علی سدپارہ سمیت لاپتہ کوہ پیماؤں کا تیسرے روز بھی سراغ نہ مل سکا

نیوز ڈیسک

کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیما محمد علی سد پارہ اور ان کے دیگر غیر ملکی ساتھیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن تیسرے روز بھی جاری رہا، لیکن تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا

تفصیلات کے مطابق موسمِ سرما میں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی کے دوران لاپتہ پونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور اُن کے دو غیر ملکی ساتھیوں کا تین روز گزر جانے کے باوجود کچھ پتہ نہیں چل سکا، تاہم ان کی تلاش اب بھی جاری ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ پیر کے روز کے ٹو کی بالائی سطح بادلوں سے مکمل طور پر ڈھکی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے چوٹی پر حد نگاہ بہت کم تھی، اس کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے پیر کی صبح تقریباً 7000 میٹر کی بلندی تک پرواز کی تاکہ لاپتہ کوہ پیماؤں کا سراغ لگایا جا سکے

دوسری جانب گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تینوں کوہ پیماؤں کی زندگی کے امکان کم ہونے لگے ہیں، علی سد پارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی اپنے آبائی علاقے لوٹ گئے ہیں اور وہیں سے علی سدپارہ سے متعلق کسی بھی اطلاع کا باضابطہ اعلان کریں گے

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮐﻮﮦ ﭘﯿﻤﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻠﯽ ﺳﺪ ﭘﺎﺭﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﺎﺟﺪ ﺳﺪ ﭘﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﻧﺠﯽ ﭨﯽ ﻭﯼ ﭼﯿﻨﻞ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ”ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﻭﭘﺮ ﺁ ﺟﺎﺅ” ۔ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑُﻼ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

ﺳﺎﺟﺪ ﺳﺪﭘﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐُﻞ 25 ﺳﮯ 30 ﮐﻮﮦ ﭘﯿﻤﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺻﺮﻑ ﮨﻢ 4 ﺭﮦ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺑﺲ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﺍٓﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﺸﮑﻞ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺗﮭﺎ

ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍٓﮐﺴﺠﯿﻦ ﺳﻠﻨﮉﺭ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﺍٓﺟﺎﺅ،ﻣﮕﺮ ﺑﺪ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺻﺤﺖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﻧﮧ ﺳﮑﺎ

ﺳﺎﺟﺪ ﺳﺪﭘﺎﺭﮦ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺟﻮ ﺑﭽﯽ ﮐُﮭﭽﯽ ﺍٓﮐﺴﺠﯿﻦ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺧﺮﺍﺑﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ ، ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﺎ ﭘﮍﺍ

ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ، ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻨﻮﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺟﮯ ﭘﯽ ﺟﺐ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﺎ، ﺑﺲ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﮒ ﺳﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﯽ

ﺳﺎﺟﺪ ﺳﺪ ﭘﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺭﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﻭﮦ ﻣﻮﺳﻢ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻣﺪﺍﺩ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺳﺮﭺ ﺍٓﭘﺮﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﻮﺳﮑﺎ ﮨﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﺗﮏ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺑﮩﺖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺎﺭ ﺗﮭﮯ

ﺳﺎﺟﺪ ﺳﺪ ﭘﺎﺭﮦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﻭﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺩﻭﭘﮩﺮ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ "ﮐﮯ ﭨﻮ” ﮐﻮ ﺳﺮ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ

واضح رہے کہ محمد علی سدپارہ اپنے دو غیر ملکی کوہ پیما ساتھیوں جان اسنوری اور جوان پابلو موہر کا 5 فروری کی شام سے بیس کیمپ اور اپنی ٹیم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close