6 جون 2021 کا تاریخ ساز دن

حفیظ بلوچ

6 جون 2021 محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ سندھ میں زمین، شناخت اور مقامی حقِ ملکیت کی جدوجہد کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ وہ دن تھا جب ہزاروں لوگوں نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے مرکزی دروازے کے سامنے جمع ہو کر ترقی کے اس نام نہاد ماڈل کو چیلنج کیا، جسے مقامی آبادی اپنی زمینوں، وسائل اور تاریخی بستیوں کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔

اس احتجاج کی بنیاد کسی ایک دن میں نہیں پڑی تھی۔ اس کے پیچھے برسوں کی مزاحمت، مقامی گوٹھوں کی بے دخلیوں، زرعی زمینوں کی تباہی اور ان پر قبضوں، قدیم گوٹھوں کے خاتمے اور مقامی لوگوں کی شکایات کی ایک طویل تاریخ موجود تھی۔ گڈاپ، کاٹھور، ملیر اور گردونواح کے علاقے کئی برسوں سے اس تنازع کا مرکز بنے ہوئے تھے۔ لوگوں کو ان کی اپنی زمینوں سے بےدخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جاتا، مرد و خواتین مزاحمت کرتے، بلڈوزروں کے سامنے کھڑے ہو جاتے، جبکہ تشدد، فائرنگ اور گرفتاریاں معمول بنتی جا رہی تھیں۔

مقامی آبادی اور سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی تھی کہ ترقی کے نام پر مقامی لوگوں کو ان کی آبائی زمینوں سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ڈان اور عوامی آواز کے سوا کوئی بھی اس مزاحمت اور انڈیجینئس مؤقف کو کوریج دینے کے لیے تیار نہیں تھا، کیونکہ سامنے ملک ریاض تھا، جو زرداری خاندان، شریف خاندان اور ریاستی طاقت کے مختلف مراکز کا لاڈلہ سمجھا جاتا تھا اور جسے ریاستی اثاثے کی حیثیت حاصل تھی۔

مگر انڈیجینئس موومنٹ اور مقامی مزاحمت سوشل میڈیا کے ذریعے نہ صرف پورے سندھ بلکہ پورے پاکستان اور دنیا تک پہنچ رہی تھی۔ اسی مزاحمت کے دوران سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس نے اسی سرزمین پر، جہاں یہ جدوجہد جاری تھی، ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں سندھ کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، سوائے پیپلز پارٹی کے۔ اسی آل پارٹیز کانفرنس میں 6 جون کے تاریخی دھرنے کا اعلان کیا گیا۔

6 جون 2021 کو سندھ کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کراچی پہنچے۔ اگرچہ سندھ سرکار کی جانب سے راستے بند کرنے کی کوششیں کی گئیں، مگر لوگ جوق در جوق دھرنے میں شرکت کے لیے روانہ ہوتے رہے۔ کوئی بسوں میں آیا، کوئی ویگنوں میں، کوئی اپنی گاڑیوں میں، اور بہت سے لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ شریک ہوئے۔

6 جون کی صبح کاٹھور، گڈاپ سے ہم سر گل حسن کلمتی کی سربراہی میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی ریلی کے ساتھ دھرنے کی جگہ پہنچے۔ اس وقت بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کے سامنے بڑے بڑے کنٹینر لگا کر بحریہ ٹاؤن کی جانب جانے والے راستے بند کر دیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

اس اجتماع کی خاص بات یہ تھی کہ یہ محض ایک سیاسی جلسہ نہیں تھا بلکہ ایک عوامی اجتماع تھا، جس میں خواتین، بزرگ، نوجوان، طلبہ، ادیب، سماجی کارکن اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکن شریک تھے۔ دھرنے میں کتابوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے، میڈیکل کیمپ قائم تھا، پانی اور شربت کی سبیلیں لگی ہوئی تھیں؛ الغرض ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی خدمت میں مصروف تھا۔

عینی شاہدین اور مختلف رپورٹس کے مطابق سپر ہائی وے پر ہزاروں افراد جمع ہوئے اور احتجاج اتنا بڑا تھا کہ ٹریفک کی روانی صرف متاثر نہیں ہوئی بلکہ مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ ایم نائن موٹروے تین گھنٹے سے زائد وقت تک بند رہی۔ اس دوران میں سر گل حسن کلمتی اور سر رخمان گل پالاری کے ساتھ دھرنے میں شریک لوگوں سے ملتا رہا۔ ہم نے دھرنے میں سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے بینر تلے ریلی بھی نکالی اور نعرے بھی لگائے۔

اس تحریک کے پس منظر میں ان شخصیات کی جدوجہد بھی شامل تھی جنہوں نے مشکل ترین حالات میں مقامی لوگوں کی آواز کو زندہ رکھا۔ لالہ یوسف مستی خان، سر گل حسن کلمتی اور دیگر ساتھیوں نے ایسے وقت میں اس مسئلے کو اجاگر کیا جب قومی میڈیا اور ریاستی اداروں میں اس موضوع پر بات کرنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ان حالات میں سوشل میڈیا، چند آزاد صحافی اور محدود اخبارات ہی اس جدوجہد کی آواز بنے۔

احتجاج کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے اور اندرونی املاک کو آگ لگنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ سرکاری مؤقف میں ان کارروائیوں کا الزام مظاہرین پر عائد کیا گیا، جبکہ احتجاج کے منتظمین اور سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کا احتجاج پُرامن تھا اور تشدد کا مقصد تحریک کو بدنام کرنا تھا۔

جب ہم نے سنا کہ کچھ لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہیں تو میں اور سر گل حسن کلمتی اسٹیج کی طرف گئے، جو ایک مزدا ٹرک پر بنایا گیا تھا۔ ہم نے اسٹیج پر موجود قائدین سے کہا کہ کچھ لوگ توڑ پھوڑ کر رہے ہیں، انہیں منع کیا جائے۔ اسی وقت اسٹیج پر موجود سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رکن الٰہی بخش بکک نے مائیک پر اعلان کیا کہ جو بھی ہمارے لوگ ہیں وہ بحریہ ٹاؤن کے گیٹ سے دور ہو جائیں اور کسی بھی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، اور جو بھی ایسا کرے گا وہ ہمارے لوگ نہیں ہیں؛ پولیس انہیں روکے اور حراست میں لے۔

کچھ دیر کے لیے معاملہ تھم گیا، مگر ایک وقفے کے بعد پھر یہی شکایت سامنے آئی۔ اس پر سر گل حسن کلمتی نے دوبارہ اعلان کرایا۔ اس وقت قادر مگسی مائیک پر تھے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ شرپسند عناصر دھرنے میں شامل ہمارے لوگ نہیں ہیں۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں اور افسران سے کہا کہ ان شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ پُرامن ہیں اور اپنے خاندانوں کے ساتھ دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر نہ پولیس اپنی جگہ سے ہلی اور نہ ہی توڑ پھوڑ کرنے والے باز آئے۔ اسٹیج سے بار بار اعلان کیا جاتا رہا کہ یہ لوگ ہمارے کارکن نہیں ہیں۔ یہ صرف میری ہی نہیں بلکہ متعدد رپورٹس کی بھی گواہی ہے کہ احتجاج کے اسٹیج سے مسلسل پُرامن رہنے کی اپیلیں کی جا رہی تھیں۔

چشم دید گواہوں کی گواہی، میری اپنی مشاہدات، اور لوگوں سے ہونے والی گفتگو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دھرنے کو ختم کرنے کے لیے باقاعدہ سازش کی گئی۔ بڑے بڑے کنٹینروں کے ذریعے بحریہ ٹاؤن کراچی کے گیٹ کی طرف جانے والے راستے بند کیے گئے تھے اور ان کنٹینروں کے سامنے پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ اس کے باوجود بحریہ ٹاؤن کراچی کا مرکزی گیٹ، جو مکمل طور پر مضبوط لوہے کا بنا ہوا تھا، آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔

آگ لگنے سے چند لمحے پہلے پولیس کا وہاں سے پیچھے ہٹ جانا، میرے سمیت مزاحمتی حلقوں کے لیے متعدد سوالات کو جنم دیتا ہے۔ مزاحمتی حلقوں کا مؤقف تھا کہ گیٹ اور بعض عمارتوں کو لگنے والی آگ کے محرکات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے تھیں۔ بعد میں یہ بات بھی زیرِ بحث آئی کہ متاثر ہونے والی بعض املاک انشورڈ تھیں۔ اسی طرح ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ جلاؤ گھیراؤ سے قبل پولیس کو مخصوص مقامات سے ہٹایا گیا تھا، جبکہ بعض ویڈیوز میں اہلکاروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

یہ تمام سوالات آج بھی مکمل اور شفاف تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ اگر غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوتیں تو یہ واضح ہو سکتا تھا کہ انتشار کے ذمہ دار عناصر کون تھے اور لوہے کا اتنا بڑا اور مضبوط گیٹ اتنی تیزی سے آگ کی لپیٹ میں کیسے آیا۔
ان واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر مقدمات درج کیے گئے۔ انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت متعدد رہنماؤں، کارکنوں اور عام شہریوں کو نامزد کیا گیا۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور مختلف مبصرین نے ان مقدمات کو مقامی مزاحمت کو دبانے کی کوشش قرار دیا۔

اس سب کا تاریک ترین پہلو یہ تھا کہ پورے سندھ کے ہزاروں بے گناہ لوگوں کے ساتھ سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے رہنماؤں، سر گل حسن کلمتی، سائیں عبدالخالق جونیجو، جہانزیب کلمتی اور مقامی زمینداروں کے خلاف بھی متعدد دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔

ان مقدمات کے خلاف ایک اور تاریخ بھی رقم ہوئی۔ دہشت گردی کی ایف آئی آرز کے مقابلے میں پورے سندھ کے وکلا سندھ انڈیجینئس رائیٹس لیگل کمیٹی کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ایک طویل، صبر آزما اور تاریخ ساز قانونی جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ صرف عدالتوں میں لڑی جانے والی قانونی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ انصاف، آئینی حقوق اور عوامی مزاحمت کے حق کی جنگ بھی تھی۔ برسوں تک جاری رہنے والی اس جدوجہد میں سندھ کے وکلا نے ثابت قدمی کے ساتھ مقدمات کا سامنا کیا اور بالآخر کامیابی عوام کے حصے میں آئی۔ ایک ایک کر کے مقدمات اور الزامات عدالتوں میں دم توڑتے گئے اور وہ تمام قوتیں، جو قانون کو مزاحمت کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتی تھیں، سندھ کے وکلا کی استقامت کے سامنے شکست کھا گئیں۔ یوں دہشت گردی کے وہ مقدمات، جن کے ذریعے ایک عوامی تحریک کو مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی، بالآخر رد ہوتے چلے گئے۔

اس تمام داستان میں سر گل حسن کلمتی کا کردار خاص طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ نہ صرف سندھ انڈیجینئس رائیٹس الائینس کے بانی اراکین میں شامل تھے بلکہ سندھ کے عظیم محقق، تاریخ دان، ادیب اور دانشور بھی تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کی تاریخ، ثقافت اور مقامی لوگوں کے حقوق کے لیے وقف کر دی تھی۔ 6 جون 2021 کے بعد انہی سر گل حسن کلمتی کے خلاف متعدد دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے۔ شدید علالت اور بیماری کے باوجود انہوں نے ان مقدمات کا سامنا کیا اور اپنے مؤقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے سے انکار کیا۔

وقت کا ایک تلخ مذاق یہ بھی تھا کہ سر گل حسن کلمتی بیماری سے لڑتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کے خلاف درج کیے گئے مقدمات اور ان پر لگائے گئے الزامات تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ بن کر رہ گئے۔ پھر وہی سندھ سرکار، جس کے دور میں ان پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے تھے، بعد میں سندھ اسمبلی کے فلور پر ان کی علمی، ادبی اور تاریخی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے لگی۔ وزرا اور حکومتی نمائندے سر گل حسن کلمتی کی عظمت کے گیت گاتے رہے، مگر تاریخ یہ سب کچھ خاموشی سے دیکھتی اور اپنے صفحات پر درج کرتی رہی۔ تاریخ کی یادداشت کمزور نہیں ہوتی؛ وہ کرداروں، فیصلوں اور رویّوں کو محفوظ رکھتی ہے اور وقت آنے پر ان کا حساب بھی کرتی ہے۔

اس تمام صورتحال کا ایک اور تاریک پہلو یہ تھا کہ جب ملک ریاض کے کارندے مقامی لوگوں کی زمینوں پر پولیس کی مدد سے قبضے کر رہے تھے، تب ملیر کے منتخب نمائندے خاموش تماشائی بنے رہے اور اپنے لوگوں کی داد رسی کے لیے سامنے نہ آئے۔ مگر جب بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کو آگ لگی، جس کے بارے میں آج بھی سوالات موجود ہیں، تو وہی نمائندے بحریہ ٹاؤن کے در پر حاضری دینے پہنچ گئے۔ یہ ایک واضح دوہرا معیار تھا؛ ایک طرف اپنے غریب لوگ تھے اور دوسری طرف طاقتور قبضہ گیر۔

وقت گزرتا گیا مگر 6 جون 2021 کا احتجاج سندھ کی سیاسی یادداشت کا حصہ بنتا گیا۔ آج، پانچ سال بعد، بحریہ ٹاؤن کراچی اور اس سے متعلق زمینوں کے معاملات، عدالتی فیصلے، تحقیقات اور قانونی تنازعات اس حقیقت کی یاد دلاتے ہیں کہ جن سوالات کو کبھی نظر انداز کیا جاتا تھا، وہ اب قومی سطح پر زیرِ بحث آ چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کی زمین، حقِ ملکیت، ماحولیات اور وسائل پر اختیار کے سوالات پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہیں۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ فوری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ایک دن کی مزاحمت کو اپنا مقام حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ 6 جون 2021 بھی ایسا ہی ایک دن تھا۔ اس دن ہزاروں لوگوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ترقی کا کوئی بھی منصوبہ مقامی آبادی کے حقوق، زمین اور شناخت کو روند کر پائیدار نہیں ہو سکتا۔

جب سندھ کی عوامی مزاحمت کی تاریخ لکھی جائے گی تو 6 جون 2021 کا ذکر صرف ایک احتجاج کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے دن کے طور پر کیا جائے گا جب مقامی لوگوں نے طاقت، سرمائے اور ریاستی پشت پناہی کے سامنے اپنے وجود، اپنی زمین اور اپنے حق کی آواز بلند کی۔

اس تاریخ میں لالہ یوسف مستی خان، سر گل حسن کلمتی اور ان گنت گمنام مرد و خواتین کا کردار بھی یاد رکھا جائے گا، جنہوں نے اپنی دھرتی کے حق میں کھڑے ہونے کا انتخاب کیا۔

6 جون 2021 ایک دن نہیں، ایک عہد کا نام ہے؛ ایک ایسا عہد جو سندھ کی مزاحمتی تاریخ میں ہمیشہ روشن رہے گا اور آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ زمین، شناخت اور حق کے لیے کھڑے ہونے والے لوگ کبھی تاریخ کے حاشیوں میں گم نہیں ہوتے۔

__________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button