وٹامن سی دریافت کرنے والے محقق گورجی کی کہانی، جسے ہٹلر نے قتل کرنے کی کوشش کی!

ویب ڈیسک

صدیوں سے ملاحوں کو ’سکروی‘ نامی بیماری نے پریشان کیے رکھا۔ وہ ملّاح جو کئی دن سمندر میں گزارتے انہیں یہ مرض لاحق ہوجاتا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہو جاتی تھی۔

سولہویں اور انیسویں صدی کے درمیان اس مرض سے لگ بھگ بیس لاکھ ملّاح جان کی بازی ہار چکے تھے، جس کی وجہ سے مورخین نے اس مرض کو ’ملاّحوں کا طاعون‘ کا نام دیا

اس وقت تک اس بیماری کی وجہ دریافت نہیں ہوئی تھی۔ کافی عرصے بعد ہنگری کے محقق البرٹ زینٹ گورجی نے اس کا سبب دریافت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرض جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث یہ لاحق ہوتا ہے

البرٹ گورجی ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ میں 16 دسمبر 1893 میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے، جو سائنسی علوم میں ماہر مانا جاتا تھا

سال 1910ع میں البرٹ گورجی نے بوڈاپسٹ کی سیملویس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی، بعدازاں وہ اپنے چچا کی لیبارٹری سے منسلک ہو گئے۔ اس عرصے میں نوجوان گورجی نے طب اور کیمیا پر متعدد کتب کا مطالعہ کیا

اس اثناء میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوتے ہی البرٹ گورجی کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور انہیں ہنگری کی فوج میں طبیب کی حیثیت سے خدمات انجام دینا پڑیں

یہ سال 1916ع کی بات ہے، جب گورجی نے اپنی حکومت کے سیاسی امور سے مایوس ہو کر اپنے ہی بازو پر فائر کیا بعدازاں ملٹری پولیس کو یہ کہہ کر کہ انہیں دشمن کی گولی لگی ہے، انہوں نے فوج سے نکلنے کی راہ ہموار کی

ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ لَوٹنے کے بعد البرٹ گورجی نے تعلیم کے منقطع سلسلے کو دوبارہ جوڑا اور سال 1917 میں یونیورسٹی سے طب کی ڈگری حاصل کی اور میڈیکل فیلڈ میں اپنی تحقیق کا آغاز کر دیا

پہلی عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد بائیو کیمسٹری میں اپنی دلچسپی کے باعث انہوں نے متعدد یورپی یونیورسٹیوں میں طب کے موضوع پر ریسرچ کرنے میں معاونت کی

سال 1929 میں البرٹ گورجی نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی۔ اسی دوران انہوں نے پودوں کے رس سے ایک مخصوص مادے کو جدا کرنے میں کامیابی حاصل کر لی

بالاخر ہنگری کے ڈاکٹر نے اس مادے کو ’ہیکسورونک ایسڈ‘ کا نام دیا، جسے آج ’وٹامن سی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے

سال 1930ع میں البرٹ گورجی سیزڈ شہر میں منتقل ہو گئے اور اس دوران وہ ’ہیکسونورک ایسڈ‘ کو ’سکروی‘ نامی بیماری سے جوڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اس موذی اور خطرناک بیماری کا سبب دریافت کر لیا، جسے ملاحوں کی موت کا سبب بتایا جاتا تھا

اس تحقیق کے بعد البرٹ گورجی نے اپنی مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہرت حاصل کی، انہیں سال 1930ع میں ’وٹامن سی‘ کی دریافت پر سال 1937ع میں طب کا نوبل انعام دیا گیا

انہوں نے انعامی رقم سال 1939 میں شروع ہونے والی جنگ میں فن لینڈ کو دے دی، جو سویت یونین کے حملے کا نشانہ بنا تھا

دوسری عالمی جنگ کے شروع ہوتے ہی گورجی نے بہت سے یہودیوں کونازیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ملک سے باہر بھیجنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ کچھ ہی عرصے میں گورجی کا نام ہنگری کی مزاحمت کرنے والوں میں ایک نمایاں شخصیت طور پر اُبھرا، جو نازیوں کے خلاف خفیہ طورپر کام کر رہے تھے

سال 1944 میں ہنگری کے وزیراعظم میکوس کالای نے ہٹلر سے ہنگری کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے شہری گورجی کو ایک خفیہ مہم پر روانہ کیا

سائنسی لیکچر کے بہانے البرٹ گورجی نے استنبول کا سفر کیا بعدازاں برطانیوں کو دوسری عالمی جنگ سے نکالنے کے لیے ہنگری کی کوششوں اور ہٹلر کی پالیسی کو مسترد کرنے کے بارے میں آگاہ کیا

ادہر نازیوں کو البرٹ گورجی کے استنبول کے سفر کی حقیقت کے بارے میں معلوم ہو گیا۔ جیسے ہی یہ خبر ایڈولف ہٹلر تک پہنچی، انہوں نے گورجی کو گرفتار کرنے کے احکامات صادر کر دیے اور ان پر غداری کا مقدمہ قائم کر دیا گیا

خوش قسمتی سے گورجی کو اپنے بارے میں صادر ہونے والے احکامات کی اطلاع مل گئی، جس پر وہ روپوش ہو گئے، یہاں تک کہ دوسری عالمی جنگ ختم ہو گئی

دوسری عالمی جنگ کے ختم ہونے کے بعد ہنگری سویت یونین کے زیرِ اثر آگیا، اس صورتحال کی وجہ سے گورجی کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور وہ امریکہ میں جا بسے، جہاں انہوں نے باقی ماندہ زندگی گزاری۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close