مون سون: بھارت اور بنگلہ دیش میں سیلاب سے چالیس سے زائد افراد ہلاک، لاکھوں بے گھر

بنگلہ دیش اور بھارت میں مون سون کی بارشوں سے ہونے والی تباہی کے باعث کم از کم اکتالیس افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والی مسلسل بارشوں کے سبب بنگلہ دیش کے وسیع شمال مشرقی علاقے زیر آب آ گئے جس کے بعد پڑوسی علاقوں اور مقامات سے کٹ جانے والے گھرانوں کو نکالنے کے لیے فوجی تعینات کیے گئے ہیں

اسکولوں کو امدادی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ دریا کے بند ٹوٹنے کے سبب چند گھنٹوں میں ندیوں کی زد میں آجانے والے دیہاتوں میں رہنے والے افراد کی رہائش کا بندوبست کیا جا سکے کیونکہ یہ تمام افراد اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں

بنگلہ دیش کے ضلع سلہٹ کے چیف ایڈمنسٹریٹر مشرف حسین نے بتایا کہ صورتحال بہت خراب ہے، چالیس لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب کے باعث بے گھر ہیں جبکہ پورے علاقے میں بجلی بھی نہیں

سیلاب کے باعث بنگلہ دیش کے شہر سلہٹ میں ملک کے تیسرے سب سے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو جمعہ کو بند کرنا پڑا

بنگلہ دیش کے ضلع سلہٹ کے ایک رہائشی لوک من، جن کا پورا خاندان کوماپنی گنج میں رہتا ہے، نے بتایا کہ جمعہ کی صبح تک پورا گاؤں پانی میں ڈوب چکا تھا اور ہم سب پھنس گئے تھے

تیئیس سالہ نوجوان کا کہنا تھا ”سارا دن گھر کی چھت پر گزارنے کے بعد ایک ہمسائے نے کشتی کے ذریعے ہمیں بچایا۔ میری والدہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسا سیلاب نہیں دیکھا“

متاثرہ خاتون عاصمہ اختر نے بتایا کہ دو دن سے ان کے خاندان نے کچھ نہیں کھایا۔
’پانی اتنی تیزی سے چڑھنا شروع ہو گیا کہ ہم اپنا کوئی سامان نہیں لا سکے۔ ویسے بھی کچھ کیسے بنایا جا سکتا ہے جب سب کچھ پانی کے نیچے ہو۔‘

پولیس حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ طوفانی بارش کے سبب چمکنے والی آسمانی بجلی جمعے کی دوپہر سے جنوبی ایشیائی ملک میں مختلف مقامات پر کم از کم اکیس افراد کی جان لے لی ہے

مقامی پولیس کے سربراہ میزان الرحمٰن نے بتایا کہ ان میں بارہ سے چودہ سال کی عمر کے تین بچے بھی شامل ہیں جو ناندیل کے دیہی قصبے میں جمعہ کو آسمانی بجلی گرنے سے ہلاک ہوئے

پولیس انسپکٹر نورالاسلام نے اے ایف پی کو بتایا کہ چٹاگانگ میں پہاڑی پر واقع مکانات پر مٹی کے تودے گرنے سے مزید چار افراد ہلاک ہو گئے

دوسری جانب بھارت کے دور افتادہ میگھالیہ میں بھی شدید بارشوں اور سیلاب سے جمعرات سے اب تک کم از کم سولہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ریاست کے وزیر اعلیٰ کونراڈ سنگما نے ٹوئٹر پر لکھا کہ مٹی کے تودے گرنے اور دریا میں پانی کی سطح بڑھنے سے سڑکیں ڈوب گئیں

آسام ریاست میں پانچ دنوں کی مسلسل بارش کے بعد سیلاب سے اٹھارہ لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے ضلعی عہدیداروں کو سیلاب میں پھنسے لوگوں کو تمام ضروری مدد اور راحت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

موسمیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں شدید بارشوں اور بھارت کے شمال مشرق میں بالائی علاقوں میں آنے والے دو دنوں میں سیلاب سے صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے

ماہرین کے خیال میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ کثرت سے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close