میسی یا رونالڈو؟ جب فٹبال کا اہم سوال مطالعے کا حصہ بن کر آسٹریلیا کی پارلیمنٹ تک پہنچا

سنگت ڈیسک

شمالی امریکا میں جاری 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ دنیا کی نظریں میدان پر تھیں، کروڑوں لوگ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آیا یہ لیونل میسی کا آخری عالمی سفر ہوگا یا کرسٹیانو رونالڈو کا آخری بڑا معرکہ، لیکن اسی دوران ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں بھی ایک اور بحث جاری تھی۔

موضوع نہ معیشت تھا، نہ خارجہ پالیسی اور نہ ہی قومی سلامتی۔ موضوع تھا: ”میسی یا رونالڈو؟“

فٹ بال ویب سائٹ فٹبال 360 کی ایک ویڈیو میں آسٹریلوی رکنِ پارلیمنٹ نے اس بحث کو صرف کھیل کا معاملہ قرار دینے سے انکار کر دیا۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”یہ سوال گھروں کو تقسیم کرتا ہے، دوستیوں کو تقسیم کرتا ہے، دفاتر کو تقسیم کرتا ہے۔ بظاہر یہ فٹ بال کا سوال لگتا ہے، لیکن شاید یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔“

ان کے مطابق، میسی یا رونالڈو کی حمایت دراصل انسان کی شخصیت، بنیادی اقدار اور دنیا کو دیکھنے کے زاویے کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ ایک غیر معمولی لمحہ تھا۔ دو فٹ بالرز کے بارے میں ہونے والی ایک عام سی بحث اچانک سیاسیات، سماجیات اور انسانی نفسیات کی بحث میں تبدیل ہو چکی تھی۔ اور اس کے پیچھے موجود تھی سنگاپور کی ایک نئی تحقیق۔

کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کے درمیان دو دہائیوں سے جاری یہ رقابت، جو اب اپنے آخری پڑاؤ پر ہے، انسانی نفسیات، سیاسی نظریات اور ہماری اپنی پہچان کا ایک آئینہ بن گئی ہے۔

 شاید یہ بحث کبھی فٹ بال کے بارے میں تھی ہی نہیں

دو دہائیوں سے دنیا ایک سوال پوچھ رہی ہے: کون فٹبال کا عظیم ترین کھلاڑی ہے؟ لیونل میسی یا کرسٹیانو رونالڈو؟

یہ بحث اتنی پرانی ہو چکی ہے کہ اب اس کا تعلق صرف گولوں، اسسٹوں، ٹرافیوں یا بیلن ڈی اور سے نہیں رہا۔ میسی کے حامی آپ کو جادو، تخلیق، وجدان اور قدرتی صلاحیت کی کہانیاں سنائیں گے۔ رونالڈو کے مداح آپ کو محنت، نظم و ضبط، قربانی اور مسلسل جدوجہد کی مثالیں دیں گے۔

دونوں درست ہوں گے اور شاید دونوں غلط بھی۔ کیونکہ نئی تحقیق کہتی ہے کہ جب ہم میسی یا رونالڈو کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم صرف ایک فٹ بالر کا انتخاب نہیں کرتے۔ ہم اپنے بارے میں بھی کچھ بتا رہے ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم اس مطالعے کے نتائج سے اتفاق یا اختلاف رکھتے ہوں، لیکن سنگت میگ کے قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں انہیں مختصراً بیان کر رہے ہیں۔

26 ممالک، دس ہزار افراد اور ایک حیران کن نتیجہ

نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (NTU) کے وی کم وی اسکول آف کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن کے سیف الدین احمد کی قیادت میں ایک تحقیق نے اس مبہم رشتے کو بے نقاب کیا ہے۔ 26 ممالک میں 10 ہزار سے زیادہ افراد پر کیے گئے اس سروے نے ثابت کیا کہ آپ کے سیاسی رجحانات اور فٹ بال ہیرو کا انتخاب ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ محققین نے 26 ممالک کے دس ہزار سے زائد افراد سے سوال کیا: آپ میسی کو پسند کرتے ہیں یا رونالڈو کو؟

نتائج حیران کن تھے۔ زیادہ لبرل رجحانات رکھنے والے افراد نسبتاً زیادہ میسی کو پسند کرتے تھے، جبکہ نسبتاً قدامت پسند رجحانات رکھنے والے افراد رونالڈو کو ترجیح دیتے تھے۔

یہ فرق اتنا بڑا نہیں تھا کہ اسے قطعی سچ قرار دیا جا سکے، لیکن اتنا ضرور تھا کہ محققین کو رک کر سوچنے پر مجبور کر دے۔ آخر کیوں؟

 خاموش نابغہ بمقابلہ ناقابلِ تسخیر فاتح

تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ لوگ اصل کھلاڑیوں سے زیادہ ان کی عوامی شخصیات کے ساتھ تعلق قائم کرتے ہیں۔

میسی کو عموماً ایک خاموش انسان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وہ کم بولتے ہیں۔ اپنی کامیابیوں کا خود کم ذکر کرتے ہیں۔ اکثر ٹیم کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری طرف رونالڈو ہیں۔ ایک ایسا کھلاڑی جو خود اپنے عظیم ہونے کا اظہار بھی کرتا ہے اور اس پر فخر بھی۔ جس نے اپنی پوری زندگی کو ایک منصوبے کی طرح تعمیر کیا۔ جس کے لیے ناکامی صرف اگلی کامیابی کی تیاری ہے۔

گویا ایک طرف خاموش فنکار کھڑا ہے۔ دوسری طرف خود اپنے مجسمے کو تراشنے والا معمار۔

ارجنٹینا، پرتگال اور ایک غیر متوقع حقیقت

تحقیق کے دوران سب سے زیادہ میسی نواز ملک ارجنٹینا نکلا۔ یہ حیران کن نہیں تھا۔ لیکن حیران کن بات یہ تھی کہ رونالڈو کے وطن پرتگال نے رونالڈو کی حمایت میں سب سے زیادہ اسکور نہیں کیا۔

انڈونیشیا، ترکی، مصر، میکسیکو اور ملائیشیا میں رونالڈو کے حق میں جھکاؤ پرتگال سے بھی زیادہ تھا۔

سیاسی رجحانات کے حوالے سے تحقیق میں انکشاف ہوا کہ ”آمریت پسند رجحانات“ رکھنے والے افراد، جو مضبوط اور غیر روایتی قیادت کو پسند کرتے ہیں، رونالڈو کے حامیوں میں زیادہ پائے گئے۔

 سوشل میڈیا کا بادشاہ

یہ صرف نظریات کا کھیل نہیں، بلکہ میڈیا کی کھپت کا بھی ہے۔ تحقیق کا ایک اور دلچسپ نتیجہ سامنے آیا۔ جو لوگ مختصر ویڈیوز، ریلز اور اسکرولنگ فیڈز کے ذریعے خبریں زیادہ حاصل کرتے تھے، ان میں رونالڈو کی مقبولیت نسبتاً زیادہ تھی۔ رونالڈو کا یہ روپ ایک ایسے میڈیا ماحول کے لیے بہترین ہے جہاں مسلسل توجہ حاصل کرنا اور اپنی کامیابیوں کو نمایاں کرنا کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس لیے اس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔ رونالڈو جدید سوشل میڈیا دور کے لیے تقریباً ایک مکمل کردار ہیں۔ وہ جشن مناتے ہیں۔ اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ اپنی جسمانی فٹنس کو ایک برانڈ میں تبدیل کرتے ہیں۔ کامیابی کو نمایاں انداز میں پیش کرتے ہیں۔ مختصر ویڈیو کلپس کی دنیا ایسے ہی کرداروں کو پسند کرتی ہے۔

 آسٹریلیا میں رونالڈو کیوں جیت رہا ہے؟

جب آسٹریلوی پارلیمنٹ میں اس تحقیق کا ذکر ہوا تو مقرر نے ایک دلچسپ دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق اوسط آسٹریلوی شہری رونالڈو کی شخصیت میں اپنے قومی مزاج کی جھلک دیکھتا ہے۔ محنت، استقامت، نتائج کے لیے جدوجہد اور یہ یقین کہ کوشش کا صلہ ملنا چاہیے۔

ان کے بقول رونالڈو صرف ایک فٹ بالر نہیں بلکہ ”ڈسپلن، ڈرائیو اور کامیابی کے تعاقب“ کی علامت ہیں۔

 چھ ورلڈ کپ کھیلنے والے دو انسان

اس تمام بحث کے درمیان ایک حقیقت ایسی ہے جس پر میسی اور رونالڈو کے مداح بھی متفق ہو سکتے ہیں۔ 2026 کا ورلڈ کپ تاریخ کا پہلا موقع ہے جب دو کھلاڑی چھ مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں شریک ہوئے ہیں۔

یہ صرف ایک ریکارڈ نہیں، یہ ایک عہد ہے اور ایک نسل کی پوری فٹ بالی یادداشت۔ جن بچوں نے 2006 میں ان دونوں کو پہلی بار دیکھا تھا، وہ آج خود والدین بن چکے ہیں لیکن میسی اور رونالڈو اب بھی موجود ہیں۔

انہوں نے فٹ بال کو بدل دیا

پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینیز نے حال ہی میں ایک جملہ کہا جو شاید اس پوری کہانی کا خلاصہ ہے، ”ان دونوں نے فٹ بال کو بدل دیا۔“

پھر انہوں نے مزید کہا، ”ان کی رقابت نے دونوں کو مسلسل بہتر بنایا۔“

یہ شاید اس داستان کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ اگر رونالڈو نہ ہوتے تو شاید میسی اتنے عظیم نہ بنتے۔ اگر میسی نہ ہوتے تو شاید رونالڈو اتنی بلندی تک نہ پہنچتے۔

انہوں نے ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش میں فٹ بال کی حدود کو آگے دھکیل دیا۔

آخر میں سوال فٹ بال کا نہیں رہ جاتا

اعداد و شمار آپ کو شاید کبھی حتمی جواب نہ دے سکیں۔ میسی کے مداحوں پاس اپنے دلائل ہیں اور رونالڈو کو پسند کرنے والوں کے پاس اپنے۔

محققین خبردار کرتے ہیں کہ یہ تقسیم کوئی لکیر نہیں جسے ہر کوئی پار کرے۔ یہ اعداد و شمار ایک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، کوئی قانون نہیں۔ تحقیق کی اپنی حدود بھی ہیں؛ جیسے کہ سیاسی نظریات کی پیمائش کے لیے استعمال ہونے والے محدود سوالات۔

لیکن سنگاپور کی تحقیق ایک دلچسپ خیال پیش کرتی ہے۔ ممکن ہے جب کوئی شخص میسی کا انتخاب کرتا ہے تو وہ صرف ایک کھلاڑی نہیں چنتا بلکہ تخلیق، انکسار اور اجتماعی کامیابی کے ایک تصور کو پسند کر رہا ہوتا ہے۔

اور جب کوئی رونالڈو کا انتخاب کرتا ہے تو شاید وہ عزم، خود اعتمادی اور انفرادی کامیابی کے ایک تصور کی حمایت کر رہا ہوتا ہے۔

شاید اسی لیے یہ بحث کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کیونکہ لوگ دراصل دو فٹ بالرز کے درمیان فیصلہ نہیں کر رہے ہوتے، وہ عظمت کے دو مختلف تصورات کے درمیان انتخاب کر رہے ہوتے ہیں۔

آخِر کار، میسی اور رونالڈو کی یہ رقابت اب صرف فٹ بال کی تاریخ کا حصہ نہیں رہی، بلکہ یہ 21ویں صدی کے انسان کی سماجی اور سیاسی نفسیات کو سمجھنے کا ایک دلچسپ ذریعہ بن چکی ہے۔

یوں ہم لاشعوری طور پر، اپنی ذات کے بارے میں بھی ایک فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگلی بار جب کوئی آپ سے پوچھے: ”میسی یا رونالڈو؟“

تو یاد رکھیے۔ ممکن ہے وہ آپ سے فٹ بال کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہو۔

__________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button