ملیر: سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کا قدیم آبادی کی آبائی زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کا اعلان

نیوز ڈیسک

ملیر کے قدیم باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے، جنہیں سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں کے اتحاد کی حمایت حاصل ہے، نے ضلع ملیر میں شہر کے مضافات میں ایک احتجاجی کیمپ لگایا تاکہ حکام کی جانب سے ایجوکیشن سٹی پروجیکٹ کے نام پر ان کی 100 ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کرنے کے اقدام کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔

انہیں خدشہ ہے کہ زمین پر موجود پھلوں کے باغات، جن میں پانچ ہزار سے زیادہ درخت ہیں اور مختلف فصلیں تباہ ہو جائیں گی

سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک مقامی ضلعی اہلکار مکینوں سے اپنی زمینیں خالی کرنے کے لیے کہہ رہا ہے، لیکن مالکان/مکینوں نے مزاحمت کی، اور ان میں سے ایک کو مایوسی اور غصے میں اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا گیا۔ پس منظر میں بھاری مشینری دیکھی جا سکتی تھی۔ ایک بوڑھی کمزور عورت نے بھی اہلکار سے رابطہ کیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی دوران ایک وردی میں ملبوس پولیس اہلکار نظر آیا، جو بظاہر امن و امان کی صورتحال سے خوفزدہ ہو کر اہلکار کے کان میں کچھ سرگوشی کر رہا تھا

کئی سول سوسائٹی گروپس کی تنظیم سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس (SIRA) کے عہدیدار حفیظ بلوچ نے بتایا کہ جمعہ کو ایک اسسٹنٹ کمشنر انسداد تجاوزات پولیس کے ہمراہ آیا اور سو ایکڑ زمین کے مالک اکرم جوکھیو کو زمین خالی کرنے کا حکم دیا، جہاں پھلوں کے درخت اور فصلیں لگی ہوئی ہیں

انہوں نے کہا کہ مذکورہ افسران کے پاس زمینوں کے بارے میں کسی اتھارٹی/ادارہ کی طرف سے کوئی حکم نامہ نہیں ہے۔ ملیر انتظامیہ کے اہلکاروں نے اکرم جوکھیو کو تین دن کے اندر زمین خالی کرنے کو کہا۔ بصورت دیگر وہ پیر (آج) اس پر موجود ہر چیز کو گرا دیں گے

انہوں نے کہا کہ اکرم جوکھیو کے پردادا نے یہ زمین برطانوی دور میں حاصل کی تھی جبکہ ان کے دادا نے 1964 میں لیز پر حاصل کی تھی۔ ان کے پاس ایسی تمام سرکاری دستاویزات/لیز موجود ہیں، اس کے علاوہ وہ باقاعدہ لینڈ ٹیکس بھی ادا کر رہے ہیں

حفیظ بلوچ نے یاد دلایا کہ 1988 میں حکومت نے علاقے میں نو ہزار ایکڑ اراضی پر ‘ایجوکیشن سٹی’ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ بعد ازاں اس نے مختلف صحت اور تعلیمی اداروں کو زمین الاٹ کی۔ تاہم، ان میں سے دو ادارے ہسپتال یا اسکول/کالج بنانے کے بجائے فصلیں کاشت کر رہے تھے

حفیظ بلوچ نے الزام لگایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی اکرم جوکھیو کی ملکیتی زمین پر اپنا انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی اور ڈی ایچ اے سٹی نے ہزاروں ایکڑ اراضی پر پہلے ہی قبضہ کر چکے ہیں اور ایجوکیشن سٹی کا موجودہ منصوبہ مقامی آبادی کو بے گھر کرنے اور ان کی فصلوں اور باغات کو تباہ کرنے کا ایک اور اقدام ہے

سندھ انڈیجینس رائٹس الائنس کی جانب سے اکرم جوکھیو و دیگر متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قائم کیے گئے احتجاجی کیمپ میں آج صبح ہی سے ملیر کی مختلف برادریوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا

احتجاجی کیمپ میں لوگوں کی بڑی تعداد اس عزم کے شریک تھی کہ زمین پر قبضے کے حکومتی اقدام کے خلاف انسانی زنجیر بنا کر اس کی حفاظت کی جائے گی

حفیظ بلوچ نے اپنے فیسبک پوسٹ میں اس حوالے سے بتایا کہ ملیر کی بقا کے لیئے ابھی تک ملیر کے لوگ تیار بیٹھے ہوئے ہیں، یہ سیکڑوں کی تعداد میں لوگ صرف اکرم جوکھیو کے لیئے ہی نہیں بلکہ اپنی دھرتی سے وفا کا عہد دہرانے آئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close