سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط70)

شہزاد احمد حمید

۔۔۔اگر حالات ایسے ہی رہے تو لگتا ہے مستقبل قریب میں یہاں کوئی بھی ملاح نہ رہے گا اور 200 سال پرانی یہ ثقافت بھی شاید دیکھنے کو نہ رہے گی۔ ہم روز بروز مشکل ہوتے حالات میں 200 سال پرانی اپنے بزرگوں اور سندھو کی ثقافت زندہ رکھنے کے لئے کب تک کو شاں رہیں گے؟ کب تک؟“ اس کی کب تک کا جواب ہمارے پاس تو کیا شاید کسی ارباب اختیار کے پاس بھی نہ ہو۔ باس نے اس سے پوچھا؛ ”کشتی اور پانی میں زندگی کیسے بسر ہوتی ہے؟ کچھ بتاؤ نوجوان۔“ وہ کہنے لگا؛ ”سائیں! مشکل ہے لیکن عادت ہو گئی ہے۔ ہمارے پاس 2 قسم کی کشتیاں ہیں۔ ایک جس میں ہم رہتے ہیں اور دوسری شکاری جس پر ہم مچھلی پکڑتے ہیں۔ گھر والی کشتی کے ایک کونے میں باورچی خانہ ہوتا ہے۔ یہ کشتیاں اکثر ساحل کے قریب ہی رہتی ہیں۔ اسی میں ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے۔ بچوں کی اوسط تعداد آٹھ دس بچے فی گھر ہے۔ کشتی کی چھت پر بھی سونا پڑتا ہے۔ کئی بار سوئے ہوئے بچے پانی میں گر جاتے ہیں اور بعض دفعہ گرنے والا بچہ ملتا بھی نہیں ہے۔ کنارے کے قریب ہوں تو تلاش کرتے ہیں، گہرے پانی میں ہوں تو تلاش بیکار ہے۔ قدرت کی رضا میں ہی ہماری رضا ہے۔ صبر کے علاوہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں۔۔ بچوں کی اکثریت تیراکی نہیں جانتی ہے۔ ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ زندگی آسان ہر گز نہیں ہے۔ سندھو نے ہمارے دل پتھر کر دئیے ہیں۔ کھانے میں مچھلی ہماری من پسند خوراک ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بلا قیمت اور آسانی سے دستیاب ہے۔“

باس نے پھر پوچھا؛ ”ہاں یہ تو بتاؤ، کتنی مچھلی پکڑتے ہو اور کہاں بیچتے ہو؟“ وہ کہنے لگا؛ ”سائیں! چاہے خود پکڑیں یا ٹھیکیدار کے لئے، دونوں صورتوں میں بیچتے ٹھیکیدار کو ہی ہیں البتہ خود پکڑ کر بیچیں تو قیمت کچھ بہتر ملتی ہے اور اگر ٹھیکیدار کے لئے پکڑیں تو قیمت کا تعین فی من کے حساب سے ٹھیکیدار ہی کرتا ہے۔ ہمارے قبیلے کے جو لوگ غازی گھاٹ یا تونسہ ہجرت کر گئے ہیں، اُن کی اکژیت ٹھیکیدار کے لئے ہی مچھلی پکڑتی ہے۔ سائیں، وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اب پانی بھی صاف نہیں رہا ہے۔“

مشتاق نے پوچھا؛ ”صاف پانی تمھارے لئے کیا کر سکتا ہے؟“ کہنے لگا؛ ”سائیں! بہت آسان بات ہے۔ صاف پانی سے مراد زیادہ گھاس، زیادہ پرندے زیادہ مچھلی، زیادہ کاروبار، زیادہ آمدن۔ اب تو لوگوں کو پینے کا پانی سہیون سے لانا پڑتا ہے لیکن میں پر امید ہوں کہ حالات ضرور بدلیں گے۔“

مشتاق نے پوچھا؛ ”شادی اور مرنے پر کیا کرتے ہو اشرف؟“ وہ بتانے لگا؛ ”شادی سادگی سے ہوتی ہے لیکن خوب ہلے گلے اور رونق میلے کے ساتھ۔ بعض دفعہ دلہن کو دھیج (جہیز) میں کشتی بھی دی جاتی ہے۔ کوئی مر جائے تو خشکی پر ہی دفناتے ہیں۔ یہ کشتیاں پورے گھر ہیں۔ باورچی خانہ بھی ہے اور سونے کا کمرہ بھی۔ ہاں مہمان آ جائیں تو بڑی کشتی لے آتے ہیں۔ مہمان اور ان کا دسترخوان اسی میں لگاتے ہیں۔مہمان آئیں تو خوشی ہوتی ہے کہ یہ اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ سائیں! ہم کشتی میں دریائی موسیقی کا لطف بھی لیتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ دریائی موسیقی کیا ہوتی ہے؟“ ہمارا جواب ہاں میں سن کر وہ مسکرا دیا ہے۔

اشرف نے ہمارے لئے کھانے میں مچھلی اور ابلے چاولوں کا اہتمام کیا ہے۔ مچھلی اور چاول ان کی من بھاتی خوراک ہے اور مہمانوں کو بھی یہی پیش کرتے ہیں۔ ہم نے کھانا کھایا۔ یقین کریں اس سے لذیذ مچھلی چاول پہلے کبھی نہیں کھائے تھے۔ وہ مہانا قبیلے کی کہانی سنا کر کشتی میں دور چلا جا رہا ہے شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کی کافی ابھی بھی گا رہا ہے۔ اس کا سوال میرے ذھن میں اٹک گیا ”آخر کب تک۔۔؟“

درگاہ کے قریب ہی پرانے شہر کے کھنڈر ہیں جن کے بارے روایت ہے کہ یہ ’دیبل‘ کی بندرگاہ تھی۔ سیہون شریف (دادو) سے ہم جامشوروضلع کی تحصیل کوٹری کے لئے نکلے ہیں۔ سہ پہر تک کوٹری بیراج پہنچ جائیں گے انشااللہ۔

سیہون سے روانہ ہوں تو کچھ مسافت کے بعد ہی ’کوہ کھیرتھر‘ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ کچے پہاڑ زیادہ اونچے نہیں ہیں۔ عربی زبان کی طرح سندھی میں بھی پہاڑ کو ‘جبل‘ کہتے ہیں۔ مقامی زبان میں ’جبل کھیرتھر‘

ہمارے ساتھ دوڑتی ریلوے لائن دور جبل میں غائب ہو گئی ہے۔ مجھے دور سیہون کی طرف دوڑی جاتی ریل دکھائی دی ہے جبکہ ہم اس سے کافی نیچے کوٹری کو اڑے جا رہے ہیں۔ یہ ریل کوٹری سے صبح 6 بجے روانہ ہو کر ساڑھے تین گھنٹے کی مسافت طے کر کے سیہون پہنچتی ہے۔ سندھو سڑک سے ذرا دور پرسکون انداز میں کوٹری کی جانب بہہ رہا ہے۔ انڈس ہائی وے تا حد نظر سورج کی تیز کرنوں میں چمک رہی ہے اور سندھو کا پانی تیرتے موتیوں کی طرح دکھائی دے رہا ہے۔ انڈس ہائی وے اور سندھو کے درمیان جھاڑیوں اور بنجر زمین کا سلسلہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ دوڑا چلا جا رہا ہے۔ یہ’”آمری“ ہے۔ بے رونق قصبہ۔ یہاں کبھی قلعہ تھا جو اب اجڑ چکا ہے۔ پندرہ منٹ کی مزید مسافت طے کی ہوگی کہ ہمارے سامنے چمکتے سنہرے گنبد سر اٹھا رہے ہیں۔ یہ کوئی مسجد یا درگاہ ہی ہو سکتی ہے۔ سڑک کنارے کھڑے سانولے رنگ کے یار محمد نے پوچھنے پر ہمیں بتایا ہے؛ ”سائیں! یہ لکی شاہ صدر کا قصبہ اور سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید مرحوم کا گاؤں ہے۔ اس چھوٹے قصبہ میں نظر آنے والے اونچے گنبد حضرت شاہ صدر الدین کی بڑی درگاہ کے ہیں۔ ہم لمحہ بھر یہاں رک کر آگے بڑھ گئے ہیں۔ راستے میں اور بھی چھوٹے چھوٹے بے رونق قصبے ہیں لیکن ’سن‘ قصبہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے ایک سرے پر ایک زنگ آلود بورڈ گڑھا ہے، جس پر لکھا ہے ’رنی کوٹ قلعہ‘ فاصلہ چھبیس (26) کلو میٹر۔ یہ راستہ قلعہ کے ’مشرقی سن گیٹ‘ اور دنیا کے سب سے بڑے قلعہ ’رنی کوٹ‘ کو جاتا ہے۔ اسی قلعہ کی دیوار ’دیوارِ سندھ‘ کہلاتی ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ دیوار چین سے بڑی ہے۔ سیاح ’ازبیل شا‘ لکھتا ہے:
”یہ قلعہ بیابان کے بیچ تنہا کھڑا شاید کسی کی بھی حفاظت نہیں کرتا۔“

سندھو کی آواز سنائی دی، ”تم آئے ہو تو رنی کوٹ کا چکر بھی لگا آؤ۔ میری کہانی میں رنی کوٹ کا ذکر اہم ہے۔آئیں رانی کوٹ قلعہ چلتے ہیں۔ مرکزی شاہراہ سے کچا تنگ اور ٹوتا ہوا راستہ یونیسکو کے اولڈ ہیرٹیج اور ایشیا اور شاید دنیا کے سب سے بڑے قلعہ رنی کوٹ جاتا ہے۔“

میری نظر راہ چلتے ہاریوں اور غریبوں پر پڑی، سبھی میں ایک قدر مشترک دکھائی دی، عاجزی، سادگی، بھلے مانسی اور ہاتھ جوڑ کر جھک کر سلام کرنا۔۔ ایک اور قدر بھی مشترک ہے، انہیں گھر سے زیادہ دور جانا پسند نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے ان کو پرامن اور بہت محبت کرنے والا پایا ہے۔ ہمارے سامنے ایک پتنگ جیسا دبلا پتلا بھلا مانس سا نوجوان چلا آرہا ہے۔ نا جانے مجھے اس پر کیوں ترس آیا ہے۔ عمر کے لحاظ سے تقریباً بیس بائیس سال کا ہوگا مگر جسمانی لحاظ سے تیس بتیس کا لگتا ہے۔ پچکے ہوئے گال، اندر کو دھنسی آنکھیں، باریک لکڑی کی سی ٹانگیں، گہری سوچ میں گم جیسے زندگی بھر کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر ہو۔ میں نے اس سے پوچھا؛ ”بیٹا! کیا پریشانی ہے“ لمحوں کے توقف کے بعد بولا؛ ”سائیں! کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ کچھ پریشانیاں ہیں۔ کچھ مجبوریاں ہیں۔“ مجھے آج کے ایسے نوجوان پہ ترس آتا ہے کہ صبح اٹھتے ہی کام پر دوڑتے ہیں۔ بسوں میں دھکے کھاتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں ہی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے بوڑھے لگنے لگتے ہیں۔ کیا زندگی ہے ان کی بھی؟ انہیں تو جیسے جوانی آتی ہی نہیں۔ یہ تو بس بوڑھے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ نہ قہقہے، شوخیاں، نہ شرارتوں سے واقف، نہ کوئی امنگ نہ کوئی ترنگ۔ بس الجھنوں میں گرفتار۔۔ میں نے قلعہ کا راستہ اس لاغر رحیم بخش سے پوچھا تو اس نے سندھی زبان میں بتایا؛ ”سائیں! اھو سامھوں رستو قلعے وارے طرف ویندو۔“

سن گاؤں سے قلعہ تک کا راستہ ویران اور تنہا ہے۔ مرمت شدہ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے، گڑھے بن گئے ہیں۔ سندھ حکومت کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ ”جو بھی بناتے ہیں ناپائیدار ہوتا ہے۔“ روپیہ شاید ان کے گھر کی باندی ہے، جسے وہ عوام یا فلاح کے لئے خرچ کرنا پسند نہیں کرتے ہیں۔ بس آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں۔ عوام بھی آنکھوں میں جھونکی اس دھول کو جلد بھلا دیں گے۔

ہمیں قلعہ تک راستے میں کوئی دوسرا سیاح یا انسان بھی نظر نہیں آیا ہے۔ شدت کی گرمی نے مقامی لوگوں کو بھی اس سنسان راہ سے دور کر رکھا ہے۔ سڑک کنارے کیا دور دور تک کوئی سایہ دار درخت نہیں، بس جھاڑیاں ہیں اور وہ بھی مٹیالے رنگ کی۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے مٹی کی گہری چادر اوڑھ رکھی ہے۔ ان کے سائے میں بس کوئی چھوٹا جانور ہی بیٹھ سکتا ہے۔ باس کہنے لگے؛ ”یار! ڈراؤنا راستہ ہے۔ وہ دیکھو سامنے۔“ سامنے دیکھا تو گز بھر لمبا سانپ سڑک کنارے جھاڑی سے نکلا، لمحہ بھر رکا اور تیزی سے دوسری جھاڑی میں گھس گیا ہے۔ شاید گاڑی کے شور سے ڈر گیا ہے۔ ڈر ہم بھی گئے ہیں۔

سامنے ایک عمارت دکھائی دے رہی ہے۔ ’رنی کوٹ ریسٹورنٹ‘۔ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی، باہر آئے تو گرم لُو کے تھپیڑے نے ہمیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ہے۔ ریسٹورنٹ میں تین چار لوگ ہی ہیں۔ شاید سب کے سب ملازم ہیں۔ ٹھنڈے جوس نے جسموں کو گرمی میں نئی راحت دی ہے۔

ہمارے سامنے کھیرتھر کی خشک چٹانوں میں بل کھاتی دیواریں گزرے دور کی نشانی ہیں۔ پنتیس (35) کلومیٹر میں پھیلے اس شہکار کو ’دیوارِ سندھ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ قلعہ برصغیر کی تاریخ میں نگینہ کی طرح جڑا ہے۔ انسان کی طرح بستیوں اور عمارتوں کی بھی تقدیر ہوا کرتی ہے۔ اس قلعہ کی تقدیر میں تنہائی ہے، کم نگاہی ہے، ویرانی ہے۔ بلند ٹیلہ پر کھڑا ہے مگر چپ سادھے۔۔ عظمتِ رفتہ کے اس شہکار کو کم لوگ ہی دیکھنے آتے ہیں۔ ہم سنتے تھے کہ بستیوں کے مقدر دریاؤں سے جڑے ہیں۔ دریا اپنا کنارہ چھوڑ کر دور چلے جائیں تو آبادیاں ویرانوں میں بدل جاتی ہیں مگر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ عظمت کی نشانیوں کے مقدر سڑکوں سے بھی وابستہ ہیں۔ سڑکیں اپنی راہ بدل لیں تو یہ نشانیاں راہ میں ماری جاتی ہیں۔ رنی کوٹ بھی اسی حال کو پہنچا ہے۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ’بُک ہوم‘ نے شائع کی ہے، جسے ادارے اور مصنف کے شکریے کے ساتھ سنگت میگ میں قسط وار شائع کیا جا رہا ہے. سنگت میگ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close