تھر کے ایک بوائز سیکنڈری اسکول اور اس کی پہلی طالبہ درشنا کے ادھورے خوابوں کی کہانی۔۔

ویب ڈیسک

”اگر یہ اسکول نہ ہوتا تو میرے گھر والے مجھے کبھی آگے پڑھنے نہ دیتے، میں کبھی اپنے خوابوں کو پورا نہ کر پاتی۔ اس اسکول کی بدولت ہی میں نے جانا ہے کہ انسان کے لیے تعلیم کیا معنی رکھتی ہے۔ یہ کیسے ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔” یہ کہنا ہے پشپا کھیتا رام کا، جو تھرپارکر کے گاؤں ملنحور وینا کی رہائشی اور میٹرک کی طالبہ ہیں

پاکستان کے صوبۂ سندھ کا ضلع تھرپارکر رقبے کے لحاظ سے وسیع ضلع ہے، یہاں رہنے والی آبادی کا تقریباً ستر فی صد ہندو آبادی پر مشتمل ہے۔ یوں تو حدِنگاہ ریت ہی ریت ہے اور ان میں کہیں دور سے نظر آنے والے چؤنرے (تھر میں بنے جھونپڑے) انتہائی دلفریب مناظر پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہاں زندگی آسان نہیں اور اب بھی پانی کی تلاش میں تھر کی عورتیں میلوں کا سفر پیدل طے کر کے کنوؤں تک پہنچتی ہیں

چار ماہ کھیتی باڑی کے بعد اگلے آٹھ ماہ ان خاندانوں کو کاشت کی ہوئی فصل کے ساتھ گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ سخت موسم تو کبھی قحط سالی اس خطے میں بسنے والوں کو مزید مصائب سے دوچار کردیتی ہے

آئے دن اس علاقے سے نوزائیدہ بچوں کی اموات اور جوانوں کی خودکشیوں کی خبر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی ہیں اور پھر یہ سب کچھ کسی دوسری بڑی خبر کے نیچے دب جاتا ہے۔ لیکن ان سب مسائل کے باوجود یہاں بسنے والے اپنے بہتر مستقبل کے لیے پرامید دکھائی دیتے ہیں

وائس آف امریکہ میں سدرہ ڈار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تھرپارکر کے شہر مٹھی سے دس کلو میٹر کے فاصلے پر قائم ملنحور وینا بھی تھر کے دیگر گاؤں کی طرح دکھائی دیتا ہے لیکن اس میں خاص بات یہاں کا بوائز سیکنڈری اسکول ہے، جو 1980ع کی دہائی سے ایک جھونپڑے سے شروع ہوا تھا اور اب ایک بڑی عمارت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس وقت وہاں تین سو لڑکے اور ایک سو لڑکیاں زیر تعلیم ہیں

یہ بڑے سے احاطے میں قائم ایک ایسا اسکول ہے، جس کے کلاس رومز وسیع اور روشن ہیں۔ درمیان میں کھیل کا میدان ہے، جہاں روزانہ صبح کا آغاز دعا اور پاکستان کے قومی ترانے سے ہوتا ہے

سدرہ ڈار اپنی رپورٹ میں بتاتی ہیں ”میرے لیے چونکا دینے والی بات اس لڑکوں کے اسکول میں لڑکیوں کا نظر آنا تھا کیونکہ اسکول کے باہر بورڈ پر کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ یہ ایک کو ایجوکیشن اسکول ہے۔“

رپورٹ کے مطابق ”چھٹی جماعت سے میٹرک تک یہاں تین سو لڑکوں کے ساتھ ایک سو لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جو میرے لیے اس لیےحیران کن تھا کہ اس ضلع میں والدین اول تو لڑکیوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیتے نہیں اور اگر وہ راضی ہو بھی جائیں تو لڑکوں کے ساتھ پڑھانے پر کسی طور پر آمادہ نہیں ہوتے۔لیکن اس پابندی سے آزاد یہ اسکول کس طرح چل رہا ہے یہ جاننا میرے لیے بہت اہم تھا۔“

کیوں کہ تھر پارکر ہی وہ جگہ ہے، جہاں سے صرف دو فی صد لڑکیاں گریجویشن تک پہنچ پاتی ہیں۔ اسی ضلع میں ساٹھ سرکاری اسکولوں میں سے صرف سات سیکنڈری اسکول لڑکیوں کے لیے موجود ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسا اسکول تھا، جہاں مخلوط تعلیمی نظام ہے

ملنحور وینا کے بوائز سیکنڈری اسکول میں لڑکیاں کیسے پڑھ رہی ہیں؟ اس سوال کا جواب اس اسکول میں قائم درشنا لائبریری ہے، جہاں درشنا کی تصویر آویزاں ہے، جو اسکول کی پہلی طالبہ تھی

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس اسکول کے ہیڈماسٹر رام چند شیوانی نے بتایا ”2012 میں اس اسکول کے پرائمری ٹیچر سائیں سومار نے اپنی بیٹی درشنا کو اس اسکول میں داخل کرایا۔اس علاقے میں لڑکیوں کے لیے دور دور تک کوئی سیکنڈری اسکول موجود نہ تھا جہاں وہ اپنی بیٹی کو بھیج پاتے۔۔ درشنا کو آگے پڑھنے کا بہت شوق تھا تو ان کے والد نے اپنی بیٹی کو اسی اسکول میں داخل کرایا۔ ان کو دیکھ کر اس علاقے کے دیگر خاندان بھی آگے بڑھے اور اپنی بیٹیوں کو درشنا کے ساتھ پڑھنے بھیجا۔ یوں 2012 میں دس لڑکیاں اس اسکول میں داخل ہوگئیں۔“

وہ بتاتے ہیں ”سائیں سومار علاقے میں ہر گھر جاکر خاندانوں کو سمجھاتے کہ اگر ان کی بیٹی پڑھ سکتی ہے تو وہ بھی ہمت کر کے اپنی بیٹی کو اس اسکول بھیجیں۔ اس پیغام نے بہت سے دلوں کو موم کیا لیکن اب بھی بہت سے لوگ اس بات پر قائل نہ تھے کہ ان کی بیٹیاں لڑکوں کے ساتھ پڑھیں“

رام چند شیوانی کہتے ہیں کے
”چھٹی جماعت کی طالبہ درشنا سیکنڈری اسکول میں آنے کے بعد بہت سے خواب دیکھنے لگی۔ اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ اب اس کا تعلیم کا سفر بنا کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا۔ لیکن اسکول آنے کے چھ ماہ بعد ہی درشنا کو رات میں سوتے ہوئے ایک سانپ نے کاٹ لیا۔ صبح تک درشنا کا پورا جسم بخار اور سوجھن کا شکار تھا۔ سائیں سومار اپنی بیٹی کو مٹھی اسپتال لے جانے کی بھاگ دوڑ کر رہے تھے کہ درشنا نے اپنے والد کو اسکول لے جانے کا کہا“

ہیڈماسٹر رام چند شیوانی نے بتایا ”ہم سب یہی موجود تھے، جب درشنا اسکول پہنچی۔ تکلیف اور جسم پر سوجن کے سبب اس کی آنکھیں تک نہیں کھل رہی تھیں۔ بچی نے اپنے اسکول کو جی بھر کے دیکھا اور سب سے کہا کہ نہ جانے میں پھر سے یہاں آسکوں گی یا نہیں پھر وہ اسپتال چلی گئی۔ جہاں کچھ گھنٹوں بعد اس کی موت کی خبر ہم تک پہنچی“

وہ بتاتے ہیں ”درشنا کی اس اسکول سے محبت اور اتنی تکلیف میں بھی اپنی درس گاہ تک آنا ہم سب کی سوچ کو بدل چکا تھا۔ ہم نے اس کے والد کے ساتھ مل کر نہ صرف اس گاؤں بلکہ اس کے آس پاس کے گاؤں جا کر بھی لوگوں کو قائل کیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو بھیجیں۔ان کی بیٹیاں ہماری بچیاں ہیں۔ ان تک کوئی تکلیف نہیں آئے گی اور وہ اگر پڑھ جائیں گی تو ہمیں دعائیں دیں گی۔“

”ہم نے تب سب کو ایک جملہ کہا: ایک مرد پڑھا تو ایک فرد پڑھا، ایک عورت پڑھی تو سمجھو پورا گھر پڑھا۔“

وہ بتاتے ہیں ”پھر یہ کوششیں رنگ لائیں اور یہاں زیادہ لڑکیاں داخل ہونے لگیں۔ گاؤں والوں کی محنت اور کوششوں سے ہم نے درشنا کے نام سے یادگار لائبریری بنائی جس میں اب تین سو سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس اسکول تک لڑکیوں کو لانے میں جو کردار درشنا کا تھا اسے ہمیشہ یاد رکھنا ضروری ہے“

مٹھی شہر کی رہائشی سندھو جمانی روزانہ چودہ کلومیٹر کا سفر طے کرکے اسکول پہنچتی ہیں۔ یہ اسکول کی واحد خاتون ٹیچر ہیں جو 2014ع سے وہاں پڑھا رہی ہیں

سندھو جمانی بتاتی ہیں ”جب میرا اس اسکول میں تقرر ہوا تو مجھے ڈر محسوس ہوا کہ میرے گھر سے اسکول کافی دور ہے اور جہاں میں جارہی ہوں وہاں اٹھارہ مرد اساتذہ ہیں اور میں اکیلی خاتون ہوں گی لیکن میرے والد نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور سمجھایا کہ جہاں تم جارہی ہو وہاں تمہاری اشد ضرورت ہے۔۔ جب میں اسکول آئی تو مجھے ایسا لگا کہ میں گھر آ گئی ہوں، یہاں کا اسٹاف میرا بہت خیال کرتا ہے بالکل ایسے جیسے گھر کے کسی چھوٹے بچے کا خیال رکھا جاتا ہے۔ میری ضروریات سے لے کر میری جانب سے دی جانے والی رائے اور تجاویز کو نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ احترام بھی کیا جاتا ہے“

ان کا کہنا تھا ”میرے والد خود بھی محکمۂ تعلیم کے ریٹائرڈ ملازم ہیں، انہیں بہت بار کہا گیا کہ آپ نے اپنی بیٹی کو شہر سے گاؤں بھیج دیا ہے۔ اس کا تبادلہ شہر کے ہی کسی اسکول میں کرا لیں مگر میرے ساتھ انہیں نے بھی اس کا منع کر دیا۔“

وہ کہتی ہیں ”یہ سچ ہے کہ اس علاقے میں گرمی ہو یا سردی موسم کی شدت مسائل میں اضافہ کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود مجھے یہاں پڑھانا اس لیے پسند ہے کہ اس اسکول میں پڑھنے والی تیس فی صد لڑکیوں کے والدین مجھے یہاں دیکھ کر نہ صرف خوش ہیں بلکہ مطمئن بھی۔ میرے لیے یہاں کام کرنا اس لیے بھی خوش قسمتی ہے کہ اس گاؤں نے اپنی بچیوں کو بوائز اسکول میں بھیج کر جو مثال قائم کی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ یہاں کے اسٹاف سے لے کر گاؤں کے رہنے والوں کی مدد سے ہی یہ اسکول تھر کا پہلا کو ایجوکیشن اسکول بنا ہے“

ملنحور وینا کے اسکول میں بہت سے لڑکے بیس سے پچیس کلو میٹر دور سے پڑھنے آتے ہیں۔ اس اسکول میں دو ایسے بھی بھائی زیر تعلیم ہیں، جو روزانہ آٹھ کلو میٹر کا سفر پیدل طے کر کے پڑھنے آتے ہیں۔ اس اسکول میں پڑھنے والی کچھ بچیاں ایسی بھی ہیں، جو اس اسکول سے میٹرک کرنے کے لیے پچاس کلومیٹر دور سے اس گاؤں میں اپنے رشتے داروں کے گھر رہائش پذیر ہیں

ہیڈ ماسٹر رام چند شیوانی نے بتایا ”اسکول سے پڑھ کر جانے والی بہت سی بچیاں اب کالج اور یونیورسٹی تک پہنچ گئی ہیں۔ کچھ پولیو ورکرز تو کچھ استاد بن گئی ہیں۔ یہاں سے پڑھ کر جانے والی لڑکیاں جب میٹرک کے بعد اپنے گاؤں پہنچتی ہیں تو وہ پھر اپنی چھوٹی بہنوں کو بھیجتی ہیں کہ میں وہاں سے پڑھی ہوں تم بھی وہاں سے پڑھو۔ یہ سب اسی لیے ممکن ہوا کہ ہم نے یہاں معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ بچیوں کی خاندانی روایات کا بھی ہمیشہ خیال کیا ہے۔“

اس گاؤں کے ہر گھر کا بچہ اسکول جاتا ہے۔ 2012ع سے قبل گاؤں کی بچیاں پرائمری کے بعد آگے نہیں پڑھ سکتی تھیں۔ لیکن اس اسکول کے بعد سے اب ہر بچی وہاں سے میٹرک کر رہی ہے

پندرہ سالہ پوجا بھی اسی اسکول میں زیرِ تعلیم ہیں، وہ وہاں سے میٹرک کرنے کے بعد کالج اور پھر یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند ہیں

پوجا کہتی ہیں ”میں پڑھ لکھ کر ٹیچر بنوں گی کیوں کہ تھر میں خواتین ٹیچرز کی کمی ہے۔ جب اسکولوں میں خواتین ٹیچرز آئیں گی تو والدین بھی اپنی بچیوں کو پڑھنے سے نہیں روک سکیں گے۔ یہاں ہر کسی کی سوچ ہمارے گاؤں کی طرح نہیں جو اپنی بیٹیوں کو اعتماد کے ساتھ پڑھا رہے ہیں۔ اب بھی بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے جو ہم پڑھ لکھ کر ہی بدل سکتے ہیں“

اسی اسکول کی طالبہ پشپا کھیتا رام اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہیں، جو نویں جماعت پاس کرکے اب میٹرک میں آ چکی ہیں

وہ کہتی ہیں ”میں بہت چھوٹی تھی، جب والد وفات پا گئے تھے۔ وہ ہم سب بہنوں کو پڑھانا چاہتے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد کوئی سمجھانے والا نہیں تھا۔ چچا نے کہا کہ دو بھائی ہیں وہ پڑھ لیں گے تم بہنوں کو پڑھنے کی کیا ضرورت ؟تم لوگوں نے کون سی نوکری کر کے گھر چلانا ہے؟ روٹی ہانڈی ہی کرنی ہے۔۔ لیکن جب میں نے اسکول میں پڑھنا شروع کیا اور میرے اساتذہ نے میری تعریف کی تو بھائی نے کہا کہ اب ہم تمہیں ڈاکٹر ضرور بنائیں گے، بس تم دل لگا کر پڑھتی رہو۔“

ٹیچر سندھو جمانی کہتی ہیں ”اس علاقے میں خواتین ٹیچرز کی کمی کی وجہ ایک تو خواتین کا اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کرنا ہے اور جو خواتین پڑھانا چاہتی ہیں، وہ دُور اسکول ہونے اور کچے راستوں کے سبب تھر پارکر کے اسکولوں میں نوکری کرنے سے گھبراتی ہیں“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close