بھیک میں ملے سکوں سے ورلڈ کپ کے اسٹیج تک: ایرانی گول کیپر علیرضا بیرانوَند کی ناقابلِ یقین داستان

امر گل

لاس اینجلس کے اسٹیڈیم میں گھڑی 59ویں منٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ بیلجیم کے حملے مسلسل ایرانی دفاع کا امتحان لے رہے تھے۔ ایک برق رفتار موو کے بعد گیند خطرناک انداز میں گول کے سامنے پہنچی اور یوں محسوس ہوا جیسے گول ہونا اب محض رسمی کارروائی رہ گئی ہو۔ عین اسی لمحے ایک لمبا، دبلا پتلا گول کیپر پوری قوت سے فضا میں اچھلا۔ اس کا دایاں ہاتھ گیند تک پہنچا، گیند گول سے دور جا گری اور پورا اسٹیڈیم حیرت میں ڈوب گیا۔

یہ صرف ایک شاندار سیو نہیں تھی۔ یہ برسوں کی بھوک، بے گھری، مزدوری، تنہائی اور ناقابلِ یقین جدوجہد کا حاصل تھا۔ اس شخص کا نام علیرضا بیرانوَند تھا، جو 2026 کے عالمی کپ میں ایک بار پھر ثابت کر رہا تھا کہ بعض کھلاڑی صرف میچ نہیں کھیلتے، وہ اپنی پوری زندگی کو میدان میں لے کر اترتے ہیں۔

اگرچہ ایران اس عالمی کپ میں ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہ کر سکا، لیکن بیرانوند کی کارکردگی نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو اس نوجوان کی حیران کن زندگی یاد دلا دی، جو کبھی تہران کی سڑکوں پر راتیں گزارتا تھا اور جسے راہ چلتے لوگ فقیر سمجھ کر خیرات میں سکے دے جاتے تھے۔

ایک خانہ بدوش بچے کا خواب

ایران کے مغربی صوبے لورستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سرابِ یاس میں پیدا ہونے والا علیرضا بیرانوند کسی نامور فٹ بال اکیڈمی کا تربیت یافتہ کھلاڑی نہیں تھا۔

وہ لَک نسل کے ایک خانہ بدوش خاندان میں پلا بڑھا، جہاں زندگی کا دارومدار مویشیوں پر تھا۔ خاندان موسموں کے ساتھ نقل مکانی کرتا، کبھی ایک چراگاہ تو کبھی دوسری۔ اس کا بچپن سبز میدانوں، پہاڑوں، بھیڑ بکریوں اور سخت جسمانی مشقت کے درمیان گزرا۔

انہی کھلے میدانوں میں اس کے اندر ایک اور شوق بھی جنم لے رہا تھا۔ وہ دوستوں کے ساتھ فٹ بال کھیلتا تو ہمیشہ گول کیپر بننے کی ضد کرتا۔ جانور چَراتے ہوئے پتھروں کو دور تک پھینکنے کے مقابلے اس کا پسندیدہ مشغلہ تھے۔ بعد میں ماہرین نے اسی بچپن کو اس کی غیرمعمولی جسمانی طاقت اور حیران کن لمبے تھروز کی بنیاد قرار دیا، جنہوں نے آگے چل کر اسے دنیا کے منفرد ترین گول کیپروں میں شامل کر دیا۔

لیکن اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی خانہ بدوش بچہ ایک دن ورلڈ کپ کے سب سے بڑے اسٹیج پر کھڑا ہوگا۔

 باپ کا خواب اور بیٹے کا خواب

علیرضا کے والد چاہتے تھے کہ ان کا بڑا بیٹا خاندانی روایت کو آگے بڑھائے۔ وہ بھیڑ بکریوں کی دیکھ بھال کرے، خاندان کے ساتھ رہے اور وہی زندگی گزارے جو نسلوں سے چلی آ رہی تھی۔

لیکن علیرضا کے دل میں ایک مختلف خواب پل رہا تھا۔ وہ خود کو ایران کی قومی ٹیم کے گول پوسٹ کے سامنے کھڑا دیکھتا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ دونوں خواب ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑے ہوئے۔ والد کے لیے فٹ بال وقت کا ضیاع تھا، جبکہ علیرضا کے لیے یہی زندگی کا مقصد تھا۔

اختلاف اس قدر بڑھا کہ ایک روز غصے میں والد نے اس کے گول کیپنگ کے دستانے اور کھیل کا سامان تباہ کر دیا۔ یہ لمحہ اس نوجوان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے پاس نہ پیسے تھے، نہ کوئی منصوبہ اور نہ ہی کسی کامیابی کی ضمانت۔ اس کے پاس صرف ایک یقین تھا کہ اگر وہ اپنے خواب کے لیے گھر سے نہیں نکلا تو شاید ساری زندگی پچھتائے گا۔

 تہران… جہاں خوابوں کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے

ہزاروں نوجوان فٹ بالر قسمت آزمانے تہران آتے ہیں، لیکن بیشتر کے پاس رہنے کی جگہ، رشتہ دار یا کچھ جمع پونجی ضرور ہوتی ہے۔ علیرضا کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔

دارالحکومت پہنچنے کے بعد اسے جلد اندازہ ہو گیا کہ خواب دیکھنا آسان ہے، لیکن انہیں زندہ رکھنا بہت مشکل۔ کبھی وہ مسجد میں رات گزارتا، کبھی پارک کی بینچ اس کا بستر بنتی، کبھی کسی اسٹیڈیم کے باہر سو جاتا اور کبھی کھلے آسمان تلے رات کاٹ دیتا۔

اسی دوران اس کی زندگی کا وہ واقعہ پیش آیا جس کا ذکر آج بھی دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ ایک رات وہ ایک فٹ بال کلب کے دفتر کے باہر سو گیا۔ صبح آنکھ کھلی تو اس کے اردگرد سکے بکھرے ہوئے تھے۔ راہ گیروں نے اسے ایک بے گھر فقیر سمجھ کر خیرات دے دی تھی۔

بیرانوند نے بعد میں مسکراتے ہوئے بتایا کہ انہی سِکوں سے اس نے کئی دنوں بعد پیٹ بھر کر ناشتہ کیا۔ یہ واقعہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہی وہ لمحہ تھا جو اس کے سفر کی تلخ حقیقت بیان کرتا ہے۔ ایک طرف قومی ٹیم کا خواب تھا، دوسری طرف اتنی بے بسی کہ لوگ اسے پیشہ ور فٹ بالر نہیں بلکہ ایک محتاج انسان سمجھ رہے تھے۔

لیکن اس صبح اس نے صرف سکے نہیں سمیٹے تھے، بلکہ اپنے خواب کو بھی دوبارہ سنبھال لیا تھا۔

دن میں مزدور، شام میں فٹ بالر

تہران میں زندہ رہنا آسان نہیں تھا۔ فٹ بال خواب ضرور تھا، لیکن خواب پیٹ نہیں بھرتے اور سردی کی ٹھٹھرتی راتوں میں کمبل کا کام نہیں کرتے۔

روزگار کے بغیر نہ رہائش ممکن تھی اور نہ ہی ٹریننگ جاری رکھنا۔ اسی لیے علیرضا بیرانوند نے وہ ہر کام کیا جو اسے زندہ رہنے کے قابل بنا سکتا تھا۔

کبھی گاڑیاں دھوئیں، کبھی سڑکوں کی صفائی کی، کبھی پیزا شاپ میں برتن صاف کیے، کبھی درزی کے کارخانے میں مزدوری کی اور کبھی ایک بیکری میں صبح سویرے تنور صاف کیا۔ بعض اوقات وہ فجر سے پہلے کام شروع کرتا، چند گھنٹے مزدوری کرتا اور پھر سیدھا فٹ بال کی ٹریننگ کے لیے روانہ ہو جاتا۔

ایک عرصے تک وہ سلائی کے ایک کارخانے میں کام بھی کرتا رہا اور وہیں رات گزار لیتا تھا۔ دن بھر محنت، مختصر آرام اور پھر ٹریننگ… یہی اس کی زندگی کا معمول بن گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اگر ایک دن بھی ہمت ہار گیا تو شاید ہمیشہ کے لیے ہار جائے گا۔

 مسلسل محنت رنگ لے آئی

زندگی کی یہ آزمائشیں کئی برس جاری رہیں، لیکن اس دوران بیرانوند نے ٹریننگ کبھی نہیں چھوڑی۔ وہ مقامی کلبوں کے ٹرائل دیتا، مسترد ہوتا، دوبارہ کوشش کرتا اور پھر اگلے دروازے پر دستک دیتا۔ بالآخر اس کی محنت رنگ لائی۔

اس کی غیرمعمولی ریفلیکسز، جرات اور جسمانی طاقت نے کوچز کی توجہ حاصل کر لی۔ نوجوان ٹیموں میں کھیلنے کا موقع ملا اور پھر تہران کے کلب نفت تہران کے دروازے اس کے لیے کھل گئے۔

2011 میں اس نے پیشہ ورانہ فٹ بال میں قدم رکھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کے لیے اس نے اپنا گھر چھوڑا تھا، مگر درحقیقت یہ اس منزل کا آغاز تھا جس کا خواب اس نے بچپن میں لورستان کے پہاڑوں کے درمیان دیکھا تھا۔

 ایک ایسا گول کیپر جس نے کھیل کا انداز بدل دیا

دنیا کے بیشتر گول کیپر گیند کو بچانے کے بعد اسے قریب موجود ساتھی کے حوالے کر دیتے ہیں، لیکن بیرانوند نے گول کیپنگ میں ایک نئی جہت پیدا کی۔

اس کے ہاتھ صرف دفاع کے لیے نہیں تھے، بلکہ حملے کا آغاز بھی کرتے تھے۔ وہ اپنے پنالٹی ایریا سے گیند کو اتنی دور پھینک سکتا تھا کہ چند سیکنڈ میں کھیل کا رخ بدل جاتا۔ اس کے لمبے تھروز نے بارہا مخالف ٹیموں کو حیران کیا اور ایران کے لیے تیز رفتار جوابی حملوں کی بنیاد رکھی۔

2016 میں اس نے تقریباً 61 میٹر لمبا ہینڈ تھرو کر کے عالمی توجہ حاصل کی، جو بعد میں گنیز ورلڈ ریکارڈ کا حصہ بنا۔ بعدازاں اس نے طویل ترین ڈراپ کِک کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا۔

فٹ بال کے مبصرین کے مطابق یہ صلاحیت محض قدرتی نہیں تھی، بلکہ اس بچپن کی دَین تھی جو اس نے پہاڑوں، چراگاہوں اور سخت جسمانی مشقت کے درمیان گزارا تھا۔

 جب دنیا نے پہلی بار اس کا نام یاد رکھا

2018 کے فیفا ورلڈ کپ میں پرتگال کے خلاف ایران کا مقابلہ اپنے اختتامی لمحات میں داخل ہو چکا تھا۔ پرتگال کو پنالٹی ملی اور گیند اسٹار کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کے سامنے رکھی گئی۔

زیادہ تر لوگوں کو یقین تھا کہ اگلے چند سیکنڈ میں گیند جال میں ہوگی، لیکن بیرانوند نے رونالڈو کے ارادے کو بھانپ لیا۔ وہ درست سمت میں لپکا اور پنالٹی روک کر ورلڈ کپ کی تاریخ کے یادگار ترین لمحات میں اپنا نام لکھوا دیا۔

اس ایک سیو نے صرف میچ کا رخ ہی نہیں بدلا بلکہ بیرانوند کی زندگی بھی بدل دی۔ بین الاقوامی میڈیا نے اس کی کہانی تلاش کرنا شروع کی۔ دنیا کو معلوم ہوا کہ جس گول کیپر نے رونالڈو کو ناکام بنایا ہے، وہ کبھی پہاڑوں میں خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتا تھا، بھیڑ بکریاں چَرایا کرتا تھا، تہران کی سڑکوں پر راتیں گزارتا تھا، مزدوری کرتا تھا اور خیرات میں ملنے والے سِکوں سے ناشتہ کرتا تھا۔

 دیوارِ ایران

یہ پنالٹی روکنے کے بعد علیرضا بیرانوند کی شہرت ضرور عالمی سطح پر پھیل گئی، لیکن اس کی اصل اہمیت صرف ایک یادگار لمحے تک محدود نہیں رہی۔

وہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک ایران کی قومی ٹیم کے پہلے انتخاب کے گول کیپر رہے۔ انہوں نے 2018، 2022 اور 2026 کے فیفا ورلڈ کپ میں اپنے ملک کی نمائندگی کی، متعدد ایشیائی کپ ٹورنامنٹس کھیلے اور کئی برسوں تک ایرانی دفاع کی مضبوط ترین کڑی بنے رہے۔

کلب فٹ بال میں بھی ان کا سفر قابلِ ذکر رہا۔ نفت تہران میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد وہ ایران کے معروف کلب پرسپولیس پہنچے، جہاں انہوں نے متعدد لیگ ٹائٹلز اور ملکی اعزازات جیتے۔ بعد ازاں انہیں یورپ میں کھیلنے کا موقع بھی ملا، جہاں انہوں نے پرتگال اور بیلجیم کی لیگز کا تجربہ حاصل کیا۔ اگرچہ یورپ میں ان کا قیام زیادہ طویل نہ رہا، لیکن اس تجربے نے ان کی فنی صلاحیتوں اور اعتماد میں مزید اضافہ کیا۔

انفرادی اعزازات کی فہرست بھی کم متاثر کن نہیں۔ وہ کئی مرتبہ ایران کی پرو لیگ کے بہترین گول کیپر منتخب ہوئے، ایشیا کے نمایاں گول کیپروں میں شمار کیے گئے اور بین الاقوامی سطح پر اپنی مستقل مزاجی کے باعث احترام حاصل کیا۔

شاید اسی لیے جب ایران کے عظیم ترین گول کیپروں کا ذکر ہوتا ہے تو ناصر حجازی اور احمدرضا عابدزادہ جیسے لیجنڈز کے ساتھ علیرضا بیرانوند کا نام بھی پوری قوت سے لیا جاتا ہے۔

 2026: ایک اور ورلڈ کپ، ایک اور امتحان

آٹھ برس پہلے روس میں منعقدہ ورلڈ کپ نے بیرانوند کو عالمی شہرت دی تھی۔ 2026 میں ایک بار پھر وہ عالمی کپ کے اسٹیج پر ایران کی آخری امید بن کر کھڑا تھا۔

گروپ مرحلے میں بیلجیم کے خلاف میچ کے دوران اس نے کئی ایسے شاندار سیوز کیے جنہوں نے ایران کو مقابلے میں برقرار رکھا۔ طاقتور یورپی ٹیم کے مسلسل حملوں کے باوجود وہ بار بار گیند کے سامنے دیوار بن گیا۔ اس کی عمدہ کارکردگی نے دنیا بھر کے مبصرین کو ایک مرتبہ پھر اس گول کیپر کی جدوجہد یاد دلا دی، جس نے کبھی زندگی کی سخت ترین آزمائشوں کے سامنے بھی ہار نہیں مانی تھی۔

اگرچہ ایران بعد میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گیا، لیکن بیرانوند کی کارکردگی ایک مرتبہ پھر اس بات کا ثبوت بن گئی کہ بڑے مقابلوں میں وہ ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔

ایران کے لیے رواں ورلڈ کپ ختم ہو گیا، لیکن اس گول کیپر کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔

اصل کامیابی کیا ہے؟

فٹ بال میں عظمت کا پیمانہ عموماً ٹرافیاں، ریکارڈز اور اعداد و شمار ہوتے ہیں۔ کتنے کلین شیٹس، کتنے بین الاقوامی میچ، کتنی ٹرافیاں اور کتنے اعزازات۔ اگر اس پیمانے پر علیرضا بیرانوند کو پرکھا جائے تو ان کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔

لیکن اگر ان کی زندگی کو صرف انہی نمبروں سے جانچا جائے تو شاید اس کہانی کا سب سے اہم باب نظر انداز ہو جائے۔

ان کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ انہوں نے رونالڈو کی پنالٹی روک دی، یا عالمی ریکارڈ قائم کیا، یا تین ورلڈ کپ کھیل لیے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ثابت کیا کہ حالات انسان کی تقدیر کا آخری فیصلہ نہیں ہوتے۔

وہ ایک خانہ بدوش خاندان کا بچہ تھا۔ اس نے اپنے خواب کی خاطر گھر چھوڑا، مسجدوں، پارکوں اور فٹ پاتھوں پر راتیں گزاریں، زندہ رہنے کے لیے مزدوری کی، برتن دھوئے، گاڑیاں صاف کیں، تنور صاف کیے اور ہر اس مشکل کا سامنا کیا جو کسی نوجوان کو اپنے خواب سے دستبردار ہونے پر مجبور کر سکتی تھی، لیکن اس نے ہار نہیں مانی۔

برسوں بعد جب وہ ورلڈ کپ میں لاکھوں تماشائیوں کے سامنے گول پوسٹ کے نیچے کھڑا تھا تو درحقیقت وہاں صرف ایک گول کیپر نہیں کھڑا تھا، بلکہ ایک ایسی داستان کھڑی تھی جو ثابت کرتی ہے کہ مسلسل جدوجہد اکثر ان منزلوں تک پہنچا دیتی ہے جہاں تک قسمت بھی تنہا نہیں پہنچا سکتی۔

شاید اسی لیے علیرضا بیرانوند کی کہانی صرف فٹ بال کی کہانی نہیں، بلکہ انسانی عزم، استقامت اور امید کی کہانی ہے۔

یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خواب دیکھنے والے سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ خواب نرم بستروں پر پلتے ہیں، اور کچھ سرد فٹ پاتھوں پر۔۔ لیکن جب انسان اپنے مقصد سے نظریں نہیں ہٹاتا تو ایک دن وہی خواب حقیقت بن کر دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر کھڑا نظر آتا ہے۔

نوٹ: یہ فیچر علیرضا بیرانوند کے انٹرویوز، بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، گنیز ورلڈ ریکارڈز اور مستند کھیل صحافت کے ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔

________________________

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button