ملیر ایکسپریس وے کی تعمیر پر کام زور و شور سے جاری ہے، وزیراعلیٰ سندھ

نیوز ڈیسک

کراچی – وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بدھ کے روز محکمہ بلدیات کو قائد آباد تک 39 کلومیٹر طویل ملیر ایکسپریس وے کا ایک حصہ آئندہ آٹھ ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے

یہ ہدایت وزیراعلیٰ نے ایکسپریس وے منصوبے پر کام کی رفتار کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی

انہیں بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے پر تعمیراتی کام زوروں پر ہے اور اب تک جام صادق پل سے قائد آباد تک 15 کلومیٹر کا زمینی کام مکمل ہو چکا ہے تاہم کچھ زمینی مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے

واضح رہے کہ 21 اپریل 2022 میں بی بی سی اردو میں شائع ایک رپورٹ میں ای ایم سی کے  سیّد عمر عارف، جن کی کمپنی نے ملیر ایکسپریس وے کا ای آئی اے (ماحولیاتی جائزہ) انجام دیا تھا، اس کے بلکل برعکس بات کی تھی

ای ایم سی کے سی کے سیّد عمر عارف کا کہنا تھا ”اب ہم نے منصوبے کو بہتر کیا اور اب سڑک کے راستے میں صرف آٹھ سے 10 گھر آ رہے ہیں۔ ای آئی اے چونکہ ابھی تک منظور نہیں ہوئی اس لیے ہم نے ابھی سائٹ پر کوئی کام شروع نہیں کیا بلکہ صرف کچرا اٹھایا“

 

یہ بھی پڑھیں : ملیر، کراچی کا آکسیجن حب!

صوبائی حکومت نے بظاہر کراچی پورٹ، کورنگی انڈسٹریل ایریا، لانڈھی انڈسٹریل ایریا، اسٹیل ملز، پورٹ قاسم اور ایسے دیگر علاقوں کے ہزاروں مسافروں اور بھاری ٹریفک کی سہولت کے لیے ملیر ندی پر ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا۔ لیکن دراصل یہ منصوبہ شہر کی اشرافیہ پر مبنی پوش ایریا کو شہر سے باہر تعمیر ہونے والے نئے میگا پراجیکٹس کے ساتھ جوڑنا ہے

اس منصوبے میں ملیر ندی کے ساتھ کنٹرول شدہ رسائی کے ساتھ 38.75 کلومیٹر 3×3 لین ایکسپریس وے کی تعمیر شامل ہے جو کورنگی کریک ایونیو (DHA) سے شروع ہو کر موجودہ لنک روڈ کے ذریعے کاٹھور کے قریب کراچی-حیدرآباد موٹر وے (M-9) پر ختم ہوتی ہے

مجوزہ ایکسپریس وے روٹ کے ساتھ ساتھ مرکزی ہاؤسنگ اسکیموں تک تیزی سے رسائی فراہم کرے گا، جس سے کورنگی کریک ایونیو (DHA) سے سپر ہائی وے (M-9) تک سفر کا وقت صرف 25 منٹ تک کم ہو جائے گا۔ ایکسپریس وے کے چھ انٹرچینج ہوں گے

تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق پیش رفت بشمول مین الائنمنٹ پر صفائی اور دریا کے بیڈ کے اندر تعمیراتی سامان کی نقل و حرکت کے لیے عارضی سروس سڑکوں کی تعمیر زوروں پر ہے

اجلاس کو بتایا گیا کہ زمین کے کچھ مسائل تھے کیونکہ زمین کے کچھ حصے پرائیویٹ افراد کی ملکیت تھے اور کچھ حصے پاک فضائیہ کے تھے۔

وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ حکام سے بات کریں تاکہ منصوبے پر کام بلا رکاوٹ جاری رہے

انہوں نے سٹی پولیس چیف کو یہ بھی ہدایت کی کہ ملیر ایکسپریس وے کے مقام پر مزدوروں اور مشینری کی حفاظت کے لیے پولیس پکیٹ قائم کی جائے۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ لوکل گورنمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ ایکسپریس وے پر جاری کام کا دورہ کرتے رہیں تاکہ قائد آباد تک اس کا حصہ اگلے آٹھ ماہ میں مکمل ہو سکے

واضح رہے کہ علاقہ مکینوں نے بھی اس منصوبے پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اس کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے، جبکہ ماحولیاتی ماہرین بھی اسے علاقے کی ماحولیاتی تباہی سے تعبیر کر رہے ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close