اسد عباس کی کہانی۔۔ جس کا ایک قدم شہرت کی بلندی پر تھا، دوسرا بے بسی کی کھائی میں!

ویب ڈیسک

کچھ دربدر کی ٹھوکریں کھاتے سمندر کا رزق ہوئے اور ہوتے رہیں گے، کچھ بستر پہ لیٹے موت کی آہٹ سنتے ہیں۔ غربت میں لتھڑے تیسرے درجے کے ملکوں کے عام آدمی کا شائد یہی مقدر ہے۔۔ اسد عباس بھی انہی میں سے ایک تھا

کوک اسٹوڈیو سے شہرت پانے والا اسد عباس 15 اگست کو طویل عرصہ گردوں کی بیماری کا مقابلہ کرنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔ اس کی کہانی بھی کیسی عجیب ہے۔۔ ایک قدم شہرت کی بلندی پر، دوسرا بے بسی کی کھائی میں!

اسد عباس جب آخری سانسیں لے رہا تھا تو اس کا بڑا بھائی اور معروف گلوکار علی عباس، اس کے ساتھ دوسرے بڑے بھائی ظہیر عباس اور والد کے علاوہ اس کا گھرانہ شدید اذیت سے گزر رہا تھا۔ ٹھیک اسی وقت پاکستان کی فنکار برادری یومِ آزادی پر سرکاری تمغوں کی بندر بانٹ کی خوشی میں ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہی تھی۔ کوئی فنکار، گلوکار، حکومتی نمائندہ اس کے جنازے میں شریک نہ تھا

جن حالات میں اور جس بے بسی کے ساتھ اسد عباس موت کے منہ میں چلا گیا، اس کے لیے حکومت وقت، اس ملک کو چلانے کے ٹھیکے دار، ہمارا معاشرہ، پاکستان کی فنکار برادری، شوبز والے، انسانیت کے بھاشن دینے والے این جی اوز، کارپوریٹ سیکٹر، نام نہاد مخیّر حضرات، پاکستان کے کوک اسٹوڈیو، ثقافتی اداروں اور تنظیموں کی بے حسی ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے

اس کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ کس برق رفتاری سے اس نے وہ مرحلے طے کیے، جن کو عبور کرنے میں لوگوں کی زندگیاں صرف ہوجاتی ہیں، پھر بھی منزل نہیں ملتی

یہ اڑتیس سالہ نوجوان فیصل آباد میں پیدا ہوا۔ اسی شہر سے بنیادی تعلیم حاصل کی۔ جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے گریجویشن کرنے کے بعد گھر سے ملنے والی موسیقی کی تربیت پر توجہ کی۔ اپنے بزرگوں سے جو کچھ حاصل کیا، اس کو لے کر میدان میں نکلا اور ایک ایک کر کے سارے میدان مارتا چلا گیا۔ اس نے والد سے موسیقی کی بنیادی تربیت حاصل کی

اسد عباس کا گھرانہ موسیقی سے وابستہ تھا۔ اسد یہ کام اس لیے کر رہا تھا کہ اس کے بڑے کر رہے تھے۔ اسد غربت کی زندگی جی رہا تھا، اس لیے کہ اس کے بڑے ایسے ہی جی رہے تھے۔ موسیقی اور غربت اسد کو ورثے میں ملی تھی

2008ع اسد کی زندگی میں فیصلہ کن سال رہا۔ ہر فنکار کا خواب ہوتا ہے کہ تالیوں کی گونج میں اسٹیج پر اس کا پرجوش استقبال کیا جائے اور وہ آئے اور چھا جائے۔ روشنیوں بھرا حال، اپنے نام کا چرچا اور سامعین کا پرجوش ردعمل۔۔ اسد کو پہلی مرتبہ ’پاکستان سنگیت آئیکون‘ کے مقابلے میں یہ خوبصورت تجربہ ہوا۔ وہ ملکی سطح پر ہونے والا موسیقی کا یہ مقابلہ جیت کر پہلے نمبر پر آ گیا تھا۔ اسے انعام میں ایک کروڑ روپیہ اور ایک مرسڈیز ملی۔ کیسے خوابناک دن ہوں گے؟ کچھ روز کیسی سرشاری رہی ہوگی۔۔

اسد نے سوچا ہوگا کہ اب وہ بھوک سے نہ مرے گا۔ وہ خود کیا، اس کی آنے والی نسلیں بھی آٹے چینی کے جھنجھٹ سے آزاد ہو گئی ہیں

اس کے بعد وہ پاکستان کے معروف صوفی موسیقی کے بینڈ ’میکال حسن بینڈ‘ سے وابستہ ہوا اور ان کے لیے ’لکس اسٹائل ایوارڈ‘ جیتا

ایسے اور بے شمار گیت جیسے میکال حسن بینڈ کے لیے گایا ہوا راگ اور گیت ’مالکونس‘ کو ساتھی نوجوان گلوکار رصاب عامر کے ساتھ گایا، جس نے بہت مقبولیت حاصل کی

یہ راگ رات کے آخری پہر اور طلوع ہوتی صبح میں گایا جاتا ہے۔ ایسے راگ کو اسد عباس کیوں کر نہ ڈوب کر گاتا؟ کہ ابھی ابھی تو اس کے لیے امید کی صبح طلوع ہو رہی تھی

نئے خواب، نیا سفر، نیا جوش۔۔ کچھ لوگوں کے لیے اسد ایک سریلا گلوکار تھا، کچھ اس کی آواز کو بے جان اور بے کیف کہتے تھے۔۔ وہ بھلے کیسا ہی فنکار تھا مگر وہ کامیاب ہوتے ہی بیرون ملک پاکستانیوں کی نظر میں آ گیا اور اسے دھڑا دھڑ شو ملنے لگے۔ اس نے خوب پیسہ کمایا

اس دوران اسد عباس نے کوک اسٹوڈیو کے سیزن 6 میں گایا، ’کدی آ وے ماہی گل لگ وے۔‘ آپ کو پسند آئے یا نہ آئے، اسد کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی تھی

’کدے آوے ماہی‘ نے اسے عالمگیر شہرت حاصل دلائی۔ معروف صوفی شاعر شاہ حسین کے اس کلام کو گا کر اس نے پاکستان کی جدید موسیقی میں اپنا نام درج کوا لیا۔ ہر چند کہ اس کلام کو پاکستان کے کئی معروف گلوکار بھی گا چکے ہیں، لیکن یہ گیت اسد کی پہچان بن گیا

اسد عباس کی زندگی کا یہ سفر ابھی جاری تھا، وہ دنیا بھر کی سیاحت کر رہا تھا، اس نے پاکستانی ڈراموں کے ٹائٹل گیت بھی گائے اور بے شمار کنسرٹس بھی کیے، لاتعداد محفلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے چاہنے والوں کا حلقہ وسیع کرتا چلا گیا۔۔ گویا گائیکی کے محور پر دنیا ان کے سامنے جھوم رہی تھی۔۔ لیکن ایک تاریکی ان جگمگاتی روشنیوں کو نگلنے کے لیے تاک میں بیٹھی تھی

اسد نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ”ایک دن شو کر کے آیا، کھانا کھایا اور سو گیا۔ جب آنکھ کھلی تو اچانک آنکھوں کے سامنے اندھیرا تھا۔ ہسپتال پہنچے تو پتہ چلا دونوں گردے کام کرنا چھوڑ چکے ہیں۔“ یہ اس بھیانک سفر کا آغاز تھا، جس کا اختتام اسد کی موت پر ہوا

ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ ٹرانسپلانٹ کروا لو، تب یہ مسئلہ حل ہوگا۔ بڑے بھائی کا گردہ اسد کے گردے سے میچ ہو گیا۔ ٹرانسپلانٹ ہوا، اسد اپنے گھر واپس آیا اور اچھے دنوں کی امید میں نیلی پیلی گولیاں پھانکنے لگا

کچھ ہی عرصے میں دوبارہ طبعیت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ دوبارہ ٹیسٹ کروانے پر معلوم ہوا کہ جو گردہ ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا، وہ بھی ناکارہ ہو گیا ہے۔ اب یہ معاملہ مزید پیچیدہ بن گیا تھا۔۔

ڈاکٹروں نے پاکستان کی بجائے بیرون ملک سے ٹرانسپلانٹ کروانے کا مشورہ دیا۔۔ ایک ناقابلِ یقین صدمہ۔

اسد نے معروف پاکستانی گلوکار عالمگیر سے رابطہ کیا جنہوں نے مشورہ دیا کہ ’امریکہ بہترین رہے گا، میں بھی یہاں سے اپنے گردے کا ٹرانسپلانٹ کروا چکا ہوں۔‘

اسد نے امریکہ میں گردے کے ٹرانسپلانٹ کی لاگت پتہ کی، تقریباً پانچ کروڑ پاکستانی روپے درکار تھے

وہ اپنے ایک انٹرویو میں بتاتا ہے ”پاکستان سے علاج اور ٹرانسپلانٹ کروانے پر میرا تقریباً ڈھائی کروڑ روپے خرچ ہوا تھا۔ جبکہ مجموعی طور پر اب تک میں اپنے علاج پر تقریباً چھ سے سات کروڑ روپیہ لگا چکا ہوں“

اس نے بتایا تھا ”ہمارے پاس جتنی جمع پونجی تھی، وہ سب لگ گئی۔۔ گھر بک گئے، گاڑیاں فروخت ہو گئیں۔“ اس نے سب کچھ لگا دیا کہ جان بچ گئی تو دوبارہ سب کچھ حاصل ہو جائے گا، لیکن وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ موت کے مزید قریب ہوتا گیا

اس کے علاج میں ایک رکاوٹ مالی پریشانی اور دوسرا ایسے گردے کی عدم دستیابی تھی، جو اس کے ساتھ میچ ہو سکے۔ بالعموم ایسا گردہ خاندان میں سے کوئی فرد عطیہ کرتا ہے لیکن وہ زیادہ ہی بدقسمت تھا۔ بڑی بہن کے جگر میں مسئلہ تھا۔ ایک بھائی بیمار تھا۔ ایک پہلے ہی گردہ دے چکا تھا۔ ماں اسد کی بیماری کے دوران ڈپریشن میں سے ہوتی ہوئی موت کے منہ میں جا چکی تھی

جہاں تک مالی امداد کا تعلق ہے، تو اسد عباس نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا ”پاکستان کی انڈسٹری کے تمام بڑے فنکاروں نے مجھے فون کالز کی ہیں، مجھے حوصلہ دیا ہے کہ ہم آپ کے لیے کچھ کریں گے لیکن ابھی تک مجھے ان کی کالز ہی آئی ہیں اور حوصلہ ہی ملا ہے، تسلی ہی ملی ہے۔ ابھی تک مالی طور پر کسی نے میری مدد نہیں کی ہے“

پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کی طرف سے بھی اسد عباس کو علاج اور مالی تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو پورا نہ ہو سکا

اسد نے اپنی جائیداد اور روپیہ پیسہ سب علاج پر خرچ کر دیا، جب تک ممکن ہوا بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب نے بھی اس کی بیماری سے لڑائی میں اپنا حصہ ڈالا لیکن پھر دھیرے دھیرے اس جنگ میں بیماری اس پر حاوی ہونے لگی۔ اس خاندان کا سب کچھ بک گیا۔ اس نے زندگی کے آخری ایام فیصل آباد کے قریب اپنے آبائی گھر میں گزارے

وہ بہادر تھا۔ بیماری کو شکست دینے کے قوی ارادے سے مزید حوصلہ مند بنا۔ اس نے پھر اپنے چاہنے والوں سے امید باندھی۔ اپنے گھر اور شناسا لوگوں کے دائرے سے نکل کر اپنے موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد سے تعاون کی درخواست کی، پھر حکومت وقت اور معاشرے کے مخیر حضرات سے فریاد کی، اس کی آواز میں کئی لوگوں نے بھی اپنی آواز شامل کی مگر وہ انتہائی قلیل تعداد تھی۔ اکثریت نے صرف زبانی جمع خرچ کیا۔ بہت ساروں نے تو وہ بھی نہیں کیا صرف خاموشی تھی۔۔

سوشل میڈیا والے، یوٹیوبر اور پاکستان کا روایتی میڈیا اس نوجوان کے دکھ کو اپنی ٹی آر پی اور ٹرینڈنگ حاصل کرنے کے لیے بیچنے لگا اور اس کی نماز جنازہ ہونے تک اس دکھ کو فروخت کرنے میں یہ ذہنیت مصروف رہی۔ اب اس کی رنجیدہ موت کے بعد بھی یوٹیوب ایسی خرافات سے بھرا پڑا ہے۔ وہ چلا گیا مگر اس کے دکھ کو سب اپنی اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق خرچ کر رہے ہیں

اس بیماری نے اس کی والدہ اور بڑی بہن کو اس سے چھینا۔ اب اس کی بیوی سے شوہر اور دو بچوں سے ایک باپ کو بھی جدا کر دیا۔ والد اور پھر باپ جیسی شفقت اور محبت کرنے والا بڑا بھائی اور معروف گلوکار علی عباس، اس رحلت نے انہیں بھی غمزدہ کر دیا۔ اس کے مداح اور فنکار برادری کے وہ انسان دوست ستارے جو اس کی مدد کو آئے، وہ سب اسد عباس کے جانے سے اداس اور غمزدہ ہیں

اسد کی موت پر لوگوں کا ردعمل حیران کن حد تک جذباتی تھا۔ اگرچہ اس کی آواز یا گائیکی میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا کہ کم کہہ سکیں یہ دنیائے موسیقی کا عظیم سانحہ ہے، لیکن ذاتی سطح پر یہ انتہائی تکلیف دہ ہے

ایک شخص غربت کی انتہا سے شہرت کی بلندیاں چھوتا ہے۔ چمک دمک کی زندگی کا آغاز ہوتے ہی خوفناک بیماریاں اسے گھیر لیتی ہیں۔ خاندان کی امیدیں ہی نہیں نبضیں بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔ وہ اسٹیج سے موت کے بستر پر آ پہنچتا ہے۔ ہمارے اندر ہمدردی کی ایک لہر انگڑائی لیتی ہے۔ شاید ہمیں اپنے انجام کا خوف ستانے لگتا ہے۔

وہ اپنی زندگی اور گائیکی کے جوبن پر تھا اور پھر اس کی زندگی کی کہانی میں جدائی کا موڑ آ گیا۔۔ بقول رحمٰن فارس:

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی،
کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close