یہ جنگ نہیں، مذہبی نسل کشی ہے!

وسعت اللہ خان

کیا یہ کسی ایک گروہ (حماس) سے جنگ ہے یا فلسطینی قوم کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی کوشش؟ بالکل ایسے ہی، جیسے ہٹلر نے اپنی نسل پرستانہ نفرت کو ’فائنل سلوشن‘ کا نام دے کر جتنے یہودیوں اور جپسیوں کو قتل کیا جا سکتا تھا، کیا۔

اور اب کل کے مظلوم (یہودی) اسی ’فائنل سلوشن‘ کو فلسطینیوں پر کھل کے منطبق کر رہے ہیں۔ یہ نہ تو کوئی الزام ہے اور نہ ہی کوئی ہوائی۔ اسرائیلی قیادت نے کبھی اس منصوبے کو چھپایا بھی نہیں۔

اگر کسی وقت موجودہ اسرائیلی قیادت کو انسانیت سوز یا جنگی جرائم کی پاداش میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا تو اسے مجرم ثابت کرنے کے لیے وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی چار نومبر دو ہزار تئیس کی تقریر ہی کافی ہوگی۔ دنیا سے ’شیطانی قوت‘ (حماس) کو جڑ سے اکھاڑ دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے نیتن یاہو نے عہدنامہ عتیق (تورات) کے ایک پیرے کا خصوصی حوالہ دیا۔
’’پیغمبر سیموئیل نے شاہ ساؤل سے کہا کہ میں حکمِ خداوندی کے مطابق مصر سے ہجرت کرنے والے بنی اسرائیلیوں پر امالک قوم کے حملوں کا انتقام لوں گا۔ ان کے تمام مرد، عورتیں، نوعمر اور نوزائیدہ بچے، گائے، بیل ، بھیڑیں، اونٹ اور گدھے واجب القتل ہیں۔ کوئی زندہ نہیں بچنا چاہیے۔‘‘

اگرچہ تورات میں تئیس ہزار سے زائد آیات میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان تو کجا کسی پھل دار درخت کو نقصان پہنچانا بھی ظلم ہے، مگر مذہبی انتہا پسند اپنی قاتلانہ پالیسی کو حلال قرار دینے کے لیے صرف ان آیات کا حوالہ دیتے ہیں، جن سے دشمنوں کو امالک ثابت کر کے ان کی نسل کشی کو ایک مذہبی فریضہ سمجھا جائے۔

ویسے بھی جب کسی قبیح فعل پر مذہب کی چھاپ لگا دی جائے تو پھر مخالف گروہ کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کا عمل بھی مقدس قرار پاتا ہے اور انفرادی و اجتماعی احساسِ جرم بھی کبھی نہیں ستاتا۔

سات اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی جنوبی اسرائیل پر اچانک یلغار سے بہت پہلے ہی اسرائیل کی موجودہ مخلوط حکومت کو خود اسرائیلی میڈیا اور حزبِ اختلاف ملکی تاریخ کی سب سے انتہا پسند حکومت قرار دے چکے تھے، جسے اپنے صاف صفائی کے ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھانے کا جواز سات اکتوبر کی شکل میں ہاتھ آ گیا۔

نیتن یاہو کی چار نومبر کی تقریر نے اسرائیل کی جنگی سمت طے کر دی۔ حکومتی وزراء اور برسرِ اقتدار مذہبی سیاسی اتحاد کے ارکانِ پارلیمان نے کھل کے کہا کہ انیس سو اڑتالیس کے نکبہ کی طرح کے ایک اور نکبہ کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کو ہر فلسطینی سے پاک کر دیا جائے اور اس پٹی پر ہل چلوا کے اسے اسرائیل میں ضم کر لیا جائے اور پھر غربِ اردن کی یہودی آبادکاری کی طرز پر غزہ بھی آبادکاروں کے حوالے کر دیا جائے۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے کہا کہ ہمارا ہدف درست نشانہ نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاد اردان نے عالمی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ وقت غلط اور صحیح کی بحث کا نہیں بلکہ ہمارا ساتھ دینے کا ہے۔ موجودہ اسرائیلی وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ نے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس انسانی شکل میں ایک وحشی جانور ہے، جو کسی بھی رحم و رعایت کا مستحق نہیں۔

یونیسیف کے ترجمان نے دلدوز تصویر کشی کی کہ غزہ بچوں کا قبرستان اور زندوں کے لیے جہنم ہے۔

ایک حالیہ سروے میں سینتالیس فیصد اسرائیلی شہریوں نے رائے دی کہ جنگ کے اگلے مرحلے کے دوران اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کہ غزہ کی عام فلسطینی آبادی کن حالات سے گذر رہی ہے۔

غربِ اردن میں اگرچہ حماس کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے، پھر بھی گزشتہ چھ ہفتے میں وہاں اسرائیلی آباد کاروں نے سیکڑوں فلسطینیوں کو اغوا کر کے انھیں اذیتیں دیں، گھر مسمار کر دیے یا فلسطینی خاندانوں کو بندوق کی نوک پر بے گھر کر دیا۔ فوج نے دو ہزار سے زائد گرفتاریاں کیں اور ڈھائی سو کے لگ بھگ فلسطینی نوجوانوں اور بچوں کو گولی مار کے ہلاک کر دیا۔

مگر رباعی جل جیکب جیسے کچھ اعتدال پسند یہودی علما بنی اسرائیل کے ہاتھوں امالک کو تہہ تیغ کیے جانے کی واقعے کی تفسیر یوں کرتے ہیں کہ اس روایت کو آج کے دور میں ہر دشمن کو نیست و نابود کرنے کا بہانہ بنانا بلاجواز ہے۔

اس روایت کی یہ تشریح بھی تو ہو سکتی ہے کہ اپنے نفس کے شیطان کو قتل کر دیا جائے، مگر رباعی اسرائیل ہیس جیسے انتہاپسند علما سمجھتے ہیں کہ فلسطینی آج کے دور کے امالک ہیں، چنانچہ انہیں جڑ سے ختم کر دیا جائے۔

انیس سو اسی میں رباعی اسرائیل ہیس نے اس نظریے کی بابت جو مضمون لکھا، اس کا عنوان تھا ’’تورات میں نسل کشی کا حکم‘‘۔ اس مضمون پر تنقید کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس ایلن دارشووٹز نے انیس سو ستانوے میں شایع ہونے والی اپنی کتاب ’’ناپید ہوتے امریکی یہودی‘‘ میں کہا کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ فلسطینی آج کے امالک اور واجب القتل ہیں تو پھر ان مسلمان شدت پسندوں کا نظریہ تسلیم کرنے میں کیا رکاوٹ ہے، جو یہودیوں کے قتال کی سند قرآن سے ڈھونڈھ کر اپنی دہشت گردی کو جائز قرار دیتے ہیں۔

نیویارک میں جنم لینے والے باروش گولڈسٹین کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ فلسطینی آج کے امالک ہیں، چنانچہ اس نے انیس سو چورانوے میں تورات کے ’احکامات‘ کی روشنی میں الخلیل (ہیبرون) کی ایک مسجد میں گھس کے انتیس نمازیوں کو قتل کر دیا۔ گولڈسٹین کی قبر اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے متشدد یہودیوں کے لیے ایک مقدس مرجع بن گئی۔ قبر پر لکھا ہے کہ ’’وہ پاک ہاتھوں اور پاک دل کے ساتھ اس جہان سے گیا۔‘‘

گولڈسٹین کے معتقدین میں اسرائیل کے موجودہ وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر بھی شامل ہیں، جنہوں نے نہ صرف سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہودی آبادکاروں میں ہزاروں ہتھیار تقسیم کیے بلکہ وہ غزہ میں عارضی جنگ بندی کی مخالفت کرنے والے تین وزراء میں بھی شامل ہیں۔ ان کے گھر میں باروش گولڈسٹین کی تصویر بھی لٹکی ہوئی ہے۔ انہیں نسل پرستانہ خیالات کو فروغ دینے اور غربِ اردن میں ایک یہودی دہشت گرد گروہ کی سرپرستی پر عدالت سے سزا بھی مل چکی ہے۔

کل کے مجرم بن گویر آج قومی سلامتی کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں اور انہیں ایک ایسے وزیرِ اعظم (نیتن یاہو) کی کھلی سرپرستی حاصل ہے، جو خود بھی اپنی تقاریر میں فلسطینیوں کو آج کے دور کا امالک کہہ کر صفحہِ ہستی سے مٹانے کے لیے ’تورات کی آیات‘ کا حوالہ دیتے ہیں۔

پھر بھی اگر دہشت گرد ہیں تو فلسطینی ہیں، کہ جن کے بارے میں ایک سابق خاتون وزیرِ قانون آیلٹ شاکید نے دو ہزار چودہ میں غزہ پر اسرائیل کی اندھادھند بمباری کے موقع پر کھل کے اپنے فیس بک پیچ پر لکھا کہ ’’ہر دہشت گرد کے پیچھے درجنوں مرد اور عورتیں ہیں، جن کی مدد کے بغیر وہ دہشت گرد نہیں بن سکتا۔ لہٰذا یہ تمام سہولت کار بھی مسلح دشمن کی تعریف پر پورے اترتے ہیں اور واجب القتل ہیں۔ ان میں وہ مائیں بھی شامل ہیں جو ماتھے پر بوسہ دے کر ہار پھول ڈال کے اپنے جہنمی بیٹوں کی میت رخصت کرتی ہیں۔ ایسی ماؤں کو بھی ایسے بیٹوں کے پاس پہنچا دینا ضروری ہے۔ بلکہ ان گھروں کو بھی مٹ جانا چاہیے، جن میں یہ سانپ پلتے ہیں۔ بصورتِ دیگر اور سنپولیے پیدا ہوں گے۔ اگر یہ اور ان کے گھر نہیں ہوں گے تو مزید دہشت گرد بھی پیدا نہیں ہوں گے۔‘‘

اسرائیل کے موجودہ وزیرِ ثقافت ایمیہائی ایلیاہو نے مشورہ دیا کہ کیوں نہ غزہ پر ایٹم بم گرا کے قصہ ہی پاک کر دیا جائے۔ وزیرِ ثقافت کو اس مشورے کی سزا بس یہ ملی کہ نیتن یاہو نے انہیں کابینہ اجلاس میں شرکت سے عارضی طور پر روک دیا (مطلب یہ تھا کہ جو باتیں کمرے میں کرنے کی ہوتی ہیں، وہ تم نے برسرِ عام کیسے کہہ دیں۔)

کیا اب بھی کوئی سمجھتا ہے کہ ہر فلسطینی کو ایک لاش کی صورت دیکھنے کا آرزو مند اسرائیل کا حکمران طبقہ کبھی بھی ایک آزاد فلسطینی ریاست برداشت کر سکتا ہے؟

بشکریہ: ایکسپریس نیوز
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close