کالاشی خاتون نے مونال نامی نایاب ترین تیتر کی جان بچا لی

ویب ڈیسک

خیبرپختونخوا (کے پی کے) کے ضلع چترال کی ایک خاتون نے زخمی مونال تیتر کی جان بچانے کے بعد اسے محکمہ جنگلی حیات (وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ) کے اہلکاروں کے حوالے کیا ہے

تفصیلات کے مطابق ضلع چترال کی رمبور وادی سے تعلق رکھنے والی کالاشی خاتون جہان گلو نے 16 فروری کو جنگلی پرندے مونال تیتر کو عقاب کے حملے سے بچا کر زخمی حالت میں ریسکیو کیا تھا

کالاشی خاتون نے زخمی پرندے کی مرہم پٹی کے بعد وائلڈ لائف کے اہلکاروں کو پرندے کے متعلق آگاہ کیا، جس کے بعد متعلقہ اہلکار خاتون کے گھر پہنچے اور پرندے کو طبی امداد کے لیے وائلڈ لائف ویٹرنری سنٹر لے گئے

واضح رہے کہ اس سے قبل چترال کے ایک مقامی نیوز ایجنسی ’اشپاتا نیوز‘ سے خبر شائع ہوئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ”وادی رومبور کے کلاشہ خاندان کے ایک فرد نے ایک جنگلی مور کو اس وقت پکڑ لیا جب باز اس کو شکار کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کالاشہ فرد نے جنگلی مور کو باز کی گرفت سے آزاد کرا لیا اور اپنے گھر لے آئے۔ اسی دوران لوگوں نے یہ افواہ پھیلائی کہ مذکورہ شخص نے مور کو پکڑ کر گھر میں بند کر دیا ہے تو محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار مذکورہ شخص کے گھر آگئے ۔ اس شخص نے یہ مور ان کے حوالے کر دیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ اسے اپنے آفسر کے پاس لے کر جا رہے ہیں۔ لیکن پتہ نہیں ہے کہ کہاں لے کر گئے ہیں۔ ابھی تک وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے آفیشل پیچ پر اس کا ذکر نظر نہیں آیا ہے“

اس کے بعد شام پانچ بجے کے قریب ڈپٹی کمیشنر لوئر چترال کے آفیشنل فیس بک پیچ پر ایک خبر شئیر کی گئی جو کچھ یوں تھی ”ایک زخمی مونال تیتر کو 16 فروری 2023 کی شام رمبور کالاش وادی میں مقامی کالاش قبیلے کے افراد نے بچا کر محکمہ وائلڈ لائف کے حوالے کیا تھا۔ عملے کے رمبور لائیو اسٹاک ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد زخمی پرندے کو چترال گول نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن آفس لے جایا گیا تھا“

اب کالاشی خاتون کے اس ذمہ دارانہ اقدام کو نہ صرف وائلڈ لائف نے سراہا بلکہ سوشل میڈیا پر خاتون کی تعریفیں بھی ہونے لگیں

بعد ازاں ہفتے کے روز محکمہ وائلڈ لائف چترال گول نیشنل پارک کے ڈی ایف او الطاف حسین خود خاتون کے گھر گئے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ کے ساتھ نقد انعام بھی دیا

مقامی خاتون جہان گلو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنگل میں جاتے ہوئے میں نے یہ پرندہ دیکھا جس کے اوپر عقاب منڈلا رہا تھا۔ میں نے لپک کر پرندے کو اٹھا لیا، جس کے بعد عقاب چلا گیا

انہوں نے کہا ’مجھے علم نہیں تھا کہ یہ اس قدر نایاب پرندہ ہے۔‘

محکمہ ماحولیات و جنگلی حیات کے ترجمان لطیف الرحمان نے بتایا کہ ’زخمی مونال تیتر کو طبی امداد دینے کے بعد نیشنل پارک وائلڈ لائف ڈویژن آفس لے جایا گیا تھا اور اب چترال کے سینیئر ویٹرنری ڈاکٹر اس کا مناسب علاج کر رہے ہیں‘

انہوں نے بتایا ’عقاب کے حملے کی وجہ سے جنگلی پرندہ زخمی ہے اور اس کی حالت نازک ہے۔ پرندے کی مکمل صحت یابی کے بعد ہی اسے قدرتی مسکن میں واپس چھوڑا جائے گا‘

دوسری جانب ڈی ایف او چترال گول نیشل پارک الطاف حسین کا کہنا تھا ’یہ پرندہ پہلے ہی معدومیت کے خطرے کا شکار ہے۔ اگر اسے تحفظ نہ دیا گیا تو اس کی نسل چترال میں ختم ہو جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’کالاش کے لوگوں نے جنگلی حیات سے محبت اور ہمدردی کی مثال قائم کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ بھی جنگلی حیات کا خیال رکھا جائے گا‘

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ کلاشہ خاندان نے خود کو ایک ذمہ دار شہری ثابت کیا اور وائلڈ لائف کے کارکنوں کے حوالے کر دیا۔ خوبصورت مور کو محکمہ وائلڈ لائف چترال کو بھیج دیا گیا ہے اب یہ جنگلی حیات کی ذمہ داری ہے کہ وہ چترال نیشنل گول پارک میں اس مور کو آزاد کرے

واضح رہے کہ مونال تیتر یا مونال سرخاب (مونال فیزنٹ) دلکش رنگوں والا نایاب جنگلی پرندہ ہے، جس کا مسکن گھنے جنگل ہوتے ہیں۔ یہ چمکدار رنگوں کا حامل حسین پرندہ شمالی پاکستان کے ہمالیہ سے تعلق رکھنے والے خطوط پر ہوتا ہے- یہ پرندہ چترال کے سرحدی علاقوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ یہ اپنے جسم پر موجود انگنت چمکدار رنگوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے تمام پرندوں میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت اس پرندے کا شکار جرم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close