حیدرآباد میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی آف لائن بائیک سروس

ویب ڈیسک

یوں تو پاکستان اس وقت بے روزگاری کے دیو کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے اور ہر طرف نوجوان اس کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ حالات انتہائی کٹھن ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ روزگار کو اب سرکاری نوکری اور ملازمت کے تنگ فریم سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں ارادہ اگر پختہ ہو تو راہ نکل ہی آتی ہے

ایسی ہی ایک مثال حیدرآباد میں دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں چند نوجوان موٹر سائیکل سوار مختلف بس اسٹاپوں پر رکتے ہیں تاکہ وہ سواریاں بٹھا سکیں۔ وہ اپنے اس غیر رسمی کاروبار کے خود مالک ہیں اور یہ ’بائیکیا‘ یا ’کریم‘ جیسے باضابطہ کاروباروں کے ماتحت نہیں ہوتے

اس بائیک سروس کا آغاز کوٹری کے رہائشی تینتیس برس کے اسد زنگیجو نے 2020ع میں کیا۔ اس وقت وہ حیدرآباد میں بدین بس اسٹاپ پر پولیو ورکر کے طور پر تعینات تھے، جس سے وہ دن میں چار سو روپے کی معمولی رقم ہی کما پاتے تھے

اسد زنگیجو اس سفر کی کہانی کچھ یوں بیان کرتے ہیں ”کورونا وبا پھیلنے کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن لگا دیا، جس نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ میری روز کی کمائی میرے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی تھی۔۔ 2016ء سے 2020ء تک میری تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تو میں نے بطور پولیو ورکر اپنی نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور اس کے بجائے مسافروں کے لیے آف لائن بائیک سروس کا آغاز کیا“

اسد زنگیجو نے یہ کاروبار خود شروع کیا ہے کیونکہ وہ کریم اور بائیکیا جیسی نامی گرامی کمپنیوں کو کمیشن دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے ان ایپلیکشنز کے بجائے حیدرآباد کے عوام کے لیے ایک سستا متبادل متعارف کروایا ہے۔ وہ اپنی بائیک لیے بس اسٹاپ پر انتظار کرتے ہیں اور مسافروں کو سستی سواری فراہم کرتے ہیں۔ اسد زنگیجو کی دیکھا دیکھی کچھ ہی دنوں میں ان جیسے دیگر بائیک سوار بھی بس اسٹاپوں پر کھڑے ہونے لگے

آج وادھو واہ بس اسٹاپ کے باہر بیس موٹر سائیکل سوار موجود ہیں۔ کچھ یہ کام جزوقتی طور پر کر رہے ہیں جبکہ کچھ نے اسے اپنا مستقل پیشہ بنا لیا ہے

وہ لوگ جو رکشہ یا ٹیکسی کے اخراجات نہیں برداشت کر سکتے ، وہ مناسب کرائے اور معقول سروس کی وجہ سے ان موٹر سائیکلوں کا انتخاب کرتے ہیں، جس سے ان کے وقت کی بھی بچت ہوتی ہے

اس غیر رسمی کاروبار کو بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ بائیک سروس چلانے والے شکایت کرتے ہیں کہ انہیں پولیس کی وجہ سے متعدد مسائل پیش آتے ہیں۔ زیادہ تر پولیس حکام بائیک کے کاغذات اور لائسنس یا آن لائن کمپنی کا اجازت نامہ طلب کرتے ہیں جبکہ پولیس واقف ہے کہ یہ ایک آف لائن سروس ہے جس کے لیے ایپلیکیشن کی ضرورت نہیں

اسد زنگیجو نے شکایت کی کہ ”جب ہم سواری لےکر نیا پل، حیدر چوک اور قاسم چوک جاتے ہیں تو پولیس اہلکار ہمیں کسی وجہ کے بغیر ہی روک لیتے ہیں۔ ہم کسی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے لیکن پھر بھی پولیس ہمیں پریشان کرتی ہے“

انہوں نے بتایا ”وہ لوگ یا تو ہمیں پانچ سو سے زائد کا چلان کرتے ہیں یا پھر ہم سے ’چائے پانی‘ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب ہم انہیں سو روپے رشوت دیتے ہیں تب ہی وہ ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اگر کسی دن بائیک سوار کا سامنا کسی پولیس اہلکار سے ہوجاتا ہے تو اس دن تمام مطلوبہ کاغذات ہونے کے باوجود اسے اپنی کمائی کا بڑا نقصان ہوتا ہے“

آف لائن بائیک سروس فراہم کرنے والوں کی راہ میں صرف پولیس ہی رکاوٹ نہیں بنتی۔ شہریوں کو مناسب قیمت پر سواری فراہم کرنے کا ذریعہ ہونے کے باوجود رکشہ ڈائیور اس آف لائن بائیک سروس سے ناخوش ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے گاہک کم ہورہے ہیں

چند رکشے والے ان بائیک سروس فراہم کرنے والوں کو دھمکاتے ہیں اور ان کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں جبکہ ایک رکشہ ڈرائیور نے تو ایک شخص کی موٹر سائیکل ہی قریبی دریا میں پھینکنے کی دھمکی دے دی تھی۔ جب یہ بائیک سروس والے پولیس کے پاس اپنی شکایات لےکر جاتے ہیں تب وہ عموماً ان کی شکایات پر توجہ ہی نہیں دیتے

بائیک سروس فراہم کرنے والے گروپ کے جزوقتی رکن اور رکشہ ڈرائیورز کے عداوتی رویے سے پریشان ستائیس سالہ احمد سومرو کا کہنا ہے ”ہمیں کسی رکشہ ڈرائیور سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کے رکشے میں بائیک کے مقابلے زیادہ مسافر بیٹھ سکتے ہیں۔ فیملیز بائیک پر بیٹھنا نہیں چاہتیں اس لیے وہ عموماً رکشوں کو ترجیح دیتی ہیں۔ ہماری سواریاں محدود ہیں اور ہمارے کام کے اوقات بھی مخصوص ہوتے ہیں۔ ہم صبح آتے ہیں اور رات میں چلے جاتے ہیں۔ ہمارا اور ان کا شاید ہی کوئی مقابلہ ہے۔ اسکول جانے والے طلبہ بھی ان کے صارف ہیں، ان کے مقابلے میں ہمارے صارفین کی تعداد کافی محدود ہے“

اسکول جانے والے طلبہ، رکشہ والوں کے اہم صارفین ہیں
اس کام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ چونکہ یہ آف لائن بائیک سروس مسافروں کو مخصوص بس اسٹاپوں سے بٹھاتی ہے اور انہیں اپنے گاہکوں کو لینے کے لیے کسی الگ جگہ پر بائیک چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے اس سے ایندھن کی کھپت کم ہوتی ہے۔ عموماً وہ اپنے روز کے گاہکوں کو اپنا فون نمبر دے دیتے ہیں تاکہ انہیں جب بھی سواری کی ضرورت ہو تو وہ ان سے رابطہ کرسکیں

اس سروس کو استعمال کرنے میں صنف رکاوٹ بن جاتی ہے۔ مرد تو اس آف لائن بائیک سروس کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم خواتین رکشہ استعمال کرنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں

پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کرائیوں میں اضافے کی وجہ سے آف لائن بائیک سروس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے

اس آف لائن سروس کو روزانہ استعمال کرنے والے راشد لغاری کہتے ہیں ”مہنگائی کی حالیہ لہر نے لوگوں کی زندگیوں کو بےحد مشکل بنادیا ہے، بالخصوص ان لوگوں کو، جو محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولت میسر نہیں ہے۔ حکومتِ سندھ نے پیپلز بس سروس کا آغاز کیا ہے لیکن وہ گنجان آبادی والے اس شہر میں ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اس آف لائن بائیک سروس کے آغاز سے پہلے میں اپنے کام پر جانے کے لیے رکشے کا استعمال کرتا تھا۔ یہ بائیک اس کا سستا متبادل ہے۔ اگر میں بائیک کے ذریعے اپنی منزل تک سو روپے میں پہنچ سکتا ہوں تو پھر میں رکشے پر دو سو روپے کیوں خرچ کروں؟“

پورا دن کام کرنے کے بعد ان بائیک سواروں کو دن کے دا سے بارہ مسافر ملتے ہیں، جس سے وہ تقریباً پندرہ سو روپے کمالیتے ہیں۔ وہ ان کمپنیوں کے ضابطوں پر عمل درآمد کرنے کے پابند بھی نہیں ہوتے جو آن لائن بائیک سروسز فراہم کرتی ہیں، اس وجہ سے ان کی رائے ہے کہ یہ سروس انہیں خود مختار بناتی ہے

اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انہیں کمپنی کو کسی قسم کا کوئی کمیشن ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ جو کچھ کماتے ہیں، وہ انہیں کے پاس رہتا ہے۔ تاہم اس کی چند خامیاں بھی ہیں۔ اگر کوئی موٹرسائیکل سوار کسی حادثے کا شکار ہوکر زخمی ہوجاتا ہے تو ان کے پاس کسی قسم کی میڈیکل اور بائیک انشورنس نہیں ہوتی

بہرحال لگ رہا ہے کہ اس طرح کے منصوبے کئی علاقوں میں شروع کیے جارہے ہیں۔ سینیئر صحافی اور فیلڈ رپورٹر اسحٰق منگریو نے نشاندہی کی کہ یہ حیدرآباد میں ایک نیا رجحان ہے۔ اس کے علاوہ نارو، چونڈکو اور خیرپور میں موٹرسائیکل کو ٹیکسی کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے

عوام کو سستی ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے میں ریاست کی نااہلی اور ناکامی کے پیشِ نظر یہ جاننا بہت آسان ہے کہ اس طرح کی سروسز آخر کیوں مقبول ہو رہی ہیں۔

نوٹ: اس رپورٹ کی تیاری میں ڈان کے ای او ایس میگزین میں شائع ہونے والے اختر حفیظ کے مضمون سے مدد لی گئی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close