مجھ پر قیامت کی وجہ فیض آباد دھرنا فیصلہ ہے، فائز عیسٰی. جج نے فائز عیسٰی کو جھاڑ پلا دی

ویب ڈیسک

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی لارجر بینچ نے جسٹس فائز عیسٰی سے متعلق کیس کی سماعت کی
جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو شاید اسلامی تعلیمات کا بھی علم نہیں، انہوں نے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کیے، نبی کریمﷺ بھی اپنی اہلیہ کے لیے کام کرتے تھے، فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے، سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے، فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے
جسٹس فائز عیسٰی نے اپنے دلائل میں کہا کہ میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، اپنی اہلیہ بیٹی اور بیٹے سے معذرت خواہ ہوں، میری وجہ سے اہلیہ اور بچوں کے خلاف فیصلہ آیا، آج تک ایک شخص عدالت میں موجود نہیں ہے، کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان دراصل منافقین کی قوم ہیں
جسٹس فائز عیسٰی نے کہا کہ "غم عشق لے کر جائیں کہاں آنسوؤں کی یہاں قیمت نہیں” کیس ایف بی آر کو بھجوانے کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز تھا، آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، عدالتی حکم آئین اور متعدد قوانین کے خلاف ہے، کسی شخص کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی فوجداری جرم ہے، میری بیٹی اور بیٹے کو ایف بی آر نوٹس کا حکم بنیادی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا، تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلے ہی ایف بی آر کو کاروائی مکمل کرنے کا کہا گیا
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ کیا فائز عیسٰی اس عدالت کا جج نہیں ہے؟ کیا عظمت سعید اور آصف سعید کھوسہ کے نام بہت مقدس ہیں، آپ چاہتے ہیں موجودہ چیف جسٹس کا نام لوں، خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے بعد مجھ پر قیامت برپا کی گئی، خادم رضوی نے دھرنا کیس پر کوئی نظر ثانی دائر نہیں کی، خادم رضوی کے علاوہ ہر شخص نے ہی نظر ثانی دائر کی
جسٹس منیب اختر نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو جھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ مجھ سے ایسا کچھ منسوب نہ کریں جو میں نے نہیں کہا، آپ کی عزت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جو مرضی الزام لگائیں
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے دلائل دیے کہ خاتون چیئرمین ایف بی آر کو میرا کیس جاتے ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، محکمہ کسٹم سے تین ماہ کے لیے چیئرمین ایف بی آر لایا گیا، میری اہلیہ کا ٹیکس کمشنر کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا گیا، عدالت نے نوٹس لیا تو ٹیکس معاملات واپس کراچی منتقل ہوئے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ عدالتی حکم میں لکھا ہے کہ ایف بی آر کی جانچ پڑتال اسلام آباد میں ہوگی
جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ عدالتی حکم میں تضاد ہے، وقت کم ہے عدالت صبح 9:30 بجے سماعت کیا کرے
جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ کو وقت کی قلت کا خیال اب آیا ہے، نظرثانی کیس شروع ہوا تو آپ نے نئی درخواست ڈال دی، مارچ کا پورا مہینہ آپ نے ضائع کر دیا، جسٹس فائز عیسٰی ادھر اُدھر کی باتیں نہ کریں اپنا کیس چلائیں، ہمارا کام لوگوں کو جیل بھجنا نہیں فیصلے کرنا ہے، ہم کیس چلانا چاہتے ہیں آپ کہانیاں نہ سنائیں
جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ایف بی آر نے آج تک مجھے نوٹس نہیں بھیجا، میرے بچے اور اہلیہ میرے زیر کفالت نہیں، لندن جائیدادیں خریدتے وقت بھی اہلیہ اور بچے زیر کفالت نہیں تھے، عمران خان کی طرح میری اہلیہ نے جائیداد نہیں چھپائی، نیازی سروسز والا کیس ایف بی آر کو نہیں بھیجا گیا، میرے کیس میں عدالت نے تفریق سے کام لیا، لندن جائیدادوں کی کل مالیت ایف سکس کے ایک پلاٹ کے برابر نہیں، فروغ نسیم روسٹرم پر آکر جھوٹ بولتے رہے۔
عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close