’یہ تو بہت ہی بے کار باؤلر ہے‘

قمر احمد

مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ جسے میں بے کار باؤلر کہہ رہا ہوں وہ ایک دن ٹیسٹ کرکٹ کا عظیم ترین اسپنر بن جائے گا۔

زندگی کی خوشیاں، اس کی بہاریں اور اس سے لطف اندوز ہونا ایک ناقابلِ یقین تجربہ ہے۔ اسی طرح موت نہ صرف یہ کہ برحق ہے بلکہ ایک بہت بڑا سانحہ بھی ہے۔

انسان کی زندگی کا خاتمہ کب اور کس صورت میں ہونا ہے یہ تو صرف اللہ کی ذات کو معلوم ہے۔ یہی دنیا کا معمول ہے اور ہر شخص کو ان حادثات و سانحات سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ حادثات ناقابلِ یقین اور دل شکستہ بھی ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں شائقینِ کرکٹ کو ایسے کئی لمحات سے گزرنا پڑا جنہیں غیر یقینی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ پہلے تو خبر یہ آئی کہ ویسٹ انڈیز کے معروف آف اسپن باؤلر سُونی راما دِھن 92 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ 1950ء میں انہوں نے ساتھی اسپن باؤلر الفریڈ ویلنٹائن کے ساتھ مل کر انگلینڈ کو اسی کی سرزمین پر پہلی مرتبہ لارڈز کے میدان میں شکست دی تھی۔ یہ ویسٹ انڈیز کرکٹ کا ایک تاریخی ٹیسٹ تھا۔

پھر چند دنوں بعد گزشتہ ہفتے یعنی 4 مارچ کو 2 عظیم آسٹریلوی کھلاڑیوں بلکہ یوں کہیے کہ دنیائے کرکٹ کے لیجنڈ کھلاڑیوں کے انتقال کی خبر موصول ہوئی۔ پہلے تو مشہور وکٹ کیپر روڈنی مارش اور چند گھنٹوں بعد کرکٹ کی دنیا کے عظیم لیگ اسپنر شین وارن کی موت نے ہم سب کو افسردہ کردیا۔

روڈنی مارش دل کا دورہ پڑنے اور پھر کچھ دن علیل رہنے کے بعد 74 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تاہم اس سے زیادہ دل دہلا دینے والی خبر شین وارن کی ناگہانی موت کی تھی۔ وہ چھٹیاں منانے تھائی لینڈ میں موجود تھے جہاں وہ اپنی رہائش گاہ میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی موت بھی دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ شین وارن کی عمر صرف 52 سال تھی۔ یہ افسوسناک خبریں اس موقع پر ملیں جب آسٹریلوی ٹیم 24 سال بعد پاکستان کا تاریخی دورہ کررہی تھی۔

میں چونکہ ان دونوں مثالی کھلاڑیوں سے ذاتی طور پر وابستہ تھا اس وجہ سے میرے دکھ کی انتہا نہ رہی اور میری آنکھیں اشکبار ہوگئیں۔ میں نے بطور صحافی پاکستان اور انگلینڈ کے خلاف ان دونوں کھلاڑیوں کا تقریباً تمام کیریئر کور کیا ہے اور کرکٹ کے حوالے سے ان دونوں کی صلاحیتوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

میں Caught Marsh bowled Lillee کو کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ ایک مایہ ناز وکٹ کیپر اور دوسرا عظیم فاسٹ باؤلر۔ میں نے روڈنی مارش، ڈینس للی، گریگ چیپل اور پاکستانی وکٹ کیپر وسیم باری کا آخری ٹیسٹ سڈنی میں 1983ء میں کور کیا تھا۔ وہ ایک تاریخی دن تھا۔

ہمیں مارش کی موت کا تو بہت افسوس ہوا ہی لیکن 18 گھنٹوں بعد شین وارن کی موت کی خبر نے ہمیں مزید غمزدہ کردیا۔ میں شین وارن کا پہلا ٹیسٹ میچ بھی کور کرچکا ہوں۔ 1992ء میں بھارتی ٹیم کے ساتھ میں آسٹریلیا کا دورہ کررہا تھا۔ اس سیریز کے دوران سڈنی ٹیسٹ میں شین وارن نے ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔

وہ میچ بھارت کے روی شاستری اور سچن ٹنڈولکر کے لیے تو یادگار رہا لیکن شین وارن کے لیے کسی بھی طور پر اچھا آغاز نہ تھا۔ اس میچ میں روی شاستری نے ڈبل سنچری بنائی اور ٹنڈولکر نے سنچری اسکور کی۔ جبکہ شین وارن نے 150 رنز دے کر صرف ایک وکٹ لی تھی۔

مجھے یہ ٹیسٹ یوں بھی یاد ہے کہ میں نے شین وارن کی باؤلنگ کی پٹائی دیکھ کر پریس باکس میں موجود آسٹریلوی صحافیوں سے کہا تھا کہ یہ تو بہت ہی بے کار باؤلر ہے۔ میری یہ بات سن کر آسٹریلوی صحافی خاموش ہوگئے۔

دراصل میں نے تو عبدالقادر جیسے باؤلر دیکھے ہوئے تھے جو شین وارن سے بہت بہتر لیگ اسپنر تھے۔ مجھے اس وقت معلوم نہیں تھا کہ جسے میں بے کار باؤلر کہہ رہا ہوں وہ ایک دن ٹیسٹ کرکٹ کا عظیم ترین اسپنر بن جائے گا اور آسٹریلیا کے ایشز سیریز جیتنے میں ایک اہم کردار بن جائے گا۔ شین وارن 2006ء میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہونے سے قبل ایک ریکارڈ ساز باؤلر بن چکے تھے، یعنی وہ آسٹریلیا کے لیے کھیلتے ہوئے 708 وکٹیں لے چکے تھے۔

میں نے کبھی ایسا لیگ اسپنر نہیں دیکھا جو گیند کو ان سے زیادہ اسپن کرسکے۔ میں نے ان کا وہ ٹیسٹ بھی دیکھا جب وہ پہلی بار ایشز ٹیسٹ انگلینڈ کی سرزمین پر 1993ء میں کھیلے تھے۔ اولڈ ٹریفورڈ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں شین وارن نے پہلی ہی گیند پر انگلینڈ کے بلے باز مائیک گٹنگ کو بولڈ کردیا تھا۔ اس گیند کو Ball of the century یا صدی کی بہترین گیند کہا جاتا ہے۔

شین وارن جب 95ء-1994ء میں پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے پاکستان کے مشہور لیگ اسپنر عبدالقادر سے ملنے کی خواہش کی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں قادر سے ملنا چاہتا ہوں تاکہ ان سے گوگلی کرنا سیکھ سکوں۔ میں نے عبدالقادر کو فون کرکے انہیں شین وارن کی خواہش کے بارے میں بتایا تو عبدالقادر نے مجھے کہا کہ قمر بھائی آپ اس کو میرے گھر لے آئیں۔

میں تو شین وارن کے ساتھ عبدالقادر کے گھر نہیں جاسکا لیکن آسٹریلیا کے صحافی ان کے ساتھ گئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ شین وارن عبدالقادر سے گوگلی سیکھنے میں اتنے محو ہوگئے تھے کہ ایک وقت تو وہ عبدالقادر کے ڈرائنگ روم میں بچھے قالین پر ایک کینو کے ساتھ باؤلنگ کرنے لگے۔ بہرحال شین وارن کبھی عبدالقادر کی طرح گوگلی نہ کروا سکے۔ ان کی اصل خوبی گیند کو بہت تیزی اسپن کرنے میں تھی۔

شین وارن کی کتاب ’نو اسپن‘ کی تقریب رونمائی 2008ء میں لندن میں ہوئی جس کے لیے مجھے بھی دعوت دی گئی تھی۔ اس موقع پر جب میری شین وارن سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے پہچانے؟ وہ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ میں نے انہیں یاد دلایا کہ میں وہی ہوں جنہوں نے ان کا رابطہ عبدالقادر سے کروایا تھا۔ یہ جان وہ شین وارن کافی خوش ہوئے۔

کتاب کی تقریب رونمائی کی تقریب میں لکھاری شین وارن کے ساتھ (لندن، 2008ء)

 

پاکستانی کپتان سلیم ملک اور شین وارن سے متعلق سب سے اہم واقعہ میچ فکسنگ اور اسپاٹ فکسنگ کا ہے۔ سلیم ملک اس سلسلے میں کافی بدنام ہوئے خاص طور پر اس وقت جب آسٹریلوی کھلاڑیوں مارک وا اور شین وارن نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی کھلاڑی سلیم ملک نے ان آسٹریلوی کھلاڑیوں کو کراچی ٹیسٹ میں 2 لاکھ ڈالر کی پیشکش کی تھی تاکہ آسٹریلوی باؤلر اچھی باؤلنگ نہ کریں اور پاکستان میچ جیت جائے۔

سٹے بازی کی یہ خبر اور الزامات منظرِ عام پر آئے تو آئی سی سی کی جانب سے سلیم ملک پر پابندی عائد کردی گئی جس سے بری ہونے کے بعد وہ پی سی بی کی جانب سے تاحیات پابندی کا شکار رہے۔ مرتے دم تک شین وارن یہ کہتے رہے کہ سلیم ملک نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو رقم کی پیش کش کی تھی۔

اسی اثنا میں شین وارن اور مارک وا پر آسٹریلین بورڈ کی جانب سے 5، 5 ہزار ڈالر جرمانے کا بھی انکشاف ہوا جب بورڈ کو یہ معلوم ہوا کہ یہ دونوں کھلاڑی سٹے بازوں کو مختلف قسم کی خبروں سے آگاہ رکھتے ہیں۔ خود شین وارن اور مارک وا نے بھی اس کا اقرار کیا۔

یہ ایک طویل قصہ ہے جو میں نے اپنی سوانح عمری فار مور دین اے گیم میں بیان کیا ہے۔ بہرحال شین وارن دنیائے کرکٹ کے ایک عظیم باؤلر اور کھلاڑی تھے۔ انہیں ان دونوں حیثیتوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

حوالہ: ڈان نیوز اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close