آپ سگریٹ نہیں پیتے۔۔ لیکن ممکن ہے آپ پھر بھی روزانہ پندرہ سگریٹ پی رہے ہوں!

ویب ڈیسک

ممکن ہے کہ آپ سگریٹ نوشی نہ کرتے ہوں لیکن اس کے باوجود بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روزانہ پندرہ سگریٹ پی رہے ہوں۔۔ ایسا ہونے کی وجہ کووڈ-19 کے باعث اختیار کی گئی تنہائی یا لوگوں سے کم میل جول ہو سکتا ہے

امریکی محکمہ صحت کے مطابق کووڈ-19 کے بعد سے لوگوں میں سماجی رابطوں میں مسلسل کمی کا انکشاف ہوا۔ محکمہ نے کہا ”یہ مسئلہ ایک دن میں پندرہ سگریٹ پینے جتنا خطرناک ہے“

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل سرجن وویک مورتی نے تنہائی کو ’وبا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی نصف آبادی اس وبا کا شکار ہے

سرجن جنرل وویک مورتی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان لاکھوں امریکی شہریوں میں شامل ہیں، جنہوں نے خود ’تنہائی کے گہرے احساس‘ کا تجربہ کیا

انہوں نے کہا ”ہم جانتے ہیں کہ تنہائی ایک عام احساس ہے، جس کا بہت سے لوگ تجربہ کرتے ہیں، یہ بھوک اور پیاس کی طرح ہے، جو اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ہمیں زندگی جینے کے لیے کسی چیز کی ضرورت ہے“

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں اس حوالے سے آگاہی کے لیے ایک ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے ”سماجی تنہائی کو اتنا ہی سنجیدگی سے لیا جائے، جتنا ہم موٹاپے اور منشیات جیسے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہیں“

ایڈوائزری میں مزید بتایا گیا ہے ”جو لوگ تنہائی کا شکار ہیں ان کے موت کے امکانات تیا فی صد بڑھ جاتے ہیں“

سماجی رابطے میں کمی سے دفتر کے کام اور تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے

یہ مسئلہ کووڈ-19 کی وجہ سے بڑھ گیا ہے، کیونکہ کووڈ-19 کے دوران اسکول اور دفتر بند کر دیے گئے تھے اور انسانوں نے اپنے سماجی سرگرمیوں اور رابطوں میں کمی کر دی تھی

رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالہ دیا گیا کہ جون 2019 سے جون 2020 کے دوران لوگوں کے سماجی رابطوں میں اوسطاً سولہ فی صد کمی واقع ہوئی ہے

تنہائی کی وبا خاص طور پر پندرہ سے چوبغ سال کی عمر کے نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہے، ان نوجوانوں میں دوستوں کے ساتھ گزارے ہوئے وقت میں ستر فی صد کمی دیکھی گئی

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تنہائی سے، قبل از وقت موت کا خطرہ تقریباً تیس فی صد بڑھ گیا ہے، اس کے علاوہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جو لوگ سماجی تعلقات نہیں رکھتے، ان میں فالج اور دل کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے

تحقیق کے مطابق تنہائی سے ڈپریشن، انزائٹی اور ڈیمنشیا جیسے مسائل میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے

امریکی جنرل سرجن نے کوئی ایسا ڈیٹا فراہم نہیں کیا، جس سے یہ واضح ہو کہ کتنے لوگ تنہائی سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں

انہوں نے بتایا کہ لوگوں میں تنہائی سے نمٹنے اور اس حوالے سے پالیسی کو تبدیل کرنے اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے

خیال رہے کہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرین جین پیئر کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری بائیڈن انتظامیہ کی ذہنی صحت سے نمٹنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے، مئی امریکا میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کا مہینہ ہے

رپورٹ کے مطابق تنہائی میں اضافے سے متعلق ایڈوائزری کا مقصد آگاہی پھیلانا ہے لیکن اب تک اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے

اس سے نمٹنے کے لیے وویک مورتی نے ثقافتی اور پالیسی ردعمل کو تبدیل کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیا ہے

وویک مورتی کی حکمت عملی کے چھ ستون ہیں، جن میں کمیونٹیز میں سماجی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی کوششیں شامل ہیں اور جزوی طور پر صحت عامہ کے نظام کو استعمال کر کے یہ مقصد حاصل کرنا ہے

تنہائی سے نکلنے کے لیے انسان کو اپنی سرگرمیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، امریکی جنرل سرجن نے لوگوں کو کمیونٹی گروپس میں شامل ہونے کا مشورہ دیا تاکہ وہ مختلف لوگوں سے ملاقات کرسکیں اور نئے دوست بنا سکیں

اس کے علاوہ جب آپ دوستوں کے ساتھ ہوں تو اپنے فون کو بند کر دیں، اس کے علاوہ فیملی کے لیے وقت نکالیں اور مہینے میں ایک بار دوستوں یا فیملی کے ساتھ پکنک پر جائیں، اس دوران سوشل میڈیا کا کم سے کم استعمال کریں

ٹیکنالوجی نے تنہائی جیسے سنگین مسئلے میں اضافہ کر دیا ہے، رپورٹ میں ایک تحقیق کا حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ جو لوگ روزانہ دو گھنٹے یا اس سے زائد وقت میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں ان میں سماجی طور پر تنہائی جیسے مسئلے میں دگنا اضافہ ہوسکتا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close