مچھلی آنکھ جھپکتی ہے؟ مرغی اڑتی کیوں نہیں؟ ان دلچسپ سوالات پر سائنس کیا کہتی ہے؟

ویب ڈیسک

کراچی – کچھ سوالات بہت دلچسپ ہوتے ہیں، ہم اپنے طور پر تو کوئی مفروضہ گھڑ کر جواب ڈھونڈ لیتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ جواب درست بھی ہو. مثال کے طور پر اگر ہم آپ سے پوچھیں کہ کیا مچھلی آنکھ جھپکتی ہے؟ جب ایک بلی موٹی ہوتی ہے، تو کیا اس کی مونچھیں بھی لمبی ہو جاتی ہیں؟ پر ہونے کے باوجود مرغی آخر اڑ کیوں نہیں سکتی؟ کیا چمگادڑیں بلند آواز نکالتی ہیں؟ یا ایسے ہی کچھ اور سوال، تو آپ یقیناً سوچ میں پڑ جائیں گے، ذیل میں ہم سنگت میگ کے قارئین کے لیے ایسے ہی کچھ دلچسپ سوالات کی سائنسی توجیہہ پیش کر رہے ہیں

کیا مچھلی آنکھ جھپکتی ہے؟

نہیں۔ سانپوں کی طرح ان کی بھی حرکت کرنے والی پلکیں نہیں ہوتیں۔ بلکہ اس کے بجائے ان کی آنکھوں پر ایک دکھائی نہ دینے والا خول ہوتا ہے۔ مچھلیوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے اور وہ ایسی چیزیں بھی دیکھ سکتی ہیں، جنہیں ہم دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ وہ کسی بھی مخلوق کی پہچان، ساتھی منتخب کرنے اور اپنے علاقے کے دفاع کے لیے بصری اشاروں پر انحصار کرتی ہیں

کیا کتوں کے سونگھنے کی صلاحیت انسانوں سے بہتر ہے؟

یہ سوچا جاتا ہے کہ کتوں کی مخصوص خوشبو کو سونگھنے کی صلاحیت انسانوں سے لاکھوں گنا بہتر ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں

ایک کتے کی ناک ہماری ناک کے مقابلے میں چار گنا بڑی ہوتی ہے۔ ایک انسان کی ناک میں جب پچاس لاکھ ایتھموڈیل (اولفیکٹری) سیلز ہوتے ہیں تو کچھ کتوں کی ناک میں ان کی تعداد بیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے

ایک کتے کی ناک خوشبو کو سونگھنے کے لیے بنی ہے۔ یہ بڑی اور گیلی ہوتی ہے، جو کہ خوشبو کے زرات کو جمع کرنے اور تحلیل کرنے کا کام کرتی ہے

جب ایک کتے کو کوئی خوشبو ملتی ہے، تو اس کی رال بہنے لگتی ہے۔ یہ گیلی زبان خوشبو کے مزید زرات کو اکٹھا کرنے اور تحلیل کرنے کا کام کرتی ہے

مرغیاں آخر اڑ کیوں نہیں سکتیں؟

گو کہ مرغیاں اپنے اڑنے کی صلاحیت کو زیادہ حد تک کھو چکی ہیں، لیکن ان میں ابھی بھی ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو کہ دوسرے پرندوں میں موجود ہوتی ہیں اور وہ کم فاصلے تک اڑ سکتی ہیں

ان کے پھیپھڑوں کے گرد ہوا دانی موجود ہوتی ہے، جو سانس لینے میں مدد فراہم کرتی ہے، جب کہ ان کی ہڈیوں میں بھی ایئر کیویٹرز موجود ہوتی ہیں، جو اڑنے کے لیے ان کے وزن کو کم کرتی ہیں

دراصل مرغیوں کو گھریلو طور پر پالے جانا اور سالوں تک منتخب نسل پروری ان کی اڑنے کی صلاحیت کے ختم ہونے کی ذمہ دار ہے

آثار قدیمہ سے ملنے والے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے علاقوں میں موجود انسانی آبادیوں میں 320 قبل مسیح تک سے مرغیوں کو گھریلو طور پر ہزاروں سال تک پالا جاتا رہا ہے

ان کو ان کے گوشت کے معیار، ان کے سینے پر موجود سفید گوشت اور شاید اڑنے کی بری صلاحیت کی وجہ سے منتخب کیا جاتا تھا۔ صدیوں تک کیا جانے والا یہ غیر فطری انتخاب موجودہ مرغی کی صورت میں سامنے آیا ہے، جو کہ اڑنے کے معاملے میں بہت بری ہیں

جب ایک بلی موٹی ہوتی ہے تو کیا اس کی مونچھیں بھی لمبی ہو جاتی ہیں؟

نہیں۔ بلی کی مونچھوں کی لمبائی اس کے جینز پر منحصر ہے۔ اگر ایک بلی موٹی ہوتی ہے تو اس کی مونچھیں اس کے حجم کے گائیڈ کے طور پر چھوٹی ہو جاتی ہیں۔ اگر کسی بلی کی مونچھیں اسے یہ بتا رہی ہوں کہ وہ ایک تنگ جگہ سے گزر سکتی ہے تو ہو سکتا ہے وہ وہاں پھنس جائے

کیا چمگادڑیں بلند آواز نکالتی ہیں؟

چمگادڑیں آواز نکالتی ہیں، لیکن ہمارے کان ان کو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چمگادڑیں بہت بلند آواز نکالتی ہیں جس کو الٹراساؤنڈ کہا جاتا ہے۔ ڈولفنز اور وہیلز کی طرح چمگادڑیں اپنے شکار کی تلاش اور اپنی موجودہ جگہ اور جس جگہ وہ جانا چاہتی ہوں، کے لیے آواز کا استعمال کرتی ہیں۔ یہ طریقہ ایکو لوکیشن کہلاتا ہے۔ چمگادڑیں جو آواز پیدا کرتی ہیں وہ عمارتوں، درختوں، جانوروں اور دیگر اشیا سے بالکل ایک گونج کی طرح ٹکراتی ہے، جس کو سن کر چمگادڑیں یہ فیصلہ کرتی ہیں کوئی چیز کتنی دور ہے اور اس کی نوعیت کیا ہے

اس کا مطلب ہے چمگادڑیں اپنی آواز سن سکتی ہیں، لیکن ہم نہیں

کیا زرافے کی شریانوں میں ایسے وال موجود ہوتے ہیں جو ان کی گردن میں گردش کرنے والے خون کو ان کے دل میں واپس آنے سے روکتے ہیں؟

نہیں۔ لیکن ایسا کسی بھی جانور کے ساتھ نہیں ہوتا۔ زرافے ممالیہ جانور ہیں، بالکل انسانوں کی طرح.. جسمانی ساخت اور اندرونی اعضا کے معاملے میں تقریباً سب کچھ ہی ایک جیسا ہے (لیکن حجم الگ ہو سکتا ہے)۔ سرکولیشن کا یہ نظام پمپ (دل) پر مبنی ہے جو شریانوں میں خون کو رواں رکھتا ہے۔ یہ شریانیں خون کی باریک رگوں سے بڑی رگوں کے ذریعے جڑی ہوتی ہیں۔ شریانوں میں وال نہیں ہوتے لیکن رگوں میں ہوتے ہیں

جب خون دل سے نکلتا ہے تو یہ بہت زیادہ پریشر کے ساتھ چلتا ہے، تو اسے ایک سمت میں سفر کو یقینی بنانے کے لیے اسے وال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رگوں میں یہ پریشر کم ہوتا ہے۔ دل کی جانب خون کے واپس آنے کو روکنے کے لیے والز کا ایک سلسلہ موجود ہوتا ہے جو اس بہاؤ کو روکتا ہے

گریٹ وائٹ شارک کے کتنے دانت ہوتے ہیں؟

شارک کے سامنے والے دانتے ان کے پیچھے بڑے ہونے والے دانتوں سے مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایک بالغ گریٹ وائٹ شارک کے سامنے کی صف میں اوسطاً تین سے چوبیس دانت ہوتے ہیں

ہر دانت کی جگہ لینے کے لیے ایک دوسرا دانت موجود ہوتا ہے، اس لیے ایک شارک کے منہ میں ساٹھ سے اڑسٹھ دانت ہوتے ہیں، جن میں سے صرف نصف ہی استعمال میں ہوتے ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close