جادو اور فیفا ورلڈ کپ: ”گھانا کے خلاف تُو نہیں کھیل پائے گا“ انگلینڈ کے ہیری کین کو جادوگر کی بددعائیں

سنگت ڈیسک

فٹ بال کا کھیل صرف 90 منٹ کی حکمت عملی، فٹنس اور گول اسکور کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ بعض اوقات یہ میدانِ جنگ سے نکل کر مافوق الفطرت دنیا کے اسرار و رموز میں داخل ہو جاتا ہے۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے ہنگاموں کے درمیان، انگلینڈ اور گھانا کے سنسنی خیز مقابلے سے قبل ایک ایسی ہی کہانی نے فٹ بال کی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں ایک طرف جدید فٹ بال کے سپر اسٹار ہیری کین ہیں اور دوسری طرف افریقہ کے سب سے متنازع جادوگر عامل نانا کواکو بونسام!

20 اگست 1973 کو گھانا میں پیدا ہونے والے اسٹیفن اوسی مینسا کو دنیا آج ’نانا کواکو بونسام‘ کے نام سے جانتی ہے۔ مقامی ’ٹوی‘ زبان میں ’بونسام‘ کا مطلب ”شیطان“ ہے۔ یہ لقب انہوں نے کسی دشمن کے دینے پر نہیں، بلکہ خود اپنی تشہیر کے لیے اپنایا۔

گھانا کے روایتی پادریوں کے برعکس، جو عام طور پر دنیا کی نظروں سے دور جنگلوں یا غاروں میں رہتے ہیں، بونسام ایک ہائی ٹیک اور میڈیا فرینڈلی جادوگر ہیں۔ وہ جدید فیشن کے ملبوسات پہنتے ہیں، سوشل میڈیا پر لائیو آتے ہیں اور ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے ہیں۔ گھانا میں وہ اپنق ’کوفی او کوفی‘ کے نام سے ایک آستانہ چلاتے ہیں اور خود کے لیے شیطان کا نام منتخب کرنے والے یہ جادوگر دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس وہ ”روحانی“ طاقتیں ہیں جو ہواؤں کا رخ موڑ سکتی ہیں اور اب ان کا اگلا ہدف انگلینڈ کے کپتان ہیری کین ہیں۔

میں کین کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، بس پیر باندھنا چاہتا ہوں

بونسام نے برطانوی میڈیا کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف گھانا کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی رسومات ادا کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بونسام نے واضح کیا کہ ”میرا مقصد ہیری کین کو کوئی جسمانی نقصان پہنچانا یا زخمی کرنا نہیں ہے۔ میں صرف ان کی روحانی طاقت اور میچ کے دوران اثر پذیری کو سلب کرنا چاہتا ہوں تاکہ وہ گھانا کے خلاف گول نہ کر سکیں۔“

یہ بیان سامنے آتے ہی فٹ بال شائقین کے لیے میچ کا سسپنس دگنا ہو گیا ہے۔ جہاں کچھ لوگ اسے محض سستی شہرت کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں، وہیں فٹ بال کی تاریخ جاننے والے اسے ہلکا لینے کو تیار نہیں۔

 رونالڈو کا گھٹنا اور بونسام کا ماضی: کیا یہ واقعی جادو ہے؟

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بونسام نے کسی عالمی اسٹار کو نشانہ بنایا ہو۔ 2014 کے فیفا ورلڈ کپ کو یاد کریں، جب پرتگال اور گھانا کا میچ ہونا تھا۔ اس وقت بونسام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے کرسٹیانو رونالڈو پر جڑی بوٹیوں اور جادوئی سفوف سے ایسا وار کیا ہے کہ وہ میچ نہیں کھیل پائیں گے۔

اس وقت رونالڈو واقعی گھٹنے کی تکلیف میں مبتلا ہوئے تھے، جس نے بونسام کے دعوے کو عالمی سرخیوں میں جگہ دلائی۔ اگرچہ رونالڈو اس میچ میں نہ صرف کھیلے بلکہ پرتگال نے گھانا کو شکست بھی دی، لیکن بونسام نے یہ کہہ کر اپنا پلہ جھاڑ لیا کہ ”ان کا جادو جزوی طور پر کام کر گیا تھا کیونکہ رونالڈو اپنی سو فیصد فارم میں نہیں تھے!“

 سوشل میڈیا کا طوفان: ”اوقیانوس پار جادو نہیں چلتا!“

بونسام کے اس تازہ ترین دعوے پر دنیا بھر کے فٹ بال فینز نے سوشل میڈیا کو میمز کا گڑھ بنا دیا ہے۔

انگلینڈ اور بایرن میونخ کے مداحوں نے ہنسی کے ایموجیز کے ساتھ لکھا کہ ہیری کین اس جادو کا جواب گراؤنڈ پر ہیٹ ٹرک کر کے دیں گے۔ ایک برطانوی صارف نے طنزاً لکھا، ”بونسام کو شاید معلوم نہیں کہ روایتی افریقی جادو اوقیانوس (سمندر) کے پار کام نہیں کرتا، اس لیے کین محفوظ ہیں۔“

دوسری طرف، گھانا کے ہی کئی شہریوں نے بونسام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ ہر بڑے ٹورنامنٹ سے پہلے صرف سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے ایسے ڈرامے رچاتے ہیں، جبکہ عیسائی اور مسلم فٹ بالرز کے مداحوں نے کین کے لیے حفاظتی دعائیں شیئر کرنا شروع کر دیں۔

توہم پرستی کا نفسیاتی کھیل

بین الاقوامی کھیلوں کے ماہرینِ نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بھی جادو یا بددعا کا کھیل کے نتیجے پر کوئی سائنسی اثر نہیں ہوتا۔ جیت کا دارومدار صرف اور صرف کھلاڑی کی ذہنی طاقت، تیاری، فٹنس اور ٹیم کی حکمت عملی پر ہوتا ہے۔

تاہم، فٹ بال کی اپنی ایک الگ ثقافت ہے۔ یہاں توہم پرستی اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ یہ کھیل خود۔ دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑی اور کوچز میچ سے پہلے مخصوص جرابیں پہننے، گراؤنڈ میں ہمیشہ دایاں پیر پہلے رکھنے یا کسی خاص خوش قسمت لباس کو پہننے پر یقین رکھتے ہیں۔ بونسام کا یہ دعویٰ بھی فٹ بال کی اسی صدیوں پرانی توہم پرستی اور ثقافتی رواج کا ایک نیا اور رنگین باب ہے۔ ایک طرح سے آپ اسے نفسیاتی وار بھی کہہ سکتے ہیں۔

کھیلوں کے ماہرینِ نفسیات کے مطابق، نانا بونسام جیسے جادوگروں کے دعووں میں اپنی کوئی مادی طاقت نہیں ہوتی، لیکن انسانی ذہن کی اس پر یقین رکھنے کی طاقت بہت حقیقی ہوتی ہے۔ یہاں اصل جنگ اعصاب اور نفسیات کی ہے۔

جو کھلاڑی نفسیاتی طور پر کمزور ہوتے ہیں یا پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، ان پر اس طرح کی ”روحانی لعنتوں“ کے دعوے منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ لاشعوری طور پر ان کے اندر یہ خوف بیٹھ جاتا ہے کہ وہ اب اچھا نہیں کھیل پائیں گے۔ میچ کے دوران اگر ان سے کوئی ایک بھی غلطی ہو جائے، تو وہ اسے اپنی تکنیکی خامی کے بجائے اس ”جادو“ کا نتیجہ سمجھنے لگتے ہیں، جس سے ان کا بچا کچا اعتماد بھی ختم ہو جاتا ہے۔ نفسیات کی زبان میں بات کریں تو ایک فرضی خوف کو سچ مان کر خود ہی اپنے ہاتھوں اپنی کارکردگی تباہ کر دینا۔

اصل فیصلہ کہاں ہوگا؟

ہیری کین پر جادو چلے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا، لیکن نانا کواکو بونسام نے انگلینڈ اور گھانا کے میچ کو محض ایک کھیل سے بڑھا کر ”کھیل بمقابلہ جادو“ کا ایک ایسا مقابلہ بنا دیا ہے جسے دنیا بھر کے شائقین اب عام میچز سے زیادہ دلچسپی کے ساتھ دیکھیں گے۔ ہیری کین کے پاؤں چلیں گے یا بونسام کا جادو؟ اس کا حقیقی فیصلہ کسی آستانے پر نہیں، بلکہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے سبز میدان میں فٹ بال کی گیند کرے گی!

_______________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button