علم کے پیاسے اور حیدرآباد کی داؤدپوتا لائبریری کا تنگیِ دامانی کا مسئلہ۔۔

ویب ڈیسک

لائبریری علم کے فروغ میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے۔ وادی مہران کے دل اور صوبے کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے پرفضا مقام پر ’شمس العلما ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتہ لائبریری‘ قائم ہے، جہاں سندھ کے دورافتادہ علاقوں سے طلباء اپنی علمی پیاس بجھانے آتے ہیں۔ یہ لائبریری رانی باغ اور سندھ میوزیم سے متصل، قاسم آباد کے علاقے میں واقع ہے

لیکن بدقسمتی سے سندھ میں علم کی شمع کو روشن رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والی یہ لائبریری آج تنگیِ داماں کی شکایت کرتی ہے۔۔ کہ علم کے پیاسے یہاں چل کر آتے ہیں اور جگہ نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر لوٹ جاتے ہیں

ایسے ہی ایک طالب علم محمد رفیق سمیجو بھی ہیں،
جن کا تعلق ضلع تھرپارکر سے ہے لیکن وہ گزشتہ چھ ماہ سے حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ وہ صبح سات بجے شہر میں شمس العلما ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا لائبریری کے دروازے پر پہنچ جاتے ہیں تاکہ سندھ یونیورسٹی جامشورو کے داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کر سکیں

لائبریری میں کرسیاں کم ہیں اور یہاں آنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ جگہ کے حصول کے لیے انہیں باقاعدہ انہیں جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور اکثر سبھی کو کامیابی نہیں ملتی اور سبھی کو کرسیاں نہیں ملتیں، کئی لوگوں کو فراسیوں پر بیٹھنا پڑتا ہے

لائبریری کے چاروں طرف سبزہ زار اور ایک بڑا باغ ہے۔یہاں آنے والے طلبا و طالبات لائبریری کے اندر نشست نہ ملنے کی صورت میں باغ میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ سندھ کے مختلف اضلاع سے بہت بڑی تعداد میں نوجوان طلبا اور طالبات پنی نشست کے حصول کے لیے جلد پہنچ جاتے ہیں، جب لائبریری کا دروازہ کھلتا ہے تو طلبا نشستیں حاصل کرنے کے لیے دوڑتے ہیں۔ اس لائبریری سے استفادہ کرنے والوں میں طلبہ و طالبات کی اکثریت ہے جو صبح سویرے لائبریری کے دروازے پر قطار باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جو پہلے پہنچتا ہے کرسی اسی کو ملتی ہے۔ نشستوں کے حصول سے محروم رہنے والے طلبا پارک اور لائبریری کی لابی میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے ہیں

محمد رفیق کو یہاں آتے ہوئے پانچ ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ عموماً وہ روزانہ یہاں پہنچنے والے پہلے لوگوں میں ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس عرصہ میں سات آٹھ مرتبہ انہیں نشست نہیں مل سکی

رفیق کہتے ہیں ”اگر لائبریری میں سہولیات بڑھا دی جائیں تو سبھی طلبہ کو پرسکون طریقے سے بیٹھ کر پڑھنے کا موقع ملے گا۔“

دوسری جانب لائبریری کے ڈپٹی ڈائرکٹر کے مطابق ”جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لائبریری میں مزید فرنیچر نہیں رکھا جا سکتا۔“

انہوں نے بتایا ”سندھی ادبی سنگت کے سیکرٹری جنرل تاج جویو نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست داخل کی تھی، جس میں انہوں نے لائبریری میں جگہ کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے محکمہ ثقافت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔ اس پر عدالت نے کمشنر حیدر آباد اور محکمہ ثقافت و نوادرات سے جواب طلب کیا تھا۔“

اس کے نتیجے میں حیدرآباد ڈویژن کے ایڈیشنل کمشنر نے فروری 2020ء میں محکمہ ثقافت و نوادرات سندھ کے سیکرٹری کو ایک محکمہ جاتی خط بھیجا، جس کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر کی نشاندہی پر لائبریری کی توسیع کے لیے اس جگہ/عمارت کا انتخاب کیا گیا، جہاں اس وقت قاسم آباد پولیس اسٹیشن قائم ہے

واضح رہے کہ جس جگہ پولیس اسٹیشن ہے، وہ عمارت محکمہ صنعت کے پرنٹنگ پریس کے لیے مختص تھی، مگر اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اب وہ داؤد پوتا لائبریری کو سونپی گئی ہے

داؤد پوتا لائبریری سندھ میوزیم اور سندھی لینگویج اتھارٹی کے بیچ واقع ہے۔ لائبریری اور موجودہ قاسم آباد پولیس اسٹیشن کے درمیان سڑک ہے۔ توسیعی منصوبے میں لائبریری اور مجوزہ بلاک بی کے درمیان سڑک پر پل کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ مطالعہ کرنے والوں کو پیدل آنے جانے میں آسانی ہو

2019ء میں سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست داخل ہونے کے بعد ڈویژنل کمشنر حیدرآباد، ڈی آئی جی سندھ پولیس، محکمہ ثقافت، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے پرونشل بلڈنگ ڈویژن کے انجنیئروں اور افسروں نے کئی بار لائبریری کی توسیع کے لیے دورے کیے

عمارت پہلے سے موجود ہے لیکن اسے بطور لائبریری قابل استعمال بنانے کے لیے مرمت اور تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انجینئروں کی طرف سے بلاک بی کی منصوبہ بندی اور نقشہ تیار کر لیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ٹھیکیدار کو کام شروع کرنے کے لیے متعلقہ محکمہ پراونشل بلڈنگ ڈویژن کی طرف سے ورک آرڈر بھی جاری کیا گیا ہے

ریکارڈ کے مطابق داؤد پوتا لائبریری کے توسیعی منصوبے کے تحت ایگزیکٹو انجنیئر پراونشل بلڈنگ ڈویژن حیدرآباد نے ٹھیکیدار میسرز ہوتچند بھورو مل کو دسمبر 2020ء میں بلاک بی کے مختلف حصوں کی مرمت اور بحالی کے لیے تين کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے کا ورک آرڈر جاری کیا۔ اس کے لیے ٹھیکیدار کی طرف سے سکیورٹی کے سات لاکھ روپے ایگزیکٹو انجنیئر کے دفتر میں تاحال جمع ہیں

ٹھیکیدار ہوتچند کے مطابق، انہیں دو سال میں یعنی 2022ء تک کام مکمل کرنا تھا۔ تاہم پولیس کی جانب سے تھانہ خالی نہ کرنے کی وجہ سے کام شروع ہی نہیں ہو سکا

پراونشل بلڈنگ ڈویژن حیدرآباد کے ایگزیکٹو انجنیئر نے قاسم آباد پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو سات اپریل 2021ء کو اپنے محکمہ جاتی خط میں لکھا کہ ڈویژنل کمشنر حیدرآباد کی صدارت میں 18 فروری 2019ء کو ہونے والے اجلاس کے فیصلے کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کے لیے یہ جگہ (تھانے والی عمارت) خالی کریں

2019ء سے ستمبر 2023ء تک کمشنر حیدرآباد کے ہاں اجلاس ہوتے رہے، کمشنر اور ڈی آئی جیز نے لائبریری کے دورے کیے مگر ابھی تک داؤد پوتا لائبریری کا بلاک بی تعمیر نہیں ہو سکا اور تھانہ اپنی جگہ قائم ہے

لائبریری کے ڈپٹی ڈائریکٹر بشارت علی بلوچ کے بقول وہ متعلقہ سرکاری افسروں خاص طور پر ڈی آئی جی حیدرآباد اور کمشنر حیدرآباد سے گزشتہ دو سال میں درجنوں ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر آنے والا کمشنر اور ڈی آئی جی تھانے کی کسی اور جگہ منتقلی اور لائبریری کی جگہ خالی کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے لیکن اس پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا

لائبریری کے ڈپٹی ڈائریکٹر بشارت علی بلوچ نے بتایا کے ان کی تھانے والی جگہ خالی کروانے کے لیے موجودہ ڈی آئی جی پولیس حیدرآباد اور کمشنر حیدرآباد سے کئی ملاقاتیں ہوئی ہیں اور اس حوالے سے اجلاس بھی ہو چکے ہیں، مگر ان کا کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا

داؤد پوتا لائبریری کی تاریخ

سندھ اسمبلی نے 30 جنوری 1951 کو ایک قرارداد پاس کی کہ حیدرآباد میں صوبائی سطح پر ایک پبلک لائبریری قائم کی جائے۔ جگہ کے انتخاب میں دشواریوں کی وجہ سے اس دارالمطالعہ کو اکتوبر 1961ء میں این جے وی ہائی اسکول کراچی میں ’سندھ گورنمنٹ صوبائی پبلک لائبریری‘ کے نام سے قائم کیا گیا۔ 1962ء میں اسے گورنمنٹ مسلم کالج، حیدرآباد کے ہال میں منتقل کیا گیا۔ 1965ء میں سندھ میوزیم حیدرآباد کے احاطے میں اس لائبریری کی اپنی بلڈنگ تعمیر ہوئی، جس کے بعد یہاں منتقل کر دیا گیا

شمس العلماء، ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا مرحوم کی اہلیہ خدیجہ نے جولائی 1971 میں ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا کی تمام تصنیفات، فرنیچر اور ذاتی استعمال کی اشیاء اس وقت کی صوبائی پبلک لائبریری کے لیے محکمہ تعلیم حکومت سندھ کو بطور عطیہ دے دیں

واضح رہے کہ یہاں ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا، ماہر تعلیم، ماہر سندھیالوجی، ماہر لسانیات، محقق، معلم اور بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا کا سب سے بڑا کارنامہ سندھ کی دو مشہور تواریخ ’چچ نامہ‘ اور ’تاریخِ معصومی‘ کی ترتیب ہے۔ انہوں نے عربی، فارسی اور انگریزی میں اٹھائیس کتابیں ادبی اثاثے کی صورت میں چھوڑیں۔ وہ آخری عمر تک علم و ادب کی خدمت کرتے رہے۔ مئی 1986 میں سندھ میں محکمہ ثقافت قائم ہوا تو تمام عوامی لائبریریاں اس محکمے کے زیر انتظام کردی گئیں، یہ لائبریری بھی اس کی سرپرستی میں کام کرنے لگی

محکمہ ثقافت حکومت سندھ کے بانی سیکریٹری، عبدالحمید اخوند کی ذاتی کاوشوں سے ’سندھ گورنمنٹ صوبائی پبلک لائبریری‘ کا نام تبدیل کرکے شمس العلما ڈاکٹر محمد عمر بن داؤد پوتا لائبریری رکھ دیا گیا۔ عبدالحمید آخوند، ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا کے نواسے تھے۔ یہ لائبریری طویل عرصہ تک سندھ میوزیم حیدرآباد کی عمارت میں قائم رہی۔17مئی 1996ء میں اسے نئی عمارت میں منتقل کیا گیا اور اس کا افتتاح سابق وزیر اعلیٰ سندھ، سید عبداللہ شاہ نے کیا۔ لائبریری کی موجودہ عمارت نہایت خوب صورت ہے۔ اس کے مرکزی دروازے کے باہر سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اجرک سے مشابہ ٹائلز لگائے گئے ہیں

یہ سندھ کی تیسری سب سے بڑی لائبریری ہے۔ یہاں مختلف علوم کی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔ اورینٹل سیکشن میں عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں میں کتب موجود ہیں۔ روزانہ تقریباً ایک ہزار کے قریب طلبا اور طالبات اس دارالمطالعہ میں آتے ہیں

شمس العلما ڈاکٹر عمر بن محمد داؤد پوتا لائبریری سے دانشور، مدبر، سیاست داں، اسکالرز اور سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران اسی لائبریری کی کتابوں سے مستفید ہوتے رہے۔ آج معاشرے میں ان کا اعلیٰ مقام ہے۔ یہاں عام قاری سے لے کر اسکالرز، ادیب، دانشور، ریسرچر آتے ہیں۔ یہاں کتب بینک بھی ہے، جہاں سائنس، فکشن، معلومات عامہ، تاریخ، اسلامی تاریخ اور آئی ٹی سمیت تمام موضوعات پر مبنی کتابیں موجود ہیں

ضرورت اب اس امر کی ہے کہ اس لائبریری کو وسعت دی جائے تاکہ جگہ کی کمی کی وجہ سے علم کے پیاسوں کو پیاسا ہی واپس نہ لوٹنا پڑے۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close