پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر کام شروع، رانا ثناءاللہ

ویب ڈیسک

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے ”پنجاب میں گورنر راج کی سمری پر کام شروع کردیا ہے“ ساتھ ہی انہوں نے کہا ”اگر میرا پنجاب میں داخلہ بند ہوا تو یہ گورنر راج کا آغاز ہوگا“

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی مخالیفن کی جانب سے جس طرح کی غیر ذمےدارانہ گفتگو کی جا رہی ہے کہ ہم فلاں شخص کے صوبے میں داخلے پر پابندی لگادیں گے، فلاں شخص کے خلاف یوں کردیں گے تو ایسی گفتگو کرنے والوں کو میرا پیغام ہے کہ اگر انہوں نے اس طرح کی کوئی حرکت کی تو گورنر راج کے نفاذ کی سمری وزیر داخلہ نے پیش کرنی ہے اور میں نے اس کے اوپر کام شروع کر دیا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ اور ن لیگ کی پنجاب ’حکومت‘ نے اقتدار میں آنے کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے اسلام آباد اور پنجاب میں داخلے پر پابندی لگائی تھی

اب وزیر داخلہ کا کہنا ہے ”اگر میرا پنجاب میں داخلہ بند کیا گیا تو یہ اقدام گورنر راج کے نفاذ کے لیے کافی جواز ہوگا“

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا ”اگر عمران خان نے دوبارہ اسلام آباد پر ’چڑھائی‘ کی کوشش کی، تو وہ 25 مئی کو یاد رکھیں اور آئندہ بھی اسی طرح سے انہیں بھرپور طریقے سے روکیں گے“

انہوں نے کہا ”اگر عمران خان نے پنجاب یا خیبر پختونخوا سے اسلام آباد میں چڑھائی کی کوشش کی تو انہیں وہیں روکا جائے گا“

ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے سینیئر لیڈر چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے ہیں

رانا ثناءاللہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کا پورے پاکستان میں دائرہ اختیار ہوتا ہے، وفاقی حکومت اپنے بڑے اداروں کے ذریعے پورے ملک میں موجود ہوتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد تک محدود ہے غلط ہے

واضح رہے کہ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو اخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے، کیونکہ وہ ایک ایسی جماعت کے صدر ہیں، جس کی ملک کے کسی بھی صوبے میں حکومت نہیں ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی بھی انہیں ”اسلام آباد کا وزیر اعظم“ کہہ کر ان پر تنقید کر رہی ہے

وزیر داخلہ نے پنجاب حکومت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدلیہ کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، کوئی اس کے اختیار کو کم کرنے کی بات نہیں کرتا، جیسا کہ از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے کی بات کوئی نہیں کر رہا، کوئی یہ بھی نہیں کہہ رہا کہ اس اختیار وزیراعظم کے ساتھ مشاورت کے بعد استعمال کیا جائے

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام باتیں عدلیہ کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے والی ہیں، اس سے عدلیہ کے اختیارات کم کرنے والی نہیں بلکہ اس کی عزت و تکریم میں اضافے کی باتیں ہیں

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف ’تحریک عدم اعتماد‘ کی کامیابی کے بعد ہماری جماعت کا فیصلہ تھا کہ الیکشن میں جائیں اور حکومت نہ بنائیں لیکن اتحادی جماعتوں اور ’محب وطن دوستوں‘ کے مشورے کے بعد کہ اگر اس وقت الیکشن میں جایا جائے تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا اور یہ بات درست تھی اس لیے یہ ذمےداری قبول کی گئی اور ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا

پارٹی قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا ”نواز شریف آئندہ انتخابات سے قبل ملک میں واپس آئیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close