والد کا نواز شریف سے رابطہ تھا، لندن میں ملاقات بھی کی، رانا شمیم کے بیٹے کا بیان

نیوز ڈیسک

کراچی : نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے بیٹے اور وکیل ایڈووکیٹ احمد حسن رانا نے کہا ہے کہ والد لندن گئے تھے اور نواز شریف سے ان کی ملاقات ہوئی تھی

واضح رہے کہ رانا محمد شمیم نے سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار پر نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کرپشن ریفرنسز میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

احمد حسن رانا نے انکشاف کیا کہ ان کے والد کے ایک مسلم لیگ ن کے عہدیدار اور وکیل کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کی جماعت کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں

احمد حسن رانا، جو سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ ان کے والد نواز شریف کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہیں، بلکہ انہوں نے کورونا وبا کے پھیلاؤ سے قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد سے ملاقات بھی کی تھی

براہ راست پروگرام کے دوران احمد حسن رانا، جسٹس شمیم کو ایک کال پر لائیو لیتے ہوئے نظر آئے تاکہ ان سے نواز شریف سے ملاقات کے بارے میں پوچھا جا سکے، لیکن پھر بتایا کہ ان کے والد نے جواب میں ’نو کمنٹس‘ کہا ہے

احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ والد صاحب مجھے جتنا بتائیں گے، میں اتنا آگے بیان کردوں گا، والد صاحب ابھی آرام کررہے ہیں ان سے بات نہیں ہوئی

سابق چیف جج رانا شمیم کے فرزند اور وکیل ایڈووکیٹ احمد حسن رانا نے کہا کہ عدالت نے اپنی آبزرویشن دی ہے ابھی آرڈر پاس نہیں کیا، رانا شمیم ابھی بھی اپنے بیان اور حلف نامہ کے ساتھ کھڑے ہیں، رانا محمد شمیم نے لندن جاکر یہ بیان کیوں دیا یہ سوال انہی سے کیا جانا چاہئے، انہوں نے مجھے اس حوالے سے کوئی بات کرنے کے لئے اتھارائز نہیں کیا

انہوں نے کہا کہ والد صاحب نے مجھے یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ میں حلف نامہ پیش کرنے جارہا ہوں، والد صاحب کووڈ سے پہلے لندن گئے تھے، وہاں ان کی نواز شریف سے ملاقات ہوئی تھی

احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ والد صاحب کا نواز شریف سے براہ راست رابطہ رہا ہے، رانا شمیم صاحب نواز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں جبکہ میمو گیٹ اسکینڈل میں بھی وکیل تھے، جبکہ والد صاحب نون لیگ سندھ ونگ کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں

احمد حسن رانا نے کہا کہ میرے والد پراسیکیوٹر جنرل سندھ میرٹ پر بنے تھے، میں نے کراچی میں ہی پریکٹس کی ہے، سندھ میں کسی پنجابی کا آنا بہت مشکل ہوتا ہے، میں پیدا لاہور میں ہوا، رہتا اسلام آباد میں ہوں اور دل میرا کراچی میں ہے

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی گرفتاری کے وقت میں اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تھا، میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جیل جاکر نواز شریف سے ملا تھا، نواز شریف کو جب میں نے جیل میں بتایا کہ میں رانا شمیم کا بیٹا ہوں تو وہ بہت خوشی سے ملے، والد صاحب کا بیان ثابت ہوگیا تو یہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف Criminal Offense بن جائے گا

احمد حسن رانا نے مزید کہا کہ میرے والد اپنی مرضی سے بات کرتے ہیں جتنی بات کرنی ہوتی ہے اس کے بعد مجھے گیٹ آؤٹ کہہ دیتے ہیں، میرے والد محترم ریٹائرڈ چیف جسٹس ہیں انہیں صرف آرڈر دینے کی عادت ہے، گلگت بلتستان کے چیف جسٹس اگر پاکستان کے چیف جسٹس کے بار ے میں کچھ کہنا چاہیں تو انہیں سوچنے سمجھنے کے لئے وقت چاہئے ہوتا ہے

احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ والد صاحب نے مجھے پیغام دیا ہے کہ حلف نامہ کسی صحافی کے حوالے نہیں کیا گیا تھا، ممکن ہے یہ نوٹری پبلک آفس سے لیک ہوا ہو، فیصل واوڈا کو قانونی نوٹس بھجوائیں گے

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا رانا شمیم 26 نومبر کو عدالت میں پیش ہوں گے؟ تو  احمد حسن رانا ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ.

دوسری جانب نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احمد حسن رانا نے بتایا کہ انہیں  معلوم نہیں تھا کہ لندن کے دورے کے دوران ان کے والد ثاقب نثار کے حوالے سے کوئی بیان دیں گے، انہوں نے اصلی بیانِ حلفی نہیں صرف اس کی تصویر دیکھی ہے

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اس بارے میں سب سے پہلے صحافی مطیع اللہ جان نے بتایا

جب ان سے پوچھا گیا کہ بیان حلفی کو لندن میں کیوں نوٹرائز کروایا گیا تو انہوں نے جواب دیا ’نو کمنٹس‘

احمد حسن رانا کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے حل کے لیے ’خصوصی‘ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) تشکیل دی جانی چاہیے، کیوں کہ اس میں پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور گلگت بلتستان کے چیف جج شامل ہیں

البتہ احمد حسن رانا نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ان کے والد نے اپنا بیانِ حلفی اعلیٰ قانونی ادارے کے پاس کیوں نہیں جمع کروایا

بیانِ حلفی کے لیے وقت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی تفصیل معلوم نہیں ہے اور اس بارے میں بحیثیت وکیل انہیں اپنے والد سے بات کرنی ہے

یاد رہے کہ 15 نومبر کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی صحافی انصار عباسی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے ایک مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہدایت دی تھی کہ سال 2018ع کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے۔

مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018ع میں چھٹیاں گزارنے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے بہت پریشان دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا

رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنے چاہیئں، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا

دستاویز کے مطابق اس موقع پر رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے

تاہم بعد ازاں ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو خود ساختہ کہانی قرار دیا تھا

ثاقب نثار نے کہا تھا کہ اس وقت رانا شمیم نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا، جبکہ ان کی ان دعووں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے

اعلیٰ عدلیہ کے حوالے سے الزامات منظرِ عام پر آنے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے رپورٹ لکھنے والے صحافی انصار عباسی، ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، دی نیوز کے ایڈیٹر عامر غوری اور رانا شمیم کو توہینِ عدالت آرڈیننس کے تحت نوٹس جاری کر کے 16 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا تھا

چنانچہ گزشتہ روز ہوئی سماعت میں رانا شمیم کے علاوہ مذکورہ بالا تینوں افراد پیش ہوئے تھے اور عدالت نے چاروں افراد کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کرکے 7 روز میں جواب داخل کرنے کا حکم دے رکھا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close