پاکستان میں آنے والی نئی گاڑیوں کے سسٹم ہم کتنا جانتے ہیں؟

حسنین جمال

ہم لوگ مختلف گاڑیوں کے ریویوز دیکھتے ہیں یا کسی نئی گاڑی کے بارے میں بات کر رہے ہوتے ہیں تو بعض اوقات کچھ الفاظ ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں

جدید کاروں میں کئی ایسے نئے نظام شامل ہیں جو پہلے گاڑیوں میں نہیں ہوتے تھے یا پھر بہت لگژری گاڑیوں میں پائے جاتے تھے۔ ٹریکشن کنٹرول، پارکنگ اسسٹ، اے ای بی، بلائنڈ سپاٹ ڈیٹیکشن یا آئسوفکس سمیت بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کے بارے میں اکثر ہمیں پتہ نہیں ہوتا

آج ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اکثر بولے جانے والے ان الفاظ کا مطلب کیا ہے:

لین اسسٹ (Lane Assist)

سڑک پر آپ کی گاڑی کو لین کے اندر رکھنے کی کوشش کرنے والا سسٹم تاکہ غیر محسوس طریقے سے لین تبدیل ہو تو آپ الرٹ ہو جائیں اور ایکسیڈنٹ نہ ہو

بلائنڈ اسپاٹ ڈیٹیکشن (Blind spot Detection)

سائیڈ والے شیشوں سے آپ جب گاڑی چلاتے ہوئے پیچھے دیکھتے ہیں تو کچھ زاویے ایسے ہوتے ہیں، جہاں موجود گاڑی یا موٹرسائیکل آپ کو نظر نہیں آتے۔ یہ سسٹم خاص طور پہ گاڑی موڑتے ہوئے یا لین تبدیل کرتے ہوئے آپ کو الرٹ کر دیتا ہے کہ جہاں آپ نہیں دیکھ سکتے وہاں کوئی موجود ہے

ہل اسسٹ (Hill Assist)

مری یا سوات میں بعض اوقات ہوٹلوں کی پارکنگ ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں گاڑی کھڑی کرنے کے لیے آپ کو مشکل قسم کی چڑھائیاں چڑھنی ہوتی ہیں۔ آپ گاڑی روک کے پہلے گئیر سے اٹھاتے ہیں لیکن اس بیچ بریک والا پاؤں بھی نہیں ہٹا سکتے۔ تو اس بریک والے جھنجھٹ سے بچنے اور گاڑی کو خود بخود پیچھے جانے سے بچانے کے لیے ہل اسسٹ سسٹم آپ کی مدد کرتا ہے

ٹریکشن کنٹرول، اسٹیبلیٹی کنٹرول (Traction Control)

پھسلن والے راستوں پہ اگر آپ یہ سسٹم آن کر دیں تو انجن خودکار طریقے سے بریکوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے آپ کو گاڑی سیدھی رکھنے میں مدد دے گا

پارکنگ اسسٹ (Parking Assist)

لیزر یا ریڈار ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے والا یہ سسٹم ایسا ہے کہ گاڑی پارک کرتے ہوئے اگر کہیں حادثے کا امکان ہو گا تو یہ پہلے سے آپ کو الرٹ کر دے گا کہ روک لیں اور دوبارہ اینگل بنا کے کوشش کریں

کروز کنٹرول (Cruise Control)

یہ سسٹم ڈرائیور کو گاڑی کی سپیڈ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے اور آپ ایکسیلیٹر سے پاؤں ہٹا کے تھوڑا ریلیکس کر سکتے ہیں۔ موٹروے پہ کافی مددگار رہتا ہے۔ اگر گاڑی میں موجود نہیں ہے تو15 سے 20 ہزار روپے میں الگ سے لگوایا جا سکتا ہے اور مینوئل گاڑیوں میں بھی لگ جاتا ہے

ایڈاپٹیو کروز کنٹرول (Adaptive Cruise Control)

عام کروز کنٹرول اس وقت کام کرنا بند کر دیتا ہے جب آپ بریک لگا لیں۔ ایڈاپٹیو کروز کنٹرول میں یہ سہولت موجود ہوتی ہے کہ آگے والی گاڑی سے فاصلہ کم ہو جائے تو وہ خود گاڑی کی اسپیڈ ایڈجسٹ کر لیتا ہے اور آپ کو بریک نہیں لگانا پڑتی

ٹریفک جیم اسسٹ (Traffic Jam Assist)

آپ کی گاڑی آٹومیٹک ہے اور رش میں پھنسے ہوئے ہیں تو بار بار آگے بڑھنے کے لیے ایکسیلیٹر دبائیں گے لیکن بریک پر بھی پاؤں لے جانا پڑے گا۔ ٹریفک جیم اسسٹ کی سہولت یہ ہے کہ آپ جیسے ہی ایکسیلیٹر چھوڑیں گے، بریک خود ہی لگ جائے گی، آپ کو دوبارہ بریک نہیں لگانا پڑے گی۔ بعض گاڑیوں میں یہ سسٹم ایڈاپٹیو کروز کنٹرول کی طرح مکمل آٹومیٹک ہوتا ہے اور آپ پاؤں ہٹا کے آرام سے بیٹھ بھی سکتے ہیں، گاڑی ریڈار کی مدد سے خود آہستہ آہستہ ٹکرائے بغیر آگے ہوتی رہتی ہے

فارورڈ کولیژن اسسٹ (Forward Collision-avoidance Assist)

گاڑی چلاتے ہوئے اگر سامنے کوئی بندہ اچانک آ جائے یا کوئی دوسری چیز ہو تو آپ بریک مار سکیں یا نہیں، آگے لگے ان بلٹ کیمرے اور ریڈار کی مدد سے گاڑی خود بخود بریک مار دیتی ہے۔ یہ سسٹم آپ کو بہت سے خطرناک ایکیسڈنٹس سے بچا سکتا ہے

سن روف، پینورامک سن روف (Sunroof, Panoramic Sunroof)

نارمل سن روف تو آپ جانتے ہیں، وہی جس میں سے بچے اکثر چلتی گاڑی میں نکلے نظر آتے ہیں۔ پینورامک سن روف وہ چیز ہوتی ہے جس میں بچے پچھلی سیٹ پہ ہی کھڑے ہو کے سر باہر نکال سکتے ہیں، انہیں اگلی سیٹوں کے درمیان نہیں آنا پڑتا۔ مختصراً، پینورامک سن روف بڑی ہوتی ہے اور اگلی پچھلی دونوں سیٹوں کے لیے ہوتی ہے

ہائی بیم اسسٹ (High Beam Assist)

سامنے کوئی گاڑی آ جائے تو یہ سسٹم خودکار طریقے سے آپ کی ہیڈلائٹس کو نیچے کر دیتا ہے تاکہ اگلے ڈرائیور کی آنکھیں چندھیا نہ جائیں

اسپیڈ لمٹ اسسٹ (Speed Limit Assist)

یہ سسٹم سڑک پہ اسپیڈ لمٹ کے نشانات خود دیکھ کر ڈرائیور کو الرٹ کر دیتا ہے کہ میاں رفتار آہستہ کر لو

رین سینسنگ وائپرز (Rain Sensing Wipers)

بارش ہوتے ہی وائپر خود بخود چل پڑتے ہیں اور بارش کی رفتار کے حساب سے اپنی سپیڈ خود دیکھتے ہیں، ڈرائیور کو ہاتھ نہیں مارنا پڑتا زیادہ، ہاں بعض اوقات اتنا نازک سسٹم بھی ہوتا ہے کہ چھینٹا پڑا نہیں اور وائپر چلنے لگ جاتے ہیں

کلائمیٹ کنٹرول (Climate Control)

ہاتھ سے اے سی آن آف کرنے کی بجائے آپ ٹمپریچر سیٹ کر دیتے ہیں اور گاڑی کے اندر درجہ حرارت اسی حساب سے برقرار رہتا ہے

آئسوفکس (Isofix)

بین الاقوامی طور پہ منظور شدہ ایسے ہُک جو بچوں کی حفاظتی سیٹ گاڑی میں پچھلی طرف فکس کرنے میں مدد دیں۔ آئسو فکس کی سہولت نہ ہو تو پچھلی سیٹ بیلٹ پہ انحصار کرنا پڑتا ہے جو بچوں کے لیے اتنی محفوظ بہرحال نہیں ہوتی

امموبیلائزر (Immobilizer)

گاڑی کی ایسی چابی جس میں چھوٹا سا ٹرانسمیٹر لگا ہوتا ہے اور اس چابی کے علاوہ کوئی بھی اور چابی لگائیں تو گاڑی سٹارٹ نہیں ہوتی۔ کچھ حد تک یہ سسٹم گاڑی چوری ہونے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے

کاربن فٹ پرنٹ (Carbon Footprint)

نئی گاڑیاں چونکہ ایسی بنائی جاتی ہیں کہ ان سے ماحولیاتی آلودگی کم سے کم ہو اس لیے کسی بھی گاڑی سے پیدا کردہ آلودگی کی مقدار کاربن فٹ پرنٹ کہلاتی ہے

ڈی آر ایل (DRL)

ایسی لائٹس، جو دن میں بھی خود بخود روشن رہتی ہیں تاکہ دور سے گاڑی کی وزیبیلٹی بہتر بنائی جا سکے۔ یہ لائٹیں کم طاقت خرچ کرنے والی ہوتی ہیں

ایل ای ڈی لائٹس (LED Lights)

پہلے گاڑیوں کی ہیڈ لائیٹ میں جو بلب (ہیلوجن لائٹس) لگے ہوتے تھے وہ بیٹری کی پاور زیادہ کھاتے تھے، جنریٹر پہ بھی خواہ مخواہ کا لوڈ ہوتا تھا۔ ایل ای ڈی لائٹس چونکہ ان سے زیادہ روشنی دیتی ہیں اور بجلی بھی ان بلبوں کی نسبت بہت ہی کم کھاتی ہیں اس لیے نئی گاڑٰیوں میں زیادہ تر ایل ای ڈی لائٹس ہی استعمال کی جاتی ہیں اور انہیں گاڑیوں کا اہم فیچر سمجھا جاتا ہے

ایسے الفاظ جو گاڑیوں کی ڈکشنری میں اہم ہیں:

انٹیریر ٹرم (Interior Trim)

لکڑی، سٹیل، فائبر، لوہا، ایلمونیم، پلاسٹک یا کوئی بھی ایسا میٹریل جو گاڑی کے اندر کیبن کی خوبصورتی سے تعلق رکھتا ہو جیسے ڈیش بورڈ ڈیزائن وغیرہ، تو اسے انٹیریر ٹرم کہتے ہیں

اپ ہولسٹری (Upholstery)

سادہ ترین زبان میں گاڑی کی پوشش یعنی سیٹ کورز وغیرہ کو اپ ہولسٹری کہتے ہیں

ٹرانسمیشن (Transmission)

گاڑی میں موجود گئیر سسٹم کو ٹرانسمیشن کہتے ہیں۔ آٹومیٹک گاڑی یا مینوئل کسی بھی گاڑی میں گئیرز کے نظام کو اس لفظ سے بیان کرتے ہیں۔ باقی جتنے گئیر ہوتے ہیں اسے ’سپیڈ‘ کہا جاتا ہے۔ پانچ گئیرز والی گاڑی فائیو اسپیڈ ٹرانسمیشن، آٹھ والی ایٹ سپیڈ ٹرانسمیشن وغیرہ

گراؤنڈ کلیرنس (Ground Clearance)

نئی گاڑی جب کسی سپیڈ بریکر پہ اچانک نیچے سے لگ جائے اور ٹھک کی آواز دل کے عین اوپر جا کے لگے، اس وقت کہا جاتا ہے کہ اس گاڑی کی گراؤنڈ کلیرنس کم ہے۔ زمین سے گاڑی کی اونچائی اس کی گراؤنڈ کلیرنس کہلاتی ہے۔

بشکریہ: انڈپینڈنٹ اردو

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close