا تھا

یہی وہ دن تھا، جب بن علی نے قوم سے حکومت مخالف مظاہروں کو روکنے کی کوشش کے لیے خطاب کیا تھا

(ذہن میں رہے کہ چند ہفتے قبل تیونس میں معاشی مشکلات اور دہائیوں سے جاری آمرانہ حکومت کے خلاف عوامی جذبات اس وقت کھل کر مظاہروں کی شکل اختیار کر گئے تھے، جب 17 دسمبر 2010 کو محمد بوعزیزی نامی ایک نوجوان نے خود کو اس وقت آگ لگا لی تھی، جب انہیں سرکای حکام نے سدی بوزید ٹاؤن میں ٹھیلہ لگا کر سامان بیچنے سے روک دیا تھا. اس نوجوان کی موت نے حکومت مخالف مظاہروں کو جنم دیا. 13 جنوری تک مظاہرے دارالحکومت کی سڑکوں تک پھیل چکے تھے، جن میں تقریباً ایک سو افراد کی ہلاکتیں ہوئیں. ، جن میں ایک سو افراد ہلاک ہوئے)

لیکن جب بن عمار کی جانب سے ان کی تعریف کے پل باندھے گئے، تو لگتا ہے بظاہر بن علی قدرے مطمئن ہو گئے تھے، لیکن پھر بھی جھجک کا شکار تھے

اس ریکارڈنگ میں بن عمار کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے ”آپ بہت شاندار تھے۔ یہ وہ بن علی ہے جس کا ہمیں انتظار تھا۔“

جواب میں بن علی پرامید نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی تقریر میں روانی نہیں تھی۔ ان کے دوست بن عمار انہیں تسلی دیتے ہیں ”ایسا بلکل نہیں۔ یہ تو تاریخی واپسی ہے۔ آپ عوامی شخصیت ہیں۔ آپ ان ہی کی زبان بولتے ہیں۔“

بن علی جواب میں ہنستے ہیں، جیسے انہیں سکون ملا ہو، لیکن اس دن ان کا قوم سے خطاب ناکافی تھا

اگلے دن حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آ گئی اور وزارت داخلہ پر قبضے کے قریب پہنچ گئے۔ ایسے میں بن علی کے خاندان کو حفاطتی قدم کے طور پر سعودی عرب بھجوانے کے انتظامات کیے گئے اور بن علی کو قائل کیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ جائیں

جبکہ اگلی فون ریکارڈنگ اس وقت کی ہے، جب بن علی جہاز میں بیٹھے تھے۔ انہیں جنونی انداز میں تین افراد سے بات کرتے سنا جا سکتا ہے، جن میں وزیر دفاع، آرمی چیف اور ایک قریبی ساتھی کمال الطائف شامل ہیں

سب سے پہلے وہ ایک ایسے شخص سے تیونس میں زمینی صورتحال جاننے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ وزیر دفاع ردھا غریرہ ہیں

غریرہ سے بن علی کو پہلی بار معلوم ہوتا ہے کہ عبوری صدر تعینات ہو چکے ہیں۔ بن علی غریرہ سے تین بار اپنے الفاظ دہرانے کو بولتے ہیں۔ اس کے بعد وہ جواب دیتے ہیں کہ وہ چند ہی گھنٹوں میں ملک واپس لوٹ آئیں گے

اس کے بعد بن علی ایک اور شخص کو کال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ ان کے قریبی ساتھی کمال الطائف ہیں۔ بن علی الطائف کو بتاتے ہیں کہ وزیر دفاع نے انہیں یقین دلایا ہے کہ حالات قابو میں ہیں

الطائف دوٹوک الفاظ میں بن علی کے اس مفروضے کو رد کرتے ہیں۔ ”نہیں، نہیں۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور فوج بھی کافی نہیں۔“

بن علی ان کو ٹوکتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ ”کیا آپ مجھے مشورہ دیں گے کہ میں واپس آؤں یا نہیں؟“ پھر انہیں اپنا سوال تین بار دہرانا پڑتا ہے جس کے بعد الطائف آخر کار جواب دیتے ہیں کہ ”حالات اچھے نہیں۔“

اس کے بعد بن علی آرمی چیف راشد عمار کو فون کرتے ہیں، جو اُن کی آواز نہیں پہچان پاتے۔ بن علی کو انہیں بتانا پڑتا ہے کہ ”میں صدر بات کر رہا ہوں۔“

راشد عمار انہیں یقین دہانی کراتے ہیں کہ سب ٹھیک ھے۔ بن علی ان سے بھی وہی سوال کرتے ہیں، جو انیوں نے الطائف سے کیا تھا۔ ”کیا وہ تیونس واپس آ سکتے ھیں؟“

راشد انہیں کہتے ھیں کہ ”بہتر ہوگا کہ ابھی آپ کچھ انتظار کریں. جب ہمیں لگے گا کہ آپ واپس آ سکتے ہیں تو ہم خود آپ کو بتا دیں گے، جناب صدر۔“

اب بن علی دوبارہ وزیر دفاع کو فون کرتے ہیں اور دوبارہ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ واپس آ جائیں۔ اس بار غریرہ دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہیں اور بن علی کو کہتے ہیں کہ ”اگر وہ واپس آئے تو ان کی حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔“

بی بی سی کے مطابق، تقریباً آدھی رات کا وقت تھا جب بن علی کا جہاز سعودی عرب کے شہر جدہ اترتا ہے۔ بن علی پائلٹ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ تیونس واپسی کی تیاری کرے اور خود اپنے خاندان کے ساتھ شاہ فیصل کے محل میں گیسٹ ہاؤس کی جانب روانہ ہوتے ہیں، لیکن پائلٹ حکم عدولی کرتے ہوئے بن علی کے بغیر ہی طیارہ تیونس واپس اڑا لے جاتا ہے

اگلے دن بن علی کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ ایک بار پھر وزیر دفاع کو فون کرتے ہیں۔ غریرہ اب تسلیم کرتے ہیں کہ سڑکوں پر انتظامیہ کا کوئی کنٹرول نہیں

وہ بن علی کو کہتے ہیں کہ بغاوت کی بھی افواہ ہے۔ بن علی اسے انتہا پسندوں کا عمل کہہ کر رد کر دیتے ہیں اور دوبارہ واپسی کی بات کرتے ہیں۔ اب غریرہ اپنے باس پر ان الفاظ میں حالات کی نزاکت واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں
”سڑکوں پر ایسا غصہ ہے، جو میں نے آج تک نہیں دیکھا۔“

وہ کہتے ہیں کہ ”ایسا نہ ہو کہ پھر آپ کہیں کہ میں نے آپ کو گمراہ کیا، اس لیے فیصلہ آپ کا اپنا ہے۔“

بن علی اپنا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ”میں نے کیا کیا ہے؟ میں نے عوام کی خدمت کی ہے۔“

غریرہ جواب دیتے ہیں کہ ”میں صرف صورتحال بتا رہا ہوں، وضاحت نہیں کر رہا۔“

ادہر چند ہی گھنٹوں میں تیونس میں ایک نئی حکومت بن گئی، جس میں زیادہ تر وزرا وہی تھے۔ ان میں وزیر دفاع غریرہ بھی شامل تھے۔ بن علی تیونس واپس نہیں لوٹ سکے اور سنہ 2019ع میں جلاوطنی میں ہی سعودی عرب کے شہر جدہ میں ان کا انتقال ہو گیا

ان ٹیپس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ایسا آمر جس نے تیئیس سال تک جابرانہ حکومت کی کس طرح اپنے اقتدار کے آخری لمحات میں اپنے وزرا کی ہدایات کا محتاج ہو چکا تھا

واضح رہے کہ 2011 میں سعودی عرب میں جلا وطنی کے دوران ہی بن علی کے خلاف تیونس میں ان کی غیر موجودگی میں ایک مقدمے میں انہیں مظاہرین کی موت پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی

بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رابطہ کرنے پر وزیر دفاع ردھا غریرہ اور آرمی چیف راشد عمار نے فون ریکارڈنگز پر بات کرنے سے انکار کر دیا

بن علی کے دوست اور قریبی ساتھی کمال الطائف اور طارق بن عمار نے اس بات سے انکار کیا کہ ان کی صدر سے بات ہوئی تھی۔ بن عمار نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے صدر بن علی کے اقتدار پر انہیں کوئی تسلی نہیں دی تھی

بی بی سی رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک سال ان ریکارڈنگز کی تصدیق اور تحقیق پر صَرف کیا گیا۔ ان ٹیپس کا برطانیہ اور امریکا کے آڈیو فارنزک ماہرین نے تجزیہ کیا، جس کے دوران اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کہیں یہ ٹیپس جعل سازی سے تو نہیں بنائی گئیں، لیکن بی بی سی کا، دعویٰ ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں مل سکا جس سے ان ٹیپس پر جعلی ہونے کا گمان ہو

بی بی سی کا، کہنا ہے کہ ان ٹیپس اور ان میں موجود افراد کی تصدیق کے لیے کچھ حصے ایسے لوگوں کو بھی سنوائے جو کم از کم ٹیپ میں سنائی دینے والے ایک فرد کو جانتے تھے۔ ان میں بن علی کی انتظامیہ کے تین سکیورٹی حکام، ان کی سیاسی جماعت کے رہنما سمیت بن علی کی آواز کی نقالی کرنے والا ایک شخص بھی شامل تھا

ان تمام افراد، جن سے بی بی سی نے رابطہ کیا، میں سے کسی نے بھی ٹیپس کے اصلی ہونے پر سوالیہ نشان نہیں لگایا۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع غریرہ اور آرمی چیف عمار کے پرانے بیانات بھی موجود ہیں جن میں ان کی جانب سے اقرار کیا گیا کہ ان کی صدر سے اس وقت بات ہوئی تھی جب وہ جہاز میں موجود تھے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close