فری لانسرز ٹیکس کی شرح صفر ہونے اور ای-پورٹل سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ویب ڈیسک

اسلام آباد – وزیر اعظم عمران خان نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں فری لانسرز کے لیے ٹیکس کی شرح صفر کرنے کا اعلان کیا ہے

قومی ای تجارت پورٹل سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے نوجوانوں کو حکومت کی جانب سے تمام تر سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی کے انقلاب کا موقع ضائع نہ کریں

انہوں نے کہا کہ اس سے نوجوان نہ صرف اپنے لیے ریوینیو بنا سکتے ہیں، بلکہ ملک میں تجارتی خلا ختم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں

وزیر اعظم نے کہا ’یہ ٹیکنالوجی کا انقلاب ہے، جوانوں کے پاس اسے ضائع کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے، ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند سالوں میں ملک کی آئی ٹی کی برآمدات پچاس ارب ڈالر تک بڑھ جائے گی

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی صنعت سے بیس سال کے نوجوانوں کو ارب پتی بننے کا موقع ملتا ہے اور وہ تجربہ کاروں کے اپنے ماتحت کر سکتے ہیں

ای فری لانسر رجسٹریشن کے لیے زیرو ٹیکس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکی کاروباری منتظم بل گیٹس نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے کیونکہ وہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں شامل ہونا چاہتے ہیں

باقاعدہ طور پر پورٹل کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کا نظام عام شہری کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے

ای پورٹل کیا ہے؟

نیشنل ای کامرس کونسل کے ممبر اور پاکستان سافٹ وئیر ہاوسز ایسوسی ایشن کے چئیرمین بدر خوشنود کا کہنا تھا کہ ای-تجارت پورٹل دراصل پاکستان میں ای-کامرس سے منسلک افراد کے لیے ایک ایسی ویب سائٹ ہے، جہاں پر ون ونڈو آپریشن کے ذریعے ان کی مدد کی جائے گی

ان کا کہنا تھا کہ اس پورٹل کا مقصد ملک میں ای-کامرس کے فروغ میں مدد دینا ہے۔ اس پر ہر طرح کی تفصیلات اور ڈیٹا فراہم کیا جائے گا

’اگر آپ فری لانسر ہیں یا ای کامرس سے منسلک ہیں اور آپ کو اپنی کمپنی یا کاروبار کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات درکار ہیں تو آپ اس ویب سائٹ پر جا کر حاصل کر سکیں گے اسی طرح اگر آپ کی حکومتی محکموں جیسے اسٹیٹ بینک یا ایس ای سی پی کے کام کے حوالے سے شکایات ہیں، تو بھی آپ اسی پورٹل سے رجوع کر کے شکایت درج کر سکتے ہیں۔‘

ای-کامرس کیا ہے؟

بدر خوشنود کے مطابق ای-کامرس کے کئی ماڈلز ہیں، لیکن بنیادی طور پر ٹیکنالوجی کی مدد سے کی جانے والے تجارت کو ای-کامرس کہا جاتا ہے

ملک میں دراز، او ایل ایکس یا فوڈ پانڈا جیسی ویب سائٹس پر اشیا کی خرید و فروخت ای-کامرس کی ایک شکل ہے جسے آن لائن مارکیٹ پلیس کی تجارت کہتے ہیں

اسی طرح فیسبک یا انسٹا گرام کے ذریعے اگر پاکستانی اشیا فروخت کی جائیں گی، تو وہ سوشل کامرس کہلائے گی

بدر خوشنود نے مزید بتایا کہ ایمیزون یا علی بابا جیسی ویب سائٹس کے ذریعے بیرون ملک تجارت کرنا ای-کامرس کی کٹیگری میں ہی آتا ہے، لیکن اسے بزنس ٹو بزنس ٹو کنزیومر تجارت یعنی (بی ٹو بی ٹو سی) کہیں گے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ای-کامرس عون عباس بپی کے مطابق پاکستان میں اکتوبر 2019ع میں ای-کامرس پالیسی بنائی گئی، جس کے تحت ای کامرس کو رجسٹرڈ تجارت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ سال چار ارب ڈالر کی ای-کامرس ہوئی ہے، جبکہ دنیا بھر میں تیس کھرب ڈالر کی ای کامرس ہوئی

فری لانسر کون  ہیں اور ان کو ای-پورٹل سے کیا فائدہ ہو گا؟

نیشنل ای کامرس کونسل کے ممبر بدر خوشنود کے مطابق فری لانسر ہر وہ شخص ہے، جو بیرون ملک خدمات سرانجام دیتا ہے اور وہ کل وقتی ملازم نہیں ہے، وہ فری لانسر کی تعریف میں آتا ہے

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ای کامرس عون عباس کا کہنا ہے کہ ای-پورٹل کے ذریعے فری لانسرز کو بھی سہولت مہیا کی جائے گی

انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے فری لانسزر کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور سال 2020ع میں فری لانسر کے لیے ماہانہ رقم منگوانے کی حد پانچ ہزار ڈالر تک تھی، جسے اس حکومت نے بڑھا کر پچیس ہزار ڈالر ماہانہ کر دیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کی وجہ سے بیرون ملک سے اس شعبے میں زرمبادلہ کی آمدن 214 ملین ڈالر سے بڑھ کر 396 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے تحت ای۔کامرس کے شعبہ میں جدت آ رہی ہے، اس کے ذریعے برآمدات کو آسان بنایا گیا ہے

ایک سوال پر بدرخوشنود نے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً دس لاکھ کے قریب فری لانسرز ہیں، مگر وہ کہیں رجسٹرڈ نہیں تاہم وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ان کی رجسٹریشن کا عمل حال ہی میں شروع کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ بجٹ میں ان پر ایک فیصد کا فکسڈ ٹیکس لگایا تھا، جسے اب وزیراعظم نے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ خوش آئند ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close