
کسی بھی معاشرے کی سمت جاننی ہو تو اس کے بجٹ کو دیکھ لیجیے۔ ریاستیں اپنے وسائل کہاں خرچ کرتی ہیں اور کن شعبوں سے محصولات اکٹھی کرتی ہیں، یہی فیصلے آنے والے عشروں کی سماجی اور معاشی ساخت طے کرتے ہیں۔
پاکستان میں آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران سامنے آنے والی ایک تجویز نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ حکومت اسٹیشنری اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ بظاہر یہ محض آٹھ فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ ٹیکس بوجھ میں 80 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔
یہ اضافہ کتابوں، کاپیوں، رجسٹروں، قلموں، مارکروں، کاغذ اور دیگر تعلیمی سامان کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان پہلے ہی دنیا کے سب سے بڑے تعلیمی بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ریاست اپنے مالی اہداف پورے کرنے کے لیے تعلیم کو مزید مہنگا کرنے جا رہی ہے؟
یہ محض بجٹ کی ایک شق نہیں۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ پاکستان اپنی آنے والی نسلوں کو خرچ سمجھتا ہے یا سرمایہ؟
ایک پرانا وعدہ، جو کبھی پورا نہ ہو سکا
یہ تنازع پہلی بار سامنے نہیں آیا۔ مالی سال 2024-25 کے بجٹ سے قبل متعدد اسٹیشنری اشیا سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ تھیں۔ جولائی 2024 سے حکومت نے اس استثنیٰ کو ختم کرتے ہوئے 10 فیصد جی ایس ٹی نافذ کر دی۔
اس فیصلے پر والدین، تعلیمی حلقوں اور ناشرین کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آئے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس ختم کرنے کی سفارش بھی کی۔ بعد ازاں وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں اس پر نظرثانی کا عندیہ دیا، لیکن عملی طور پر یہ ٹیکس برقرار رہا۔ یوں نظر ثانی کا یہ عندیہ محض ایک جھانسا ثابت ہوا۔
اب اگر شرح 18 فیصد تک پہنچتی ہے تو صرف دو برسوں کے اندر تعلیمی سامان پر عائد سیلز ٹیکس تقریباً دوگنا ہو جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان، جہاں تعلیم تک رسائی پہلے ہی ایک مسئلہ ہے، وہاں تعلیمی اخراجات میں مزید اضافہ برداشت کیا جا سکتا ہے؟
ایک بچے کی کاپی سے قومی معیشت تک
بجٹ دستاویزات میں یہ اضافہ شاید معمولی نظر آئے، لیکن پاکستان کے کروڑوں خاندانوں کے لیے تعلیم کا خرچ صرف تعلیمی اداروں کی فیس تک محدود نہیں ہوتا۔ یونیفارم، کتابیں، کاپیاں، رجسٹر، قلم، پنسلیں، پرنٹنگ، اسائنمنٹس اور امتحانی مواد سب ایک مسلسل مالی بوجھ کا حصہ ہیں۔
ملک میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے۔ اگر تعلیمی سامان کی قیمتوں میں ٹیکس کی وجہ سے مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر براہ راست گھریلو بجٹ پر پڑے گا۔
خصوصاً متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لیے، جو پہلے ہی مہنگائی، بجلی کے بلوں اور سکڑتی ہوئی آمدنیوں کے دباؤ کا شکار ہے، یہ اضافی خرچ بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ داخلے اور اخراج کا تعلق اکثر کسی ایک بڑے واقعے سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے معاشی دباؤ سے ہوتا ہے۔ کئی خاندان بچوں کو اس لیے اسکول سے نہیں نکالتے کہ فیس ناقابل برداشت ہو جاتی ہے بلکہ اس لیے کہ مجموعی تعلیمی لاگت آہستہ آہستہ ان کی استطاعت سے باہر نکل جاتی ہے۔
دنیا کا دوسرا بڑا تعلیمی بحران
پاکستان کے لیے یہ مسئلہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک پہلے ہی ایک بڑے تعلیمی بحران کے بیچ کھڑا ہے۔
بین الاقوامی اداروں اور سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی ترین آبادیوں میں سے ایک ہے۔
ان میں تقریباً 1 کروڑ 38 لاکھ لڑکیاں اور 1 کروڑ 24 لاکھ لڑکے شامل ہیں۔ یہ تعداد کئی خودمختار ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔
5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 39 فیصد بچے کسی نہ کسی وجہ سے اسکول نہیں جا پاتے۔ بلوچستان میں یہ شرح تقریباً نصف بچوں تک پہنچ جاتی ہے جبکہ سندھ اور جنوبی پنجاب کے متعدد اضلاع میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں کتاب، کاپی اور قلم پر مزید ٹیکس لگانے کی تجویز سامنے آ رہی ہے۔ ایسے میں یہ عمل تعلیم کے پہلے سے ہی زخمی پاؤں پر کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔
اگر کسی ملک میں تعلیم پہلے ہی ایک چیلنج ہو تو تعلیمی اخراجات بڑھانا محض مالیاتی اقدام نہیں رہتا بلکہ سماجی پالیسی کا سوال بن جاتا ہے۔
ریاستیں تعلیم پر ٹیکس نہیں، سرمایہ کاری کرتی ہیں
جدید دنیا میں تعلیم کو محض ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ معاشی ترقی کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔
جن ممالک نے گزشتہ نصف صدی میں غیر معمولی ترقی کی، ان میں جنوبی کوریا، سنگاپور، فن لینڈ، آئرلینڈ اور ویتنام نمایاں مثالیں ہیں۔
ان تمام ریاستوں میں ایک مشترک عنصر پایا جاتا ہے: تعلیم تک رسائی کو آسان اور سستا بنانا۔
عالمی بینک اور یونیسکو مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انسانی سرمایہ اکیسویں صدی کی معیشتوں کا سب سے اہم اثاثہ بن چکا ہے۔ ایسے میں تعلیمی اخراجات میں اضافہ مستقبل کی پیداواری صلاحیت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
تعلیم پر ہونے والا خرچ درحقیقت خرچ نہیں بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، جس کا منافع بہتر روزگار، زیادہ ٹیکس آمدن، بہتر صحت اور زیادہ سماجی استحکام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
پاکستان تعلیم پر کتنا خرچ کرتا ہے؟
یہ سوال اس بحث کا مرکزی نکتہ ہے۔ پاکستان میں تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.5 سے 2 فیصد خرچ کیا جاتا ہے۔ یہ شرح نہ صرف عالمی اوسط سے کم ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے کئی ممالک سے بھی پیچھے ہے۔
یونیسکو برسوں سے کم از کم 4 سے 6 فیصد جی ڈی پی تعلیم پر خرچ کرنے کی سفارش کرتا آ رہا ہے۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا اصل مسئلہ تعلیمی سامان پر کم ٹیکس نہیں بلکہ تعلیم پر کم سرمایہ کاری ہے۔
جب بنیادی سرمایہ کاری ناکافی ہو اور پھر تعلیمی اخراجات میں مزید اضافہ کیا جائے تو اثرات دوہری شدت سے سامنے آتے ہیں۔
کیا واقعی حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یا یہ سب سے آسان راستہ ہے؟
حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ بڑھتے ہوئے مالیاتی خسارے، قرضوں کی بھاری ادائیگیوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے باعث محصولات میں اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ آئندہ مالی سال میں 14 سے 15 ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس وصول کرنے کا ہدف اسی حکمت عملی کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔
لیکن اس مؤقف کے ساتھ ایک سوال بھی مسلسل موجود ہے: کیا ریاست کے پاس واقعی کوئی اور راستہ نہیں، یا پھر تعلیم جیسے شعبے پر ٹیکس عائد کرنا سب سے آسان راستہ سمجھ لیا گیا ہے؟
پاکستان میں جب بھی نئے ٹیکسوں کی بات ہوتی ہے تو اکثر دلیل دی جاتی ہے کہ یہ اقدامات آئی ایم ایف پروگرام کے تقاضوں کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ناقدین پوچھتے ہیں کہ اگر مالیاتی نظم و ضبط ہی اصل مقصد ہے تو پھر یہ اصول صرف عام شہریوں، تنخواہ دار طبقے اور بچوں کے تعلیمی سامان تک ہی کیوں محدود دکھائی دیتا ہے؟ کیا آئی ایم ایف اس وقت بھی اتنی ہی سختی سے اصلاحات کا مطالبہ کرتا ہے جب اشرافیہ کو حاصل ٹیکس مراعات، مختلف شعبوں میں دی جانے والی رعایتیں، یا سرکاری اخراجات میں غیر ضروری وسعت زیرِ بحث آتی ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ برسوں میں بارہا ایسی تنقید سامنے آئی ہے کہ ریاست کے ریونیو بحران کا بوجھ نسبتاً آسان ہدف سمجھے جانے والے طبقات پر منتقل کر دیا جاتا ہے، جبکہ طاقتور اور بااثر حلقوں کے لیے موجود کئی مالی مراعات بدستور برقرار رہتی ہیں۔ اسی دوران حکومتی اخراجات، پروٹوکول، انتظامی ڈھانچے اور مراعات یافتہ نظام کے بارے میں عوامی سطح پر بحث کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
پاکستان کی اسٹیشنری مارکیٹ کا حجم تقریباً 700 ارب روپے سالانہ بتایا جاتا ہے۔ 10 فیصد کے بجائے 18 فیصد جی ایس ٹی نافذ ہونے کی صورت میں حکومت کو اضافی محصولات حاصل ہو سکتی ہیں، لیکن ناقدین کا استدلال ہے کہ یہ آمدن مجموعی وفاقی اخراجات کے تناظر میں محدود جبکہ اس کے سماجی اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ریاست واقعی مشکل معاشی فیصلے کرنے پر مجبور ہے تو سب سے پہلے ان شعبوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے جہاں اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں یا جہاں ٹیکس استثنیٰ اور مراعات کا فائدہ نسبتاً خوشحال طبقوں کو پہنچتا ہے۔
اسی لیے بحث کا اصل مرکز صرف یہ نہیں کہ حکومت کو مزید ریونیو درکار ہے یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس ریونیو کی قیمت کون ادا کرے گا۔ کیا اس کا بوجھ ان بچوں کے بستوں پر ڈالا جائے گا جو پہلے ہی ایک مشکل تعلیمی نظام سے گزر رہے ہیں، یا پھر ریاست اپنے مالیاتی مسائل کے حل کے لیے زیادہ منصفانہ اور پائیدار راستے تلاش کرے گی؟
صرف ٹیکس نہیں، قیمتوں کا نفسیاتی اثر بھی
پاکستان میں تعلیمی سامان کی قیمتیں پہلے ہی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران کاغذ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کتابوں، کاپیوں اور پرنٹنگ لاگت میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے ساتھ نجی اسکولوں کی فیسوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔
بہت سے والدین کے لیے اصل مسئلہ صرف آٹھ فیصد اضافی ٹیکس نہیں بلکہ مجموعی تعلیمی اخراجات کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔
مزید یہ کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب کسی شعبے کی بنیادی لاگت بڑھتی ہے تو بعض اوقات مارکیٹ میں قیمتوں کا اضافہ اصل ٹیکس اثر سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے، سپلائرز اور دیگر کاروباری حلقے نئی قیمتوں کا تعین اپنے حساب سے کرتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارف پر منتقل ہوتا ہے۔ یوں ایک محدود مالیاتی فیصلہ پورے تعلیمی نظام میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کر سکتا ہے۔
آبادی کا تحفہ یا بحران؟
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا تناسب غیر معمولی حد تک بلند ہے۔ ماہرینِ معیشت اسے ”آبادیاتی منافع“ (Demographic Dividend) کہتے ہیں، یعنی ایسی صورتِ حال جب کام کرنے کی عمر کی آبادی زیادہ ہونے کے باعث ایک ملک کو تیز معاشی ترقی کا منفرد موقع میسر آتا ہے۔
اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور مہارتیں فراہم کی جائیں تو یہی آبادی ترقی کا انجن بن سکتی ہے، لیکن اگر تعلیم، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہی آبادی سماجی اور معاشی دباؤ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
یونیسف اور دیگر بین الاقوامی ادارے برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان کو اپنی نوجوان نسل پر سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی۔ تعلیم اس سرمایہ کاری کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔
ایک قوم کا مستقبل کتنے فیصد ٹیکس کا متحمل ہو سکتا ہے؟
بجٹ سازی ہمیشہ ترجیحات کا کھیل ہوتی ہے۔ ریاست کو محصولات بھی درکار ہوتے ہیں اور اخراجات بھی پورے کرنے ہوتے ہیں، لیکن ہر ٹیکس کا معاشی اثر یکساں نہیں ہوتا۔ کچھ ٹیکس محض آمدن بڑھاتے ہیں، جبکہ کچھ ٹیکس مستقبل کی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
کتاب، کاپی اور قلم پر عائد ہونے والا ٹیکس اسی دوسری قسم سے تعلق رکھتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی خواندگی، اسکول تک رسائی، تعلیمی معیار اور انسانی ترقی کے اشاریوں میں متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر تعلیم کی لاگت مزید بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف موجودہ والدین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والی نسلوں تک پھیل سکتے ہیں۔
آخرکار ریاستوں کی طاقت صرف ان کے محصولات سے نہیں ناپی جاتی۔ ان کی اصل قوت ان لوگوں سے بنتی ہے جو ان کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات سے نکل کر سائنس دان، انجینئر، معلم، ڈاکٹر، معیشت دان اور اختراع کار بنتے ہیں۔
تعلیم اور مستقبل کے وسیع تر تناظر میں پاکستان کے بجٹ کے سامنے اصل سوال یہی ہے: کیا کتاب کو آمدن کا ذریعہ سمجھا جائے گا یا ترقی کا؟ اس سوال کا جواب صرف آئندہ مالی سال کی محصولات کا نہیں، بلکہ آنے والے عشروں کے پاکستان کا تعین کرے گا۔
________________________




