لندن: الطاف حسین کے خلاف مقدمے کا فیصلہ اگلے ہفتے متوقع

ویب ڈیسک

لندن – متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کے خلاف گذشتہ دو ہفتوں سے لندن کی عدالت میں زیر سماعت دہشت گردی پر اکسانے کے مقدمے میں دلائل جمعے کے روز مکمل ہوگئے اور اس کا فیصلہ اگلے ہفتے سنائے جانے کا امکان ہے

لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ کی جیوری یہ فیصلہ سنائے گی کہ آیا ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو دہشت گردی کے الزام میں مجرم قرار دیا جائے یا بری کردیا جائے

واضح رہے کہ الطاف حسین پر عائد کی جانے والی فرد جرم کو دو علیحدہ حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، لیکن دونوں کا تعلق ’دہشت گردی پر اکسانے‘ سے متعلق جرائم سے تھا، جو مقدمے کی بنیاد تھے

جسٹس مے کی طرف سے ججوں کو دی گئی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ فردِ جرم کے دونوں حصے میں فیصلے ایک جیسے ہو سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے

اگرچہ ابتدائی طور پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ الطاف حسین فردِ جرم کو تقسیم کرنے کے خلاف موقف اختیار کریں گے، لیکن ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے

الطاف حسین کے وکیل نے جمعرات کو عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے موکل جیوری کے سامنے گواہی نہیں دینا چاہتے

جسٹس مے نے کہا کہ الطاف حسین کا فیصلہ ان کا حق ہے اور جیوری اس نتیجے پر پہنچ سکتی ہے کہ انہوں نے مقدمے کی سماعت کے دوران اپنی تقاریر میں تضاد سے متعلق شواہد نہیں دیے

انہوں نے کہا: ’آپ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ الطاف حسین کے پاس استغاثہ کے کیس کا کوئی جواب نہیں تھا لیکن آپ انہیں خاموش رہنے پر مجرم قرار نہیں دے سکتے کیوں کہ استغاثہ کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لیے جرم ثابت کرنا ہوگا۔‘

استغاثہ نے موقع غنیمت جان کر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ الطاف حسین نے اپنی بے گناہی کا ’جواب نہیں دیا، معافی نہیں مانگی اور وضاحت نہیں کی‘ اور نہ ہی واضح سوالات کے جوابات دیے

اس کی ایک وجہ ہے: ’ان (الطاف حسین) کے پاس کوئی جواب نہیں ہے یا کم از کم ایک ایسا جواب نہیں ہے جسے وہ دے سکیں، لیکن انہیں جواز تو پیش کرنا پڑے گا‘

تاہم وکیل دفاع نے کہا کہ حسین کے پاس مزید اضافہ کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے

وکیل دفاع نے کہا کہ تقاریر کے بعد الطاف حسین کی ٹوئٹر پر معافی سے جو کچھ ہوا اس پر ان کا افسوس ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ہر طرح کی وجوہات کی بنا پر معافی مانگتے ہیں لیکن اسے غلطی کا اعتراف نہ سمجھا جائے

جسٹس مے کی طرف سے جیوری کو دی گئی ہدایات کے مطابق الطاف حسین کو مجرم قرار دینے کے لیے جیوری کو اس بات کا اطمینان کرنا ہوگا کہ انہوں نے ایک تقریر شائع کی تھی اور ان کے بیانات کو سننے والا معقول شخص یہ سمجھے گا کہ دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور الطاف حسین نے یا تو اس بات کا ارادہ کیا تھا یا پھر وہ لاپرواہ تھے کہ ان کی نشر کی جانے والی تقاریر کو سننے کے بعد عوام کو تشدد کی کارروائیوں کی ترغیب ملے گی

جج نے کہا کہ استغاثہ کو یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہوئیں، حالانکہ یہ ان کا مدعا ہے

ججوں کو بتایا گیا کہ انہیں نیت اور لاپرواہی کے معنی کا تعین کرنا ہے۔ ایک جج نے کہا کہ ’الطاف حسین لاپرواہ تھے، اگرچہ وہ تشدد کے خطرے سے واقف تھے لیکن غیر معقول طور پر اسی پر ڈٹے رہے۔‘

دہشت گردی کے عمل پر غور کرتے ہوئے جج نے کہا کہ جیوری کو کارروائیوں کی قسم، اس کی اشکال اور مقاصد پر غور کرنا چاہیے

مجرم قرار دینے کے لیے جیوری کو اس بات پر قائل ہونا چاہیے کہ قطع نظر اس کے کہ وجہ جائز تھی، کیا یہ عمل مذہبی، سیاسی، نظریاتی یا نسلی مقصد کو آگے بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا؟

ججوں کے سامنے اپنے حتمی بیان میں، استغاثہ نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ کا لفظ اگرچہ عام آدمی کے لیے اخلاقیات پر بحث کے لیے ہو سکتا ہے، لیکن اس عدالت کو انگریزی قانون کے ذریعے پارلیمنٹ کے طے کردہ ’یارڈ سٹک‘ کے خلاف دیکھا جانا چاہیے

استغاثہ نے اس بات پر زور دیا کہ الطاف حسین نے اپنے پیروکاروں سے جو کچھ کہا اور جس کا حکم دیا وہ دہشت گردی کی کارروائیاں تھیں، جو حکومت پر اثر انداز ہونے کے لیے سیاسی مقاصد کے لیے کی گئی تھیں

استغاثہ کے مطابق الطاف حسین نے تشدد کی حوصلہ افزائی کے لیے اس بہترین نقطے کا استعمال کیا اور یہ کہ ’پورا لہجہ، مواد اور طریقہ استعمال کیا گیا تھا تاکہ ہجوم کو کچھ کرنے پر اکسایا جا سکے۔‘

انہوں نے جرح کے دوران کہا کہ اس سب کا مقصد ہجوم کو ٹی وی سٹیشنز پر ’توڑ پھوڑ‘ کے لیے ایک زبردست قوت کے ساتھ تعینات کرنا تھا اور اس میں موت اور زخموں پر بھی غور کیا گیا

”وہ اپنے پیروکاروں کی عقیدت اور وفاداری کو جانتے تھے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے انہیں کسی الاسٹک سے پکڑ کر کھینچا جائے اور دور پھینک دیا جائے اور بعد میں وہ واپس اپنی جگہ آجائیں“

دفاع نے اپنے کیس کو مختلف یارڈ سٹکس کی بنیاد پر پیش کیا، جس کے ذریعے جیوری کو شواہد کا جائزہ لینا چاہیے۔ دفاعی وکیل نے ’انگلینڈ اور ویلز اور پاکستان میں حقائق کے درمیان فرق‘ پر زور دیا

قبل ازیں پراسیکیوشن نے جیوری کے سامنے دلائل میں کہا تھا کہ الطاف حسین نے برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان میں اپنے کارکنوں کو ایسی کارروائیوں پر اکسایا، جو انگلش قانون کے تحت دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں

استغاثہ کے وکیل نے جمعرات کو جیوری سے کہا تھا کہ ملزم کے خلاف الزامات کو انگلش قانون کے معیار پر پرکھا جائے اور فیصلہ کرتے وقت کراچی اور برطانیہ میں ثقافتی فرق پر دھیان نہ دیا جائے۔

ملزم الطاف حسین کے وکیل نے جمعہ کے روز اپنے دلائل کے آغاز پر جیوری سے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف الزامات کو پاکستانی معیار پر پرکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ دو مختلف ملک ہیں جہاں کے حالات، ثقافت، سیاست اور ریاستی عناصر کے رویے مختلف ہیں۔

وکیل دفاع نے کہا کہ الطاف حسین کی 22 اگست 2016 کی تقاریر ان کی ‘مایوسی اور جذباتی پن‘ کی عکاسی کرتی ہیں اور وہ لوگوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے گھروں سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے

وکیل دفاع نے کہا کہ جب ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے ان کے موکل کی تقاریر کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی تو انہوں نے ”پُر امن” طریقے سے اس پابندی کو ختم کرانے کی کوشش کی

وکیل دفاع نے کہا ”الطاف حسین کی جانب سے لاکھوں لوگوں کو اکٹھا کرنے کی باتیں پرجوش خطابت کے ایک انداز سے زیادہ کچھ نہیں“

وکیل صفائی نے کہا کہ جس تقریر کے کچھ حصوں کی یہ تشریح کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے الطاف حسین نے اپنے ورکروں کو دہشتگردی کی کارروائیوں کی ہدایت کی، اسی تقریر میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’ہماری مائیں، بہنیں، بزرگ گھروں سے کیوں نہیں نکل رہے ہیں۔‘

وکیل دفاع نے کہا کہ ان کے موکل نے اسی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ مطالبات نہیں منوائے جا سکتے اور وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں

وکیل دفاع نے جیوری کو بتایا کہ ان کے موکل اپنی تقاریر سے پاکستان کی وفاقی حکومت، مقامی حکومت اور پاکستان رینجرز کو ‘متاثر’ کرنے کی کوشش کر رہے تھے

وکیل دفاع نے کہا کہ ”را کی مدد“ ، ”صحافیوں کا خاموشی سے ‘کام’ کرنے“ جیسی باتیں ایک مایوسی کے شکار شخص کی بے ربط باتیں ہیں

وکیل دفاع نے کہا کہ جب ان کے موکل کی تقریر کے بعد تشدد پھوٹ پڑا تو انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا

وکیل دفاع نے یہ کہتے ہوئے اپنے دلائل مکمل کیے کہ ’میرا موکل دہشتگرد نہیں ہے‘

دلائل مکمل ہونے پر جیوری نے فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔ پیر کے روز جیوری ایک بار پھر فیصلے پر غور شروع کرے گی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close