ایک تھا ’’سگریٹ‘‘….!

عطاء الحق قاسمی

گزشتہ کئی برسوں سے میں خاصا ہرجائی ہو گیا ہوں۔ یہ بات خود میں نے بھی محسوس کی ہے اور میرے دوست بھی یہ بات میرے نوٹس میں لائے ہیں۔ اس ہرجائی پن کی ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ میں اپنا برانڈ مستقل تبدیل کرنے میں لگا ہوا ہوں اور ظاہر ہے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں کیونکہ جس سگریٹ کو میں ہاتھ لگاتا ہوں وہ یا تو مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے یا مہنگا ہو جاتا ہے۔ دو چار دن تک میں وفاداری بشرط استواری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ سگریٹ ہر قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اپنی اس قربانی پر خوش بھی ہوتا ہوں جو میں نے اپنے محبوب(برانڈ) کی خاطر دی مگر پھر کچھ عرصے بعد ہمت جواب دے جاتی ہے اور میں کسی مناسب برانڈ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہوں لیکن ہوتا یوں ہے کہ جونہی میں کسی نئے برانڈ پر دستِ شفقت رکھتا ہوں کچھ عرصے بعد وہ بھی مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے اور یوں مجبوراً کسی نئے سگریٹ سے تعلقات استوار کرنا پڑتے ہیں۔

میرے دوست مجھے یوں برانڈ تبدیل کرتا دیکھتے ہیں تو وہ ہمیشہ پریشان ہوتے ہیں، انہوں نے کئی بار سمجھایا کہ کسی ایک برانڈ پر قناعت کرو۔ روز روز برانڈ تبدیل کرنے سے گلا خراب ہو جاتا ہے لیکن مقدر میں کھجل ہونا ہی لکھا ہو تو کیا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ میں ان کے مشوروں کی روشنی میں کسی ایک سگریٹ کے ساتھ ’’روابط‘‘ بڑھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر نتیجہ پھر وہی ڈھاک کے تین پات نکلتا ہے۔ یعنی وہ سگریٹ بازار سے غائب ہو جاتے ہیں۔

تاہم گزشتہ پانچ چھ برس کے مسلسل تجربے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دوستوں کا پُرخلوص مشورہ اپنی جگہ لیکن برانڈ تبدیل کرنے کے سلسلے میں ان کے بتائے ہوئے نقصانات کا اندازہ مبنی برصداقت نہیں ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اس طویل عرصہ میں متعدد برانڈ تبدیل کرنے کے باوجود گلا بالکل درست حالت میں ہے اور کبھی اگرگلے میں تھوڑی بہت خراش محسوس بھی ہوتی ہے تو مجھے کون سا کسی مہدی حسن کو کمپیٹ کرنا ہے کہ اس ذرا سی خراش سے گھبرا کر کوچۂ رقیب میں سر کے بل جائوں، یوں بھی لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔ یعنی برانڈ اگر ڈاج دے تو اس کا حل یہی ہے کہ اس کے پیچھے کھجل ہونے کی بجائے اس کا نعم البدل تلاش کر لیا جائے کہ اس تلاش کے دوران بسا اوقات زیادہ بہتر چیز ہاتھ آ جاتی ہے اندھے کے ہاتھ بٹیرا بھی تو اسی طرح آیا تھا۔

اور اب اگرآپ سچی بات پوچھیں تو اپنے محبوب برانڈ کی خاطر قربانیاں دینے کی بجائے ذرا سی پریشانی کی صورت میں کوئی نیا برانڈ تلاش کرنے کی منطق ہمارے بعض سیاسی دوستوں نے مجھے سمجھائی ہے وہ مجھے مسلسل یہ سمجھانے میں لگے رہے ہیں کہ وفا داریاں صورتحال کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ اس دنیا میں زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے مفادات کو تمام اصول و ضوابط اور قدروں پر ترجیح دے۔ ان سیاسی دوستوں کا کہنا ہے کہ تم کسی ایک برانڈ کی خاطر ذلیل و خوار ہوتے رہو گے اور ’’برانڈ‘‘ ہو کر رہ جائو گے اس کے برعکس تمہارا پسندیدہ برانڈ جب چاہے گا تم سے منہ پھیرلے گا اور اور اس کے نتیجے میں تم:

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی

گنگناتے پھرو گے۔ مجھے ان دوستوں نے اپنی بات ماضی اور حال کے متعدد حوالوں سے بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے اور مثالیں دے کر بتایا کہ جن لوگوں نے بوقتِ ضرورت برانڈ تبدیل کرلیا وہ نہ صرف یہ کہ فائدے میں رہے بلکہ ان پر ہرجائی کا لیبل بھی نہیں لگا اور جنہوں نے پرانے برانڈ کے ساتھ چپکنے کی کوشش کی انہوں نے شدید تکلیفیں اٹھائیں۔

اپنے دوستوں کی یہ بات میرے دل کو لگی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میر تقی میر میرے گوڈے گٹوں میں بیٹھ چکے ہیں اور جب کبھی برانڈ تبدیل کرنے کی نوبت آتی ہے وہ میرے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں:

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو

آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا

ان لمحات میں میں گھبرا کر اپنے ان سیاسی دوستوں کی طرف دیکھتا ہوں وہ جواباً آئینے میں اپنا ست رنگا چہرہ دیکھتے ہیں اور ایک آنکھ میچ کر مسکرانے لگتے ہیں۔

آخر میں میرے پسندیدہ شاعر قمر رضا شہزاد کی دو غزلیں:

کوئی شہہ زماں کوئی عالی حضور ہو

کہہ دو اسے کہ وہ مرے حجرے سے دور ہو

اے دوست سیر کون و مکاں بعد کی ہے بات

پہلے یہ دشت ذات تو مجھ سے عبور ہو

یہ خاک جس سے پھوٹ رہا ہے کوئی شجر

شاید یہیں کہیں سے مرا بھی ظہور ہو

جب اپنے آپ پر بھی نہیں میرا اختیار

میں سوچتا ہوں کون سی شے پر غرور ہو

ممکن ہے آئینہ تو سلامت رہے مگر

پتھر پڑیں تو عکس مرا چور چور ہو

لے جارہا ہوں ساتھ میں اپنی گزارشات

ممکن ہے راستے میں کہیں کوہ طور ہو

۔۔۔۔۔

نجانے آگ تھی کیا جس سے ہم بھرے ہوئے تھے

خود اپنے سامنے آنے سے بھی ڈرے ہوئے تھے

ہماری خامشی سے صاف علم ہو رہا تھا

ہمارے سانس تو چلتے تھے ہم مرے ہوئے تھے

بتا رہا تھا پرندوں کا اس طرف آنا

یہ پیڑ یونہی نہیں ان دنوں ہرے ہوئے تھے

نجانے کون سا لمحہ قبولیت کا ہو

ہم اک دعا کی طرح ہونٹ پر دھرے ہوئے تھے

ہمارا شہر سے جانے کا وقت ہو رہا تھا

اور آنسوؤں سے کٹورے سبھی بھرے ہوئے تھے..

بشکریہ روزنامہ جنگ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close