زندہ جراثیموں سے کینسر کا علاج

ڈاکٹر عبید علی

زولا اٹلی سے امریکا پہنچا تھا۔ یہ نیویارک کا سال 1891 ہے۔ زولا غریب اور منشیات کا عادی تھا۔ ٹیومر اور موذی بیماری اس کو جکڑ رہی تھی۔ ایک ہولناک شکل کا کبوتر اور مرغی کے انڈے کے درمیانی جسامت جیسا ابھار زولا کے دائیں ٹونسل پر مستقل لٹکا ہوا تھا۔

ویکسین اور زندہ جراثیم کا علم یورپ اور امریکا میں پختہ ہوچکا تھا۔ نیویارک کا سرجن کولی گہرائی سے مشاہدے میں مصروف اور اپنے مفروضے کا تعاقب کررہا تھا۔ زولا اپنی موت کے انتظار میں زندگی سسک سسک کر جی رہا تھا۔ موقع غنیمت جان کر کولی نے زولا کو زندہ جراثیموں والا انجکشن لگانا شروع کردیا۔ یہ انجکشن خطرناک زندہ جراثیم اسٹریپٹوکوکس تھا۔

ڈاکٹر کولی زولا کے جلد میں ایک انفیکشن پیدا کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ جراثیم انجیکٹ کرتا، زولا کا جسم جراثیم کو جینے نہیں دیتا۔ پانچ ماہ مستقل جراثیم کا انجکشن لگاتے لگاتے بالآخر زولا کا جسم ہار گیا اور جراثیم پھلنے پھولنے لگا۔ اس انفیکشن کو انگریزی میں ایریسیپلس یعنی زہرباد کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

انسان کے جلد میں شدید انفیکشن ہوتا ہے اور جلد ان جراثیموں کی کالونیوں سے مقامی سطح پر پھول کر سرخ و پیازی ہوجاتی ہے۔ ادھر اس انفیکشن نے سر اٹھایا، ادھر دو ہفتوں میں انڈے والا ٹیومر زولا کے ٹونسل سے غائب ہوگیا۔ زولا اب ٹیومر سے آزاد اور صحت مند زندگی میں واپس آچکا تھا۔ اس کے بعد وہ کئی برس تک زندہ رہا۔

ڈاکٹر کولی اب بہت پرجوش تھا۔ اس نے دس سال بعد اپنے دس مزید ایسے مریضوں کا علاج اسی زندہ اسٹریپٹوکوکس بیکٹیریا سے کرنا شروع کیا۔ یہ انفیکشن جان لیوا تجربہ بھی ثابت ہوا۔ دو مریض اس تجربے کی نذر ہوئے اور جان سے گئے۔ اب کولی نے زندہ جراثیم کے بجائے اس کے مردہ اجسام کو استعمال کرنا شروع کیا۔ بہرحال یہ ایک زہریلا مادہ تو تھا مگر مردہ بیکٹیریا کے استعمال کے فارمولے میں تبدیلی نے مریضوں میں موت کے خطرے کو کافی حد تک کم کر دیا۔

خیر آئیے! سمجھتے ہیں اور گتھی سلجھاتے ہیں کہ ہوتا کیا ہے؟ جب بھی جسم میں کینسر پیدا ہو تو جسم اس کینسر خلیات کے خلاف قوت پیدا کرتا ہے جو کینسر کے خلیات کو قتل کرتے ہیں۔ مفروضہ یہ ہے کہ انفیکشن کے نتیجے میں جسم مجبور ہوکر مدافعتی نظام کو میدان میں اتارتا ہے جو انفیکشن کے علاوہ کینسر کے خلیات کا خاتمہ کامیابی سے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جدید سائنس میں ڈاکٹر کولی مامونی طریقہ علاج کے باپ تصور کیے جاتے ہیں۔

یاد رکھیے! جراثیم کی موجودگی اور انفیکشن نعمت خداوندی ہے۔ انھیں اینٹی بائیوٹک کی نہیں بلکہ نگہداشت کی ضرورت ہے۔

اس لالچی دنیا میں سب کچھ آلودہ ہے، ارادے کا ناپاک ہونا عجب بات نہیں۔ اگر یہ مفروضہ توجہ پائے تو شاید کینسر کےلیے شعاعیں، کیمو اور مہنگی ادویہ کا کاروبار شدید نقصان اٹھائے۔ کاروبار کی حدود طے کیجیے، مشاہدوں کا تعاقب کیجیے، شواہد کو للکاریے، ہمدردی سے، وجوہات سے، فکر سے اور شعور کی بلندی سے۔

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close