اب تک دریافت ہونے والا چمکدار سیارہ، کائنات کا سب سے بڑا ’آئینہ‘ ہے!

ویب ڈیسک

بادل بہت زیادہ سورج کی روشنی کو منعکس کر سکتے ہیں۔ زمین کے بادل تقریباً 30 فیصد سورج کی روشنی کو واپس خلا میں منعکس کرتے ہیں جب کہ زہرہ، جو مکمل طور پر بادلوں میں ڈھکا ہوا ہے، 75 فیصد کی عکاسی کرتی ہے، جو اسے ہمارے رات کے آسمان میں سب سے روشن چیز بناتی ہے۔ اب، ماہرین فلکیات نے ایک ایسا سیارہ دریافت کیا ہے

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ گرم دنیا جہاں دھاتی بادلوں سے ٹائٹینیم کے قطرے نکلتے ہیں، ہمارے نظامِ شمسی سے باہر اب تک کا سب سے زیادہ روشنی منعکس کرنے والا سیارہ ہے

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یورپ کی خلائی دوربین چیوپس کے نئے مشاہدات کے مطابق زمین سے 260 نوری سال سے زیادہ دور یہ عجیب و غریب دنیا اپنے ستارے کی 80 فیصد روشنی کو منعکس کرتی ہے، جو اسے اب تک کا سب سے چمکدار سیارہ، یا کائنات کا سب سے بڑا معروف ’آئینہ‘ بناتا ہے

یہ زہرہ کی طرح پہلا بیرونی سیارہ ہے، جو چاند کے بعد ہماری رات کے آسمان میں سب سے زیادہ روشن چیز ہے

سال2020 میں پہلی بار دریافت ہونے والا نیپچون سائز کا سیارہ ایل ٹی ٹی 9779 بی صرف 19 گھنٹوں میں اپنے ستارے کے گرد چکر مکمل کرتا ہے

چونکہ یہ بہت قریب ہے، لہٰذا اس کا ستارے کی جانب والے رخ کا درجہِ حرارت دو ہزار ڈگری سیلسیئس ہے، جس کو بادل بننے کے لیے بہت زیادہ گرم تصور کیا جاتا ہے۔ پھر بھی ایسا لگتا ہے کہ ایل ٹی ٹی 9779 بی میں بادل ہیں

ڈیاگو پورٹیلز یونیورسٹی اور CATA (سانتیاگو، چلی) کے ماہر فلکیات اور مطالعہ کے شریک مصنف جیمز جینکنز کہتے ہیں ”ایک جلتی ہوئی دنیا کا تصور کریں، اس کے ستارے کے قریب، جس میں دھاتوں کے بھاری بادل اوپر تیر رہے ہیں، ٹائٹینیم کی بوندوں کو برسا رہے ہیں“

یہ سیارہ یقینی طور پر ایک معمہ ہے۔ اپنے ستارے کے اتنے قریب گردش کرنے والے نیپچون کے سائز کے معلوم سیاروں کی تعداد میں کافی فرق ہے۔ ماہرین فلکیات کا خیال ہے کہ اس کی وجہ بہت سادہ ہے۔ بڑے سیاروں، ’گرم مشتری‘ کی کشش ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو پکڑ سکتے ہیں (زیادہ تر وقت)۔ لیکن ’گرم نیپچونز‘ کے ماحول کو اڑا دینا چاہیے، ایک پتھریلی زمین کے سائز کا مرکز چھوڑ کر۔ یہ سیارہ اس سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے بادل بہت زیادہ توانائی کی عکاسی کرتے ہیں، جس سے سیارے کو اپنے گیسی لفافے کو برقرار رکھنے کے لیے لڑائی کا موقع ملتا ہے

اس کے بادل دوسری پہیلی ہیں۔ اس سیارے کے تجربہ کردہ درجہ حرارت پر، اس کا وجود نہیں ہونا چاہیے، چاہے وہ شیشے یا دھات سے بنے ہوں۔ اور پھر بھی، وہ یہاں ہیں، نظر آ رہے ہیں، اس دور دراز کی دنیا کو رونق بخش رہے ہیں

فرانس کی کوٹ ڈی آزور آبزرویٹری کے محقق اور جرنل ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے شریک مصنف ویوین پارمینٹیئر کہتے ہیں ”یہ واقعی ایک پہیلی تھی۔ اس کے بعد محققین کو احساس ہوا کہ ہمیں اس بادل کی تشکیل کے بارے میں اسی طرح سوچنا چاہیے، جس طرح گرم شاور کے بعد باتھ روم میں بننے والے کنڈینسیشن/ بھاپ کے بارے میں سوچتے ہیں“

انہوں نے کہا کہ جس طرح گرم پانی سے باتھ روم میں بھاپ بھر جاتی ہے، اسی طرح جلتی ہوئی دھات اور سلیکیٹ کا بہاؤ، جس سے شیشہ بنایا جاتا ہے، دھاتی بادل بننے تک ایل ٹی ٹی 9779 بی کی فضا کو بھر دیتے ہیں۔ یہ سیارہ زمین سے تقریباً پانچ گنا بڑا ہے

"باتھ روم کو بھاپ لینے کے لیے آپ یا تو ہوا کو پانی کے بخارات کے گاڑھا ہونے تک ٹھنڈا کر سکتے ہیں، یا آپ گرم پانی کو اس وقت تک جاری رکھ سکتے ہیں جب تک کہ بادل نہ بن جائیں کیونکہ ہوا بخارات سے اتنی سیر ہو جاتی ہے کہ اسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح، LTT9779 b بہت گرم ہونے کے باوجود دھاتی بادل بنا سکتا ہے کیونکہ ماحول سلیکیٹ اور دھاتی بخارات سے بھرا ہوا ہے

اس سے قبل دریافت ہونے والے واحد سیارے جو 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اپنے ستاروں کے گرد چکر لگاتے ہیں وہ یا تو زمین سے دس گنا بڑے گیس کے بنے دیوقامت ہیں یا اس کے سائز کے نصف پتھریلے سیارے ہیں۔
لیکن ایل ٹی ٹی 9779 بی ’نیپچون ڈیزرٹ‘ نامی خطے میں ہے، جہاں اس کے سائز کے سیارے نہیں پائے جاتے ہیں

ویوین پارمینٹیئر کا کہنا ہے ”یہ ایک ایسا سیارہ ہے، جس کا وجود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں توقع ہے کہ اس طرح کے سیاروں کا ماحول ان کے ستارے کی وجہ سے ختم ہو جائے گا اور صرف چٹان باقی رہ جائے گی“

یورپی خلائی ایجنسی کے چیوپس پروجیکٹ کے سائنسدان میکسیمیلین گوئنتھر کے مطابق سیارے کے دھاتی بادل ’آئینے کی طرح کام کرتے ہیں‘ جو روشنی کو منعکس کرتے اور اس فضا کو ختم ہونے سے روکتے ہیں

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، ”یہ ایک ڈھال کی مانند ہے، جیسا کہ اسٹار ٹریک کی پرانی فلموں میں ہوتا ہے، جن میں وہ اپنے جہازوں کے ارد گرد ڈھال ہوتی ہے“

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تحقیق ایک بڑا سنگ میل ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نیپچون کے سائز کا سیارہ نیپچون کے صحرا میں کیسے رہ سکتا ہے

یورپی خلائی ایجنسی کی چیوپس خلائی دوربین 2019 میں ہمارے نظام شمسی سے باہر دریافت ہونے والے سیاروں کی تحقیقات کے مشن پر زمین کے مدار میں لانچ کی گئی تھی

اس نے ایل ٹی ٹی 9779 بی کی اپنے ستارے کے پیچھے غائب ہونے سے پہلے اور بعد کی روشنی کا موازنہ کرکے اس کی منعکس کرنے کی صلاحیت کا پتہ چلایا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close