پاکستان کو ’بحیرہ عرب میں سبقت‘ دلوانے والے جے 10 سی طیارے کن خصوصیات کے حامل ہیں؟

نیوز ڈیسک

اسلام آباد – پڑوسی ملک چین سے حاصل کیے گئے چھ ’جے 10 سی‘ لڑاکا طیاروں کی پاکستان فضائیہ میں شمولیت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعہ کے روز وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایئر فورس میں ان جدید طیاروں کی شمولیت سے پاکستان کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہوگی

پاکستان فضائیہ کے ترجمان احمر رضا نے بتایا کہ ان طیاروں کو چین کے ساتھ جون 2021 میں ہونے والے معاہدے کے تحت خریدا گیا ہے۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ وہ ان طیاروں کی مالیت کے بارے میں نہیں بتا سکتے

اس حوالے سے کامرہ میں ہونے والی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور دیگر دفاعی شعبوں میں چین کی پاکستان کے لیے معاونت قابلِ تعریف ہے اور ’بالاکوٹ حملوں کے بعد پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان اپنا دفاع بخوبی کر سکتا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’بدقسمتی سے برصغیر میں طاقت کا توازن خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جے 10 سی طیاروں کی وجہ سے توازن آئے گا۔‘

چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل ظہیر احمد سدھو کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ان طیاروں کی فضائی بیڑے میں شمولیت سے پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع نہیں کرنا چاہتا، بلکہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانا چاہتا ہے

اس تقریب میں وزیرِ اعظم عمران خان سمیت پاکستان کی افواج اور فضائیہ کے سربراہان بھی موجود تھے

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اِن جدید لڑاکا طیاروں کا پاکستان کی دفاعی فورس کا مستقل حصہ بننے سے پاکستانی بحریہ کا بحیرۂ عرب کے اندر کردار نہ صرف وسیع ہونے کا امکان ہے بلکہ ان طیاروں کی بدولت پاکستان کی سمندری سرحدوں کا دفاع بھی مضبوط ہو جائے گا

یاد رہے کہ مشرف حکومت کے آخری دنوں میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان چین سے ’جے-10‘ طیارے خریدے گا، تاہم اس وقت معاشی و اقتصادی مشکلات کے سبب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا تھا

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جے-10 طیاروں کے فضائی بیڑے میں شمولیت کا مقصد دراصل اس لیے ہے کیونکہ بھارتی فوج اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں رفال لڑاکا طیاروں کے شامل ہونے پر بڑا جوش و جذبہ اور چرچا تھا۔ ایک ماہر نے کہا کہ ‘پاکستان اپنے جشن کے ذریعے بھارتی پراپیگنڈے کو رد کرنا چاہتا ہے۔’

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجود طیاروں میں کوئی ایسا طیارہ موجود نہیں تھا، جو سمندری یا بحری حدود میں اُمور کار انجام دینے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہو

فضائیہ کے ماہرین کے مطابق پاکستانی بحریہ نے اپنی ’اسٹریٹیجک تھنکنگ‘ (جنگی حکمت عملی) کو از سر نو مرتب کیا ہے تاکہ وہ بحیرۂ عرب کی گہرائیوں میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ ’اس کردار کو بخوبی نبھانے میں جے-10 نہایت موثر اور کارگر کردار ادا کرے گا‘

جے-10 بحری جہاز تباہ کرنے والے موثر میزائلوں سے لیس ہوتے ہیں

یاد رہے کہ چین نے حال ہی میں پاکستانی بحریہ (نیوی) کو جدید ترین ’فری گیٹ‘ (بحری جنگی جہاز) فراہم کیے ہیں جو پاکستان کے عسکری عزائم کی تکمیل میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں

پاکستانی ایئر فورس مشرف دور سے اپنے میراج طیاروں کے بیڑوں کو تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی

پاکستان نے میراج طیارے سنہ 1967 میں خریدے تھے۔ یہ پاکستان ایئر فورس کی فضائی قوت میں ’اسٹریٹیجک فورس‘ کے طور پر بروئے کار آتے رہے ہیں، لیکن اب یہ اپنی مدت پوری کر چکے ہیں

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستانی فوج کے منصوبہ سازوں میں یہ سوچ بہت ہی راسخ ہے کہ میراج طیاروں کو چینی ساختہ جے-10 طیاروں سے تبدیل کر دیا جائے جو نہ صرف دشمن کے علاقے کے اندر جا کر مؤثر کارروائی کرنے اور ہدف پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ انھیں اسٹریٹیجک فورس کا بھی حصہ بنایا جا سکتا ہے

میراج طیارے آج کی تاریخ تک ممکنہ طور پر پاکستان فضائیہ کے اسٹریٹیجک ہتھیاروں سے مسلح واحد طیارے تھے

ماہرین کے مطابق پی اے ایف میراج طیاروں کی جگہ جے-10 لانا چاہتی تھی، جو میراج فلیٹ کا بہترین متبادل خیال ہوتے ہیں۔ یہ بھاری مقدار میں اسلحہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا اسٹریٹیجک جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل ہیں

ایک ماہر نے کہا کہ جے ایف-17 میں بھاری مقدار میں اسلحہ لے جانے کی استعداد نہیں۔ البتہ ایک ماہر نے نشاندہی کی کہ جے-10 لڑاکا طیاروں کو جے ایف-17 کے ساتھ مواصلاتی طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے تاکہ دونوں طیارے میدان جنگ میں یکجائی و ہم آہنگی کے ساتھ ایک ساتھ بروئے کار آ سکیں

پاکستان کے پاس موجود ایف-16 اور دیگر مغربی ٹیکنالوجی کے حامل لڑاکا طیارے تکنیکی پابندیاں یا قدغنیں رکھتے ہیں، خاص طور پر جب بات اسٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی ہو۔ جے ایف-17 چین اور پاکستان کی مشترکہ تیار کردہ کاوش ہے اور اس میں تکنیکی قدغنیں یا پابندیاں حائل نہیں۔ تاہم یہ ایک ہلکا طیارہ ہے اور بھاری مقدار میں اسلحہ نہیں اٹھا سکتا

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں حکومت پاکستان چین کی حکومت کے ساتھ بات چیت کے آخری مراحل میں تھی، جب ڈیڑھ سو جے-10 لڑاکا طیارے خریدنے کا پروگرام سرد خانے کی نذر ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ‘اس کی وجہ اِن دنوں مالیاتی اور معاشی بحران تھا’

جے-10 بنیادی طور پر لڑاکا طیارہ ہے جو حملے کی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے

23 فروری 2003 کو جے 10 ساخت کا پہلا طیارہ چین کی ایئر فورس کی 13ویں ٹیسٹ ریجمنٹ کے حوالے کیا گیا تھا۔ اسی سال دسمبر میں اس لڑاکا طیارے کے ’آپریشنل‘ (قابل استعمال حالت میں) ہونے کا اعلان کیا گیا۔ اٹھارہ سال اس طیارے پر کام ہوتا رہا۔ ’جے-10 سی‘ طیارے نے لڑائی کے لیے خدمات کی انجام دہی اپریل 2018 میں شروع کی تھیں

ابتدا میں اس طیارے کو پیپلز لبریشن آرمی و ایئر فورس کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں چینی ہتھیار بنانے والی صنعت نے اسے برآمدی مقاصد کے لیے بھی بنانا شروع کر دیا

ایئر فورس کے ایک افسر نے بتایا کہ 2010 میں پاکستان ایئر فورس جے-10 لڑاکا طیاروں کی ترقی کے عمل میں شامل ہوئی اور اس کے انجینیئرز نے نقشہ سازی اور اس کے بنانے میں حصہ لیا تھا۔ ایک افسر نے بتایا کہ ’یہ لڑاکا طیارہ پی اے ایف کے لیے نیا نہیں، ہمارے ہوا باز (پائلٹس) اسے اڑاتے رہے ہیں اور یہ ان کے لیے اجنبی نہیں۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close