ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری: انوکھا اعزاز پانے والے پشاور کے باپ بیٹی کی کہانی

ویب ڈیسک

پشاور – ڈاکٹر مسعود احمد اور ڈاکٹر نادیہ مسعود خان نے یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے انوکھا اعزاز اپنے نام کیا ہے

ڈاکٹر نادیہ مسعود خان نے اپنے والد ڈاکٹر مسعود احمد کے ساتھ مل کر یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی پروگرام میں ایک ساتھ داخلہ لیا تھا، پھر ایک ساتھ پڑھائی شروع کی اور ایک ہی ساتھ کامیابی حاصل کی

ان کا کہنا ہے ”وہ ہمارے لیے انتہائی یادگار لمحہ تھا، جب یونیورسٹی کی ایک ہی کانووکیشن میں ہم بیٹی اور باپ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر رہے تھے۔ یقیناً ہمیں اپنی محنت کا پھل تو مل گیا لیکن ساتھ میں ہم نے ایک تاریخ بھی رقم کی ہے“

نادیہ مسعود نے کہا کہ ’یہ میرے لیے باعث فخر ہے کہ اس قابل ہوئی ہوں کہ اپنے والد کے ساتھ ایک ہی دن پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔ تاریخ میں شاید ایسا پہلی دفعہ ہوا ہوگا کہ باپ اور بیٹی نے ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔‘

ڈاکٹر مسعود کا تعلق ضلع مردان کے علاقے لوند خوڑ سے ہے اور وہ جامعہ پشاور کے شعبہ انجینیئرنگ میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر پڑھا رہے ہیں

مسعود احمد نے بتایا کہ نادیہ مسعود خان ان کی تیسری بیٹی ہیں اور ان کی تینوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ انہیں متعدد مواقع ملے کہ وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرتے لیکن وہ گھریلو حالات کی وجہ سے اس طرف توجہ نہیں دے سکے۔ انہیں امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک کی اسکالرشپس بھی مل رہی تھیں لیکن انہوں نے وہ قبول نہیں کیں

ڈاکٹر محمد مسعود نے بتایا کہ دراصل ان پر ان کی والدہ اور بہن بھائیوں کی ذمہ داری تھی اور وہ انہیں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پی ایچ ڈی وقت پر نہیں کر سکے تھے

ڈاکٹر مسعود خان نے بتایا کہ اب بھی اگر انہوں نے یہ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کے پیچھے ان کی اہلیہ کا ہاتھ ہے

وہ کہتے ہیں ”یونیورسٹی میں نوکری کے علاوہ میرا ایک چھوٹا سا کاروبار بھی ہے اور اس پی ایچ ڈی کے لیے میری اہلیہ نے میرے ساتھ یہ ذمہ داری سنبھالنے میں مدد کی. میری اہلیہ میری بیمار والدہ کی دیکھ بھال کے علاوہ میرے بہن بھائیوں کا خیال رکھتی تھیں اور میرے لیے سہولیات فراہم کرتی تھیں تاکہ میں اپنی تحقیق کی طرف توجہ دے سکوں“

نادیہ مسعود خان نے الیکٹریکل انجینیئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور انھوں نے انجینیئرنگ کا شعبہ اپنے والد ہی سے متاثر ہو کر منتخب کیا تھا

وہ بتاتی ہیں ”2016 میں میں نے ماسٹرز ڈگری مکمل کی تھی اور ان دنوں بابا بھی وقت دے سکتے تھے اور یہ اتفاق تھا کہ بابا اور میں نے 2016-17 میں اپنی اپنی فیلڈ میں داخلہ لے لیا تھا“

نادیہ مسعود نے بتایا ”ہم نے خوب محنت کی اور ہم ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اور دونوں نے 2021 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے اور 2022 کے یونیورسٹی کانووکیشن میں ہمیں ڈگریاں مل گئیں“

انہوں نے بتایا کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ باپ اور بیٹی ایک ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کریں لیکن ان کے ساتھ یہ سب اتفاق سے ہوا ہے، انہوں نے کوئی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی تھی

”یہ ایک یادگار دن تھا کیونکہ ہم نے جو محنت کی تھی ہمیں اس کا پھل مل گیا ہے اور یہ موقع میرے لیے، میرے بابا اور میری امی کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ایسا ہم نے کہیں نہیں سنا کہ باپ اور بیٹی نے ایک ساتھ پی ایچ ڈی مکمل کی ہو. ہم اپنی پڑھائی مشترکہ طور پر کرتے تھے، ریسرچ کے عمل میں ہم ساتھ ساتھ ہوتے تھے لیکن ہمارے شعبے الگ الگ تھے“

وہ بتاتی ہیں ”ایک ساتھ پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کا آئیڈیا بھی میرے والد کا تھا، وہ کہتے تھے کہ ایک ساتھ ڈگری مکمل کریں گے۔‘

نادیہ مسعود خان نے بتایا کہ ’پی ایچ ڈی کرنا آسان نہیں تھا لیکن والد نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی اور کبھی کسی بھی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔‘

مسعود احمد نے بتایا کہ وہ مکینیکل ڈیپارٹمنٹ میں ٹیچر ہیں جبکہ اُن کی بیٹی الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ میں تھیں۔ ‘میں نے میکاٹرونکس میں پی ایچ ڈی کی ہے جبکہ میری بیٹی الیکٹریکل انجینیئرنگ میں ڈاکٹر بنی ہے۔‘

معسود احمد نے بتایا کہ وہ 1988 میں یونیورسٹی میں ٹیچر تعینات ہوئے اور 1988 میں ہی شادی کر لی تھی، جبکہ 1989 میں اُن کے والد کی وفات ہو گئی تھی جس کے بعد والدہ اور بہن بھائیوں کو میں نے سنبھالنا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایک اسکالر شپ 1991 میں اُنہیں ملی لیکن اُنہوں نے وہ قبول نہیں کی تھی۔ ‘اس کے بعد 1996 میں اساتذہ کے ہنر میں بہتری کے لیے امریکا کی اسکالرشپ ملی وہ بھی قبول نہیں کی۔ اس کے بعد کامن ویلتھ اور بنکاک کے مختلف اداروں کے سکالرشپ بھی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے قبول نہیں کر سکا۔‘

مسعود احمد نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ پی ایچ ڈی مکمل کریں اور 2016ع میں یہ سوچا کہ اب پی ایچ ڈی کر لوں کیونکہ یہ ایسا وقت تھا کہ وہ اپنی تحقیق کی طرف توجہ دے سکتے تھے۔ اُن کی بیٹی نے بھی 2016 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی، اس لیے دونوں نے ایک ساتھ داخلہ لے لیا

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کو اگر کہیں مشکل پیش آتی یا اسے کوئی مدد کی ضرورت ہوتی تو ‘میں اس کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا پی ایچ ڈی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ جو آپ کا منصوبہ یا پلان یا سوچ ہوتی ہے، ضروری نہیں ہوتا کہ اس کے نتائج بھی بالکل ویسے آئیں گے اور اس میں کم سے کم چار سال کا عرصہ لگتا ہے اور اس دوران انسان کے لیے مشکل مرحلے بھی آتے ہیں لیکن ہم دونوں نے ان کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔‘

ڈاکٹر مسعود خان نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ’ان کے بچوں میں سے کوئی ایسا ہے جو تعلیم میں ان کے برابر ہے۔‘

”جو لوگ کہتے ہیں کہ بیٹیاں کچھ نہیں کرسکتیں تو ان کے لیے میری بیٹی ایک مثال ہے، بیٹوں اور بیٹیوں میں کوئی فرق نہیں دونوں اگر محنت کریں تو کچھ بھی ناممکن نہیں ہے“

مسعود خان نے بتایا کہ ’ان کے سات بچے ہیں جن میں سے پہلی تین بیٹیاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں معاشرے سے بہت کچھ سننے کو ملتا تھا۔‘

’کوئی کہتا تھا کہ ان کے بیٹے نہیں ہیں اور ان کا کوئی وارث نہیں ہوگا۔ اسی طرح کے کئی اور طعنے بھی سننے کو ملتے تھے لیکن لوگوں کی باتوں کا مجھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘

’جب پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کا سوچا تو اس وقت میری بیٹی بھی الیکٹریکل انجینیئرنگ میں ماسٹرز مکمل کرچکی تھی، تو ہم دونوں نے ایک ساتھ انٹری ٹیسٹ کے لیے اپلائی کیا اور دونوں نے امتحان پاس کر کے پی ایچ ڈی شروع کی۔‘

مسعود خان اور ان کی بیٹی ساتھ ہی یونیورسٹی جاتے اور تحقیقاتی مقالوں میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے تھے، اور کم سے کم وقت میں مقالے مکمل کرنے کے بعد ان کا کامیابی سے دفاع بھی کرلیا تھا

مسعود خان نے لوگوں پر زور دیا کہ ”وہ بیٹیوں اور بیٹوں میں فرق نہ کریں بلکہ دونوں کو یکساں سپورٹ کریں“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close