دھمکی آمیز خط: حکومت کا تحقیقاتی کمیشن بنانے، مواد اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان

نیوز ڈیسک

اسلام آباد – وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کابینہ نے عالمی سازش کو سامنے رکھ کر لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے، کمیشن دیکھے گا کہ خط میں ”رجیم چینج“ کی دھمکی دی گئی ہے یا نہیں، دیکھا جائے گا کہ عالمی سازش میں مقامی ہینڈلر کون تھے

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے آج ایک بار پھر عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، کابینہ نے اپنے عزم کو دوہرایا کہ پوری قوم کی طرح ہم بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا ”وزیراعظم عمران خان کے خلاف موجودہ تحریک عدم اعتماد کوئی عام تحریک نہیں جو عام حالات میں پیش کردی گئی ہو، اگر یہ عام روایت کے مطابق تحریک ہوتی تو اس کا خیر مقدم کیا جاتا لیکن یہ تحریک عدم اعتماد عالمی سازش کے تحت لائی گئی ہے“

انہوں نے کہا ”وفاقی کابینہ کے سامنے اب تک جو مواد موجود ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ تحریک عدم اعتماد وزیراعظم کے خلاف ایک عالمی سازش کے تحت لائی گئی ہے۔“

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس تحریک عدم اعتماد کی پشت کے اوپر چند بڑے مافیاز اور ممالک ہیں اور جس طرح سے اس کو پاکستان کے عوام تک پہنچایا جارہا ہے، تمام مراحل اور اقدامات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ عالمی سازش ہے

انہوں نے کہا مراسلے کے معاملے پر غور و خوض کے بعد کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مواد جو اس وقت وفاقی حکومت کے پاس موجود ہے، اس کو ‘اورجنل سائفر’ دیے بغیر تمام اراکین اسمبلی کے سامنے رکھے جائیں، جو اس تحریک عدم اعتماد کی شہادتیں ہیں, وہ اراکین اسمبلی کے سامنے رکھی جائیں، اور اس کے بعد بھی کوئی تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دینا چاہتا ہے تو پھر پاکستان کے عوام فیصلہ کریں گے کہ کون کس جانب کھڑا ہے

انہوں نے کہاکہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کیا تھا تو اگر میر جعفر جیسے مقامی لوگ اس کے ساتھ نہیں ملتے تو ہندوستان کبھی محکوم نہیں ہوتا

ان کا کہنا تھا کہ اگر آج قوم نے اپنی آزادی کی حفاظت نہیں کی تو پاکستان پھر ایک بہت بڑی غلامی میں چلا جائے گا اور پھر ہمیں اپنی جدوجہد 23 مارچ 1940 سے دوبارہ شروع کرنی پڑے گی، اس غلامی کے نتیجے میں ایک امپورٹڈ، سلیکٹڈ حکومت ہمارے اوپر مسلط ہوگی، جس کی باگیں کہیں اور سے ہل رہی ہونگیں

ان کا کہنا تھا ”اس غلام حکومت کے نتیجے میں پاکستان اپنے فیصلے خود نہیں کر پائے گا، ہماری آزادی سلب ہوجائے گی، ہم ایک محکوم قوم بن جائیں گے۔“

ان کا کہنا تھا کہ اس عالمی سازش کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا ہے، کمیشن کو کہا گیا ہے کہ وہ تمام معاملے کے پیچھے پوشیدہ کرداروں کو، ان کے معاملات کی تحقیقات کرے اور حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کے تعین کردہ ٹی او آرز کے مطابق دیکھنا ہے کہ یہ جو ‘کمیونیکیشن یا مراسلہ’ ہے، یہ اصل میں موجود ہے یا نہیں، کمیشن دیکھے گا کہ اگر یہ مراسلے موجود ہے تو اس میں حکومت کی تبدیلی کی یا رجیم چینج کی دھمکی موجود ہے یا نہیں

ان کا کہنا تھا کہ تشکیل کردہ کمیشن یہ بھی دیکھے گا کہ اگر یہ حکومت کے خلاف سازش تھی تو اس کے مقامی کردار اور لوکل ہینڈلر کون تھے، ظاہر ہے کہ اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی اس سازش میں شریک نہیں، کچھ مخصوص لوگ ہیں جو سازش میں شریک ہیں، جو جانتے تھے کہ یہ سازش کہاں بنی، کیسے بنی، کہاں سے اس کو لایا گیا، اس کی مزید تحقیقات ہونی چاہیے

انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم آٹھ منحرفین افراد سے براہ راست اور باقی دیر کچھ اراکین سے بلاواسطہ باہر ملک کی ایک ایمبیسی کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے رابطہ کیا گیا، ان کی ملاقاتوں کے ریکارڈز ہماری خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیشن جائزہ لے کہ ان افراد نے ملاقاتوں کے دوران کیا گفتگو کی، انہوں نے ان ملاقاتوں کے دوران کیا وعدے کیے اور یہ منصوبہ کیسے آگے بڑھا ، یہ وہ تفصیلات ہیں جن کا جائزہ یہ کمیشن لے گا، یہ کمیشن 90 روز میں ان معاملات کی تحقیقات کرے گا، کمیشن کو ماہرین کی معاونت حاصل کرنے کے لیے اپنی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دینے کا اختیار دیا گیا ہے

گزشتہ روز سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے فیصلے پر بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے جس طرح سے حکم جاری کیا، اسبملی کا اجلاس بھی خود طلب کرلیا، اجلاس کے وقت کا تعین بھی خود کیا، اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی خطرے میں پڑھ گئی ہے

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس اسپیکر کی رولنگ کا مواد نہیں تھا تو پھر کیسے عدالت اس پر یہ فیصلہ دے سکتی ہے کہ اسپیکر نے اپنا ذہن استعمال کیا ہے یا نہیں

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر عدالت رولنگ سے متعلق فیصلہ کرنا چاہتی تھی تو اس کو تمام مواد کو دیکھنا اور اس کا جائزہ لینا چاہیے تھا، جو اسپیکر کے پاس موجود تھا یا جس کی بنیاد پر اسپیکر تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے اور اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے تک پہنچے تھے

انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے سے متعلق ہماری قانونی ٹیم مشاورت کر رہی ہے، قانونی ٹیم فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے سمیت دیگر قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے جو حیرت انگیز فیصلہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ جو ہمارے منحرف اراکین ہیں، وہ ووٹ ڈال سکیں گے جبکہ وہ کیس تو سپریم کورٹ میں سنا ہی نہیں گیا، سپریم کورٹ کے سامنے تو یہ کیس ہی نہیں تھا کہ وہ ووٹ ڈال سکتے ہیں یا نہیں؟

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جس طرح سے ہارس ٹریڈنگ کی گئی ہے، اس پر پوری قوم کو تشویش ہے

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ روز کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اداروں کا اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنے کا اصول متاثر ہوا ہے، پاکستان میں ‘سیپیریشن آف پاور’ کے اصول کی بری طرح خلاف ورزی ہوئی ہے، اب پارلیمنٹ کی حاکمیت اور بالا دستی برقرار نہیں رہی، حاکمیت اور بالا دستی اب پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ کی جانب منتقل ہوگئی ہے، اس کا مطلب ہے کہ اب پاکستان کے عوام ملک کے حاکم نہیں رہے بلکہ چند ججز اب ملک کے فیصلے کریں گے

انہوں نے کہا کہ ان تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ہم اس پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں دیے گئے اس بیان پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جس میں کمیشن نے کہا تھا کہ وہ ملک میں عام انتخابات سات ماہ سے قبل نہیں کرا سکتے

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان کے خلاف اگر کوئی تحریک عدم اعتماد نہیں آئی ہوتی اور وزیر اعظم فیصلہ کرتے کہ ہم نے ملک میں عام انتخابات کرانے ہیں اور آئین کہتا ہے کہ فیصلہ ہونے کے بعد 90 روز میں الیکشن کرانے ہیں تو کیا اس وقت بھی کمیشن یہ ہی کہتا کہ ہم الیکشن نہیں کرا سکتے

ان کا کہنا تھا کہ خاص طورپر فیصلہ محفوظ ہونے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کا یہ بیان آنا بہت سارے سوالات کو جنم دیتا ہے، کابینہ نے الیکشن کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر اپنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ نے الیکشن کمیشن کے اس بیان پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا جس میں اس نے کہا تھا کہ اسے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق وفاقی حکومت کی جانب سے معاونت نہیں ملی، کابینہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اس بیان کو حقائق کے منافی سمجھا جائے، وفاقی حکومت الیکشن کرانے کے لیے ہر طرح سے الیکشن کمیشن کی معاونت کے لیے تیار ہے

انہوں نے کہا کہ ہم تو گزشتہ دو سالوں سے الیکشن کمیشن کو کہہ رہے ہیں کہ وہ الیکشن کی تیاری کرے، خاص پر ہم نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے معاملے پر گزشتہ دو سالوں کے دوران بہت کام کیا جبکہ اب الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ آپ اوورسیز ووٹس کو تو آپ چھوڑ ہی دیں بلکہ ہم تو ملک میں موجود لوگوں کے لیے بھی ووٹنگ کا انتظام نہیں کرسکتے

ان کا کہنا تھا کہ کیا کوئی ملک سات ماہ بغیر کسی حکومت کے چل سکتا ہے، کیا کوئی نگراں حکومت سات آٹھ ماہ کے لیے ان مشکل معاشی حالات میں ملک کے معاملات چلا سکتی ہے، ہمیں فوری طور پر ایک مضبوط ارو مستحکم حکومت کی جانب جانا چاہیے جیسا کہ کل چیف جسٹس نے بھی ریمارکس دیے

ان کا کہنا تھا کہ ایک کمزور حکومت ملک میں نہ معاشی فیصلے کرسکے گی نہ سیاسی فیصلے کرسکے گی اور نہ خارجی فیصلے کرسکے گی

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مشکل حالات میں پاکستان کے لوگوں کو ریلیف دیا، ہم نے تیل کی قیمت کم کی، ہم نے بجلی کی قیمت کم کی اور پاکستان کو 5 عشاریہ 4 فیصد کی شرح نمو پر لے کر گئے لیکن یہ تمام معاملات اس ایک قدم کے بعد ہاتھ سے نکلتا ہوا نطر آرہا ہے

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی معیشت شدید مسائل کا شکار ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا بیان غیر ذمےدارانہ تھا، الیکشن کمیشن اپنے بیان پر نظر ثانی کرے اور ہر حال میں 90 روز میں انتخابات ہونے چاہییں

انہوں نے کہا کہ جیسے بھی سیاسی حالات ہوں ہم ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، عمران خان اس وقت وزیراعظم ہیں اور وہ وزیر اعظم رہیں گے

فواد چوہدری کا کہنا تھا اس عالمی سازش کے تحت اس شخص کو ملک پر مسلط کرنے کی سازش کی جا رہی ہے جس کی سوچ ہی غلامی کی ہے، وہ کہتا ہے کہ ہم بھکاری ہیں، ایسے شخص کو ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو کیا عمران خان خاموش بیٹھیں گے، ہر گز نہیں، ہم اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close