Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Can-artificial-intelligence-make-the-world-disease-free
سائنس و ٹیکنالوجیاہم ترینتازہ ترینخبریں

کیا آرٹیفیشل انٹیلیجینس سے دنیا بیماریوں سے پاک ہو سکتی ہے؟

By Akhtar Rasool
مارچ 9, 2024 3 Min Read
0

مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلیجینس (اے آئی) پر ہونے والی پیش رفت نے جہاں مختلف شعبوں میں اپنے اثرات مرتب کیے ہیں وہیں یہ تیزی سے طبی منظر نامے کو بھی تبدیل کر رہی ہے، جس کے بعد ماہرین کینسر اور الزائمز جیسی موذی بیماریوں کو شکست دینے کی امید کر رہے ہیں

اے آئی پر کام کرنے والی گوگل ڈیپ مائنڈ کے سی ای او ڈیمس حیسابس کہتے ہیں کہ انہیں لگتا ہے کہ ہم اس معاملے میں بہت قریب ہیں۔

ٹیکنالوجی پوڈ کاسٹ ہارڈ فوک میں گفتگو کرتے ہوئے ڈیمس نے کہا ”ہم دل کی بیماری، کینسر جیسی بڑی بیماری کے لیے حقیقی معنوں میں اے آئی سے تیار کردہ پہلی دوائیں حاصل کرنے سے چند سال دور ہیں۔“

آرٹیفیشل جنرل انٹیلیجینس (اے جی آئی) میں آئندہ بڑی پیش رفت یہ ہوگی کہ یہ انسانوں کی طرح علمی صلاحیت حاصل کرلے گی، جس سے علاج اور ادویہ سازی میں انقلاب برپا ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں پہلے ہی نئی ادویات کی دریافت کے لیے اے آئی اور اے جی آئی کا استعمال کر رہی ہیں۔

ڈیمس کہتے ہیں ”ہم نے ادویات بنانے والی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ڈرگ پروگرامز پر بڑے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں اور انہیں امید ہے کہ آئندہ کچھ برسوں میں ہمارے پاس کلینکل ٹیسٹنگ کے لیے اے آئی سے بنی ادویات ہوں گی۔“

دوسری جانب جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے بلوم برگ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی سائنسدان نادیہ اکسیر سمیت کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مکمل طور پر بیماریوں سے پاک دنیا وہم ہی ہو سکتا ہے۔

نادیہ اکسیر کہتی ہیں ”بیماریوں میں ارتقا کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس لیے عالمی وباؤں یا ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث بیماریوں کے بدلتے پیٹرن کی وجہ سے ہم حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ جو ٹیکنالوجی آج کے حالات میں مددگار ہے، وہ مستقبل میں بھی کارگر رہے گی یا نہیں۔“

ان انتباہات کے باوجود صحت کی دیکھ بھال یعنی ہیلتھ کیئر پر اے آئی کا اثر پہلے سے ہی بڑھ چکا ہے۔ اے آئی سے چلنے والی مشینیں تشخیص اور علاج کو بہتر بناتی ہیں جب کہ ڈاکٹرز تصویر کے تجزیے سے لے کر لیبارٹری کے نتائج کی تشریح کرنے تک کے کام کے لیے مصنوعی ذہانت پر انحصار کر رہے ہیں۔

تیزی سے تبدیل ہونے والی اے آئی خصوصیات کے ساتھ ڈاکٹرز اور معالجین مستقبل قریب میں تبدیلی کی لہر کی توقع کرتے ہیں۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول میں بائیومیڈیکل انفورمیٹکس کے چیئر زاک کوہانے کہتے ہیں کہ جس طرح ہم ادویات لیتے ہیں اور صحت کی دیکھ بھال کرتے ہیں، اے آئی میں انسانی صحت کی حالت کو بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔

کوہانے نے کئی ایسے شعبوں کی نشاندہی کی، جہاں اے آئی تشخیص کو تیز کر سکتی ہے۔ ایسے علاج تجویز کر سکتی ہے، جسے ایک ڈاکٹر نظر انداز کرسکتا ہو۔ یہاں تک کہ ٹیومر کے منفرد جینیاتی میک اپ جیسے عوامل کی بنیاد پر علاج کے بارے میں مریض کے ردِعمل کی پیش گوئی بھی کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ممکنہ طور پر اے آئی ٹولز کا عروج دیکھیں گے، جو مریض کے ریکارڈ میں بتائی جانے والی تبدیلیوں اور اتار چڑھاؤ کو ٹریک کرنے کے قابل ہوں گے اور یہ کسی موجودہ حالت کی بعض پیچیدگیوں کے لیے خطرے کی نشاندہی کر سکتے ہوں گے۔

البتہ یہ پیشرفت دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ چیلنجز بھی لائے گی۔ نادیہ اکسیر جیسے ماہرین اے آئی کے پھیلاؤ میں اضافے سے ہیلتھ کیئر کے موجودہ فرق کے خطرے کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔

اسی طرح اس شعبے میں تیز پیش رفت میں ریگولیٹری فریم ورکس رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

کوہانے کا کہنا ہے کہ بالآخر اے آئی کی ایک منزل ہے اور ہم اس ٹول کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں وہ انسانیت، مجموعی طور پر معاشرے پر منحصر ہے۔ ان کے بقول بہت سے فوائد حاصل کرنے کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لحاظ سے اے آئی ایک ذریعہ ہے لیکن تمام بیماریوں کا علاج نہیں ہے۔

Tags:

artificial general intelligenceArtificial Intelligenceartificial intelligence edurekaartificial intelligence in agricultureartificial intelligence in healthcareartificial intelligence timelineartificial intelligence with pythonbenefits of artificial intelligence in healthcarehow dangerous is artificial intelligencesuper intelligent artificial intelligencetimelapse of artificial intelligenceus artificial intelligence
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
farmer-of-sindh-in-the-context-of-history
Previous

سندھ کے کسان؛ تاریخ کے تناظر میں

Where-did-the-people-of-India-originally-come-from-What-large-DNA-studies-reveal-
Next

ہندوستان کے لوگ اصل میں کہاں سے آئے تھے؟ بڑے ڈی این اے مطالعے سے کیا پتہ چلتا ہے۔۔

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme