2026 ورلڈ کپ کی دال میں کیا کالا ہے؟ وہ سوالات جن سے فیفا نظریں چرانا چاہتا ہے

سنگت ڈیسک

اس بار جب دنیا فٹ بال کے سب سے بڑے میلے کا انتظار کر رہی ہے، تو فضا میں صرف گول، ٹرافی اور جشن کے نعرے گونجنے کا تاثر سراسر جھوٹ ہے۔ اسٹیڈیموں کی چکا چوند روشنیاں ابھی پوری طرح جلنے بھی نہیں پائیں کہ ان کے پیچھے موجود کارپوریٹ منافقت کے سائے لمبے ہونے لگے ہیں۔

کہیں ویزا پالیسیوں کے نام پر غریب ملکوں کے شائقین کے منہ پر دروازے بند کیے جا رہے ہیں، کہیں ٹکٹوں کی اندھی قیمتیں عام مداحوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال کر انہیں کھیل سے باہر دھکیل رہی ہیں، کہیں سیاست کے غلیظ بوٹ کھیل کے پاکیزہ میدان میں داخل ہو چکے ہیں اور کہیں ”سبز ماحولیات“ کے بلند بانگ نعرے خود اس ٹورنامنٹ کے بے پناہ وزن تلے دب کر دم توڑ رہے ہیں۔

2026 کا ورلڈ کپ بلاشبہ تاریخ کا سب سے بڑا فٹ بال میلہ کہلایا جا رہا ہے، لیکن شاید تاریخ میں پہلی بار یہ سوال ایک تازیانے کی طرح اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ واقعی فٹ بال کا جشن ہے؟ یا پھر ایک ایسا عالمی گورکھ دھندا جو کھیل کے لبادے میں صرف اور صرف طاقت، اندھے منافع اور سیاسی اثر و رسوخ کی بھوک مٹانے کے لیے رچایا گیا ہے؟

ورلڈ کپ کبھی صرف ایک کھیل نہیں تھا؛ یہ قوموں کی شناخت، غریبوں کی اجتماعی یادداشت اور عوامی ثقافت کا دھڑکتا ہوا دل تھا، لیکن 2026 کے اس ایڈیشن نے اس بنیادی اعتبار کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے کہ کیا فیفا اب بھی فٹ بال کی نگہبان تنظیم ہے، یا پھر یہ ایک ایسی بے لچک سپر کارپوریشن بن چکی ہے جو معاشی اور سیاسی مفادات کے گندے پانیوں میں اپنی تجوریاں بھرنے کا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

 جب غیر جانبداری کا نقاب نوچ لیا جائے

فیفا کے اپنے قوانین اسے سیاسی طور پر مکمل غیر جانبدار رہنے کا پابند بناتے ہیں۔ ماضی میں اسی فیفا نے کھلاڑیوں، قومی فیڈریشنوں اور حکومتوں کو ذرا سی سیاسی مداخلت پر معطل کرنے کی دھمکیاں دیں، لیکن 2026 ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑھتی ہوئی حد سے زیادہ قربت نے اس نام نہاد اصول کا جنازہ نکال دیا ہے۔

سرخ امریکی بیس بال کیپ پہن کر ٹرمپ کے ساتھ عوامی تقریبوں میں دانت نکالنا اور انہیں مضحکہ خیز طور پر ”فیفا پیس پرائز“ پیش کرنا محض علامتی حماقتیں نہیں تھیں۔ ناقدین کے نزدیک یہ وہ لمحات تھے جب کھیل کی غیر جانبداری اور ریاستی اقتدار کی ہوس کے درمیان موجود لکیر کو جان بوجھ کر مٹا دیا گیا۔ انفانٹینو نے یہ تاثر کھلم کھلا دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کھیل کی سیاست کو کسی خاص ریاستی مفاد کے بوٹوں تلے رولنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ منافقت اس وقت اور بھی بھیانک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کی میزبانی ایک ایسی ریاست کر رہی ہے جو ایک شریک ملک، ایران، کے ساتھ براہِ راست عسکری تنازع میں الجھی ہوئی ہے۔ فٹ بال کو عالمی امن اور اتحاد کی علامت قرار دینے والا فیفا اس تلخ حقیقت پر آنکھیں بند کیے بیٹھا ہے کیونکہ جغرافیائی سیاست اب کھیل کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو چکی ہے اور فیفا کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔

 وہ مداح جو امیگریشن کے جال میں جکڑ دیے گئے

فٹ بال کی اصل روح اس کے وہ دیوانے شائقین ہیں جو تالیاں بجا کر اسٹیڈیم کو زندہ رکھتے ہیں، لیکن اگر ان غریب اور پرجوش شائقین کو اسٹیڈیم کے باہر ہی روک دیا جائے، تو اس عالمی جشن کی اوقات کیا رہ جاتی ہے؟

سینیگال اور آئیوری کوسٹ جیسے افریقی ممالک کے ہزاروں سچے فٹ بال عاشقوں کے لیے امریکی ویزا پالیسیوں نے وہ خاردار تاریں کھڑی کر دی ہیں جنہیں پار کرنا ناممکن ہے۔ جواز یہ تراشا گیا کہ ماضی میں ان ممالک کے مسافروں نے امریکہ میں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کیا تھا، گویا کھیل کے جنون کو بھی اب ملکوں کی معاشی حالت کے ترازو میں تولا جائے گا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک مرحلے پر امریکی حکومت نے بعض مخصوص ملکوں کے زائرین کے لیے 15,000 ڈالر (تقریباً پینتالیس لاکھ روپے) کا سکیورٹی ڈپازٹ متعارف کرایا، جو وطن واپسی پر واپس ہونا تھا۔ اگرچہ ٹورنامنٹ کے آغاز سے کچھ قبل یہ شرمناک شرط ختم کر دی گئی، لیکن اس نے یہ واضح پیغام دے دیا کہ اس ٹورنامنٹ میں ہر مداح کا خیرمقدم یکساں نہیں ہوگا؛ یہاں غریب مٹی سے آنے والوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اسٹیڈیموں کے اطراف امیگریشن حکام کی ممکنہ کارروائیوں اور نگرانی کے خوفناک نیٹ ورک نے فضا کو خوف سے بھر دیا ہے۔ ٹورنامنٹ سے قبل امریکی حکومت نے یہ اعتراف کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کہ ورلڈ کپ اسٹیڈیموں کے بالکل باہر چیکنگ یا گرفتاریاں ہو سکتی ہیں۔ کھیل کے سب سے بڑے میلے میں شرکت کا خواب دیکھنے والے غریب مداحوں کے لیے اصل مقابلہ اب میدان میں نہیں، بلکہ سفارت خانوں کی سرد مہر راہداریوں اور امیگریشن قوانین کے شکنجوں کے درمیان جاری ہے۔

 جب ٹکٹ عام انسان کی پہنچ سے دور، ایک لگژری شے بن گیا

ورلڈ کپ کبھی عوام کا ٹورنامنٹ ہوا کرتا تھا، جہاں مزدور، طالب علم، ریڑھی بان اور ارب پتی ایک ہی اسٹینڈ پر بیٹھ کر اپنی ٹیم کے لیے گلا پھاڑ کر نعرے لگاتے تھے۔ لیکن 2026 میں فیفا نے اس عوامی تصویر کو مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔

ٹکٹوں کی فروخت کے نام پر جو تماشا لگایا گیا، اس کی قیمتیں ہوش رُبا ہیں۔ فائنل کے ایک پریمیم ٹکٹ کی ابتدائی قیمت ہی 11,000 ڈالر مقرر کی گئی، جو ایک عام محنتی انسان کی پورے سال کی کمائی سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ فیفا نے ”ڈائنامک پرائسنگ“ کا جو سرمایہ دارانہ گورکھ دھندا چلایا، اس کے تحت ایک ہی قطار کی نشستوں کے لیے الگ الگ قیمتیں وصول کی گئیں، یہاں تک کہ طلب کے نام پر ایک نشست کی قیمت جنونیت کی حدیں پار کرتی ہوئی 690,000 ڈالر تک جا پہنچی!

یہ فیفا کی ہوس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ افتتاحی میچ سے چند ہفتے پہلے تک مہنگائی کے باعث بہت سے مقابلے مکمل طور پر فروخت ہی نہیں ہو سکے تھے۔ 28 مئی تک فائنل کا سب سے سستا دستیاب ٹکٹ بھی 8,625 ڈالر کا تھا، اور معذور افراد کے لیے وہیل چیئر زون کی نشست 10,350 ڈالر کی سجی ہوئی تھی، جبکہ کارنر فلیگ کے قریب آخری نشست پر 690,000 ڈالر کا جلی حروف میں لیبل لگا ہوا تھا۔

اس پر مستزاد یہ کہ فیفا اپنا آفیشل ”ری سیل پلیٹ فارم“ چلا کر بلیک مارکیٹ کے سرغنہ کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں وہ ہر سیکنڈ ہینڈ لین دین پر 30 فیصد بھتہ (کمیشن) وصول کرتا ہے۔ جو کھیل کبھی دل کی دھڑکنوں میں دھڑکتا تھا، اب فیفا کی کارپوریٹ دکان پر ایک لگژری پروڈکٹ بن کر بک رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صارفین کے حقوق کی تنظیموں نے فیفا کی اس کھلی منافع خوری اور بلیک میلنگ کے خلاف یورپین یونین میں باضابطہ مقدمہ درج کرایا ہے، جبکہ امریکی ریاستوں نیو جرسی اور نیویارک کے اٹارنی جنرلز کو بھی اس نظام کی تحقیقات کے لیے میدان میں اترنا پڑا۔

 بڑا ٹورنامنٹ یا فیفا کا ذاتی ووٹ بینک؟

2026 کا ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا ایونٹ ہے جس میں 48 ٹیمیں شامل کی گئی ہیں۔ بظاہر تو یہ لالی پاپ دیا گیا کہ ہم چھوٹے ملکوں کو عالمی اسٹیج پر موقع دے رہے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی گندی بساط کچھ اور ہی کہانی سناتی ہے۔

میچوں کی تعداد 64 سے بڑھا کر 104 کر دی گئی ہے تاکہ میچوں کے دورانیے کو کھینچ کر زیادہ سے زیادہ اشتہارات اور اسپانسرز بٹورے جا سکیں۔ ناک آؤٹ مرحلے کا معیار اتنا گرا دیا گیا ہے کہ اب بارہ گروپس میں سے تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ فلاپ ٹیمیں بھی ”راؤنڈ آف 32“ کے نئے مرحلے میں گھسیٹ لی جائیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے کھیل کے معیار کا جنازہ نہیں نکل جائے گا؟

سفید پوش مبصرین بھی اب یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ یہ توسیع کھیل کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً ایک سیاسی رشوت ہے۔ اس کا اصل فائدہ ان چھوٹی، گمنام فٹ بال فیڈریشنوں کو پہنچایا گیا ہے جن کے ووٹ فیفا کے اندر جیانی انفانٹینو کی صدارت کی کرسی کو مضبوط رکھتے ہیں۔ یہ ورلڈ کپ کی توسیع نہیں ہے، بلکہ فیفا کے اندر اپنی بادشاہت برقرار رکھنے کے لیے بوگس ووٹ بینک تیار کرنے کی ایک غلیظ کوشش ہے۔

 سبز نعروں کے پیچھے کاربن کا کالا بادل

فیفا برسوں سے ”گرین الائنس“، پائیداری اور ماحول دوستی کے پروپیگنڈا بیانیے بیچ رہا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ کرہ ارض کی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی مجرم ثابت ہونے جا رہا ہے۔

آزاد تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق، یہ ٹورنامنٹ نو ملین (90 لاکھ) ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں اگلنے کا باعث بنے گا، جس کی سب سے بڑی وجہ تین میزبان ملکوں کے شہروں کے درمیان طویل فاصلے اور فضائی سفر کا اندھا دھند استعمال ہے۔ ماحولیاتی تنظیمیں چیخ رہی ہیں، لیکن فیفا کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اسٹیڈیموں تک پہنچنے کا تذکرہ ہی کر لیجیے؛ جہاں پبلک ٹرانسپورٹ موجود بھی ہے، وہاں لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ نیو یارک سٹی سے میٹ لائف اسٹیڈیم تک جس ٹرین کا عام کرایہ محض 13 ڈالر ہوتا ہے، ورلڈ کپ کے نام پر اس کی قیمت 150 ڈالر مقرر کر دی گئی! شائقین کے شدید غصے اور احتجاج کے بعد اسے گرتے پڑتے 98 ڈالر تو کیا گیا، لیکن منافع خوری کا یہ ننگا ناچ اب بھی جاری ہے۔ اپنی گاڑی لانے والوں کے لیے پارکنگ فیس 75 سے 300 ڈالر تک رکھی گئی ہے۔

کرایوں کے اس ڈاکے اور کاربن کے دھوئیں نے فیفا کے ”سبز نعروں“ کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ جب عام شائق کو اسٹیڈیم پہنچنے کے لیے مہنگے اور آلودگی پھیلانے والے ذرائع ہی استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہو، تو فیفا کے ماحولیاتی وعدے محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں جن سے وہ اپنے ہاتھ صاف کرتا ہے۔ سارا بوجھ شائقین کی جیبوں اور تباہ ہوتے ہوئے کرہ ارض پر ڈال کر فیفا خود کو پاک دامن ثابت نہیں کر سکتا۔

 کھیل کا جنازہ، منافع کا جشن!

2026 کے ورلڈ کپ کے گرد اٹھنے والے یہ سوالات محض فٹ بال کی تکنیکی خامیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ اس سرمایہ دارانہ اور منافق دنیا کا مکروہ چہرہ ہیں جہاں کھیل اب عام انسان کی خوشی نہیں رہا۔ یہ ایک ایسی سفاک حقیقت کا اعتراف ہے جہاں سیاست، تجارت، اور ماحولیاتی تباہی کو ”کھیل کی خوبصورتی“ کے پردے میں چھپانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

میدان میں فٹ بال کے پیچھے بھاگتے کھلاڑیوں کو دیکھنے سے پہلے، ہمیں اس سچائی کا سامنا کرنا ہوگا کہ اب ٹرافی کسی کھلاڑی کے ہاتھ میں آئے یا نہ آئے، کارپوریٹ مافیا اور سیاسی جادوگر اپنا میچ کب کا جیت چکے ہیں۔ اب یہ ٹورنامنٹ کسی فٹ بالر کے بوٹوں کی دھمک سے نہیں، بلکہ بینک کے کھاتوں اور ویزا کے تعصبات سے چل رہا ہے، جس کے منہ پر کاربن کے دھوئیں کی کالک ملی ہوئی ہے۔

سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ میدانِ عمل میں کوئی ایک ملک تو ورلڈ کپ جیت کر جشن منا لے گا، لیکن فٹ بال کی وہ روح ہار جائے گی جو کبھی غریبوں کے کچے میدانوں سے اٹھ کر عالمی اسٹیج تک پہنچی تھی۔ اب دنیا کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ واقعی کھیل کا کوئی عالمی جشن دیکھ رہی ہے، یا پھر فیفا کے اسٹیڈیموں میں سجے اس مہنگے، آلودہ اور سیاسی تماشے کی تماشائی بنی رہے گی جس کا ٹکٹ خریدنا بھی عام انسان کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔

مستقبل کے عالمی مقابلے اب میدان میں نہیں، بلکہ فیفا کے بند کمروں کی اس دکان میں طے ہوں گے، جہاں کھیل کی بولی لگتی ہے اور مداحوں کے جذبات کو نفع و نقصان کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔

___________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button