
سیئٹل کے لومن فیلڈ کی اس رات گھڑی کی سوئیاں 125ویں منٹ کو چھو رہی تھیں۔ سینیگال کے کھلاڑی تھکن سے نڈھال تھے، لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی امید کی ایک مدھم سی لو باقی تھی۔ اسکور 2-2 تھا۔ صرف چند لمحوں بعد اگر یہ برابری برقرار رہتی تو فیصلہ پنالٹی شوٹ آؤٹ پر ہونا تھا، جہاں قسمت، اعصاب اور مہارت تینوں ایک ساتھ آزمائے جاتے۔
لیکن پھر کھیل رُک گیا۔ وی اے آر نے ریفری ہیکٹر سعید مارٹینیز سورٹو کو پچ سائیڈ مانیٹر کی طرف بلا لیا۔ اسٹیڈیم میں خاموشی چھا گئی۔
ایک جانب بیلجیئم کے کھلاڑی پُرامید نظروں سے اسکرین کی طرف دیکھ رہے تھے، تو دوسری طرف سینیگال کے فٹبالرز بے یقینی کے عالم میں ریفری کے گرد جمع تھے۔ چند لمحوں بعد ریفری نے سفید دائرے کی طرف اشارہ کیا۔ پنالٹی!
بس ایک لفظ۔۔۔ لیکن اسی ایک فیصلے نے نوّے منٹ کی محنت، اضافی وقت کی جدوجہد اور ایک قوم کے خوابوں کا رخ بدل دیا۔
بیلجیئم کے کپتان یوری تیلیمانس نے گیند کو گول کے اوپری دائیں کونے میں پہنچا دیا۔ سینیگال کے گول کیپر موری دیاو پوری کوشش کے باوجود اسے نہ روک سکے۔
چند سیکنڈ بعد آخری سیٹی بجی۔ بیلجیئم جشن منا رہا تھا۔ سینیگال کے دل گرفتہ کھلاڑی زمین پر بیٹھے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے آسمان کو تک رہے تھے۔
یہ صرف ایک شکست نہیں تھی؛ یہ ایک ایسا منظر تھا جو افریقی فٹبال کے ذہن میں شاید برسوں تک زندہ رہے گا۔
صرف تین ماہ۔۔ اور ایک اور زخم
اگر یہ واقعہ تنہا ہوتا تو شاید اسے فٹبال کی بے رحمی کہہ کر بھلا دیا جاتا، لیکن سینیگال کے لیے مسئلہ صرف یہ ایک پنالٹی نہیں تھا۔
صرف تین ماہ قبل افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں بھی وہ ایک متنازع پنالٹی فیصلے کے گرد گھومنے والی کہانی کا مرکزی کردار بن چکا تھا۔ رباط میں مراکش کے خلاف کھیلے گئے اس ہنگامہ خیز فائنل میں سینیگال نے اضافی وقت میں 1-0 سے کامیابی حاصل کی تھی، لیکن بعد میں اپیلز بورڈ نے فیصلہ بدلتے ہوئے سینیگال کی فتح کالعدم قرار دی اور ٹائٹل مراکش کے نام کر دیا۔
اس فیصلے نے پورے افریقی فٹبال میں شدید بحث چھیڑ دی تھی۔ اب ورلڈ کپ میں بھی، ایک بار پھر، آخری لمحوں کا ایک پنالٹی فیصلہ سینیگال کے راستے میں آ کھڑا ہوا۔
کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا پھر وہ احساس، جو سینیگال کے کھلاڑیوں اور شائقین کے دلوں میں پیدا ہوا، واقعی اتنا غیر فطری بھی نہیں تھا؟
یہی وہ سوال ہے جس نے اس میچ کو صرف ایک ناک آؤٹ مقابلہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے جدید فٹبال میں وی اے آر، ریفریوں کے اختیارات اور انصاف کے تصور پر جاری بحث کا حصہ بنا دیا۔
وہ میچ جو سینیگال جیت چکا تھا… یا کم از کم ایسا لگ رہا تھا
اعداد و شمار کبھی کبھی پوری کہانی نہیں سناتے، لیکن اس رات وہ بھی سینیگال کے حق میں بول رہے تھے۔
پہلے ہاف میں افریقی ٹیم زیادہ منظم، زیادہ جارح اور زیادہ خطرناک دکھائی دی۔ حبیب دیارا نے ریباؤنڈ پر پہلا گول کیا۔
پھر دوسرے ہاف کے آغاز میں اسماعیلہ سار نے ایک شاندار انفرادی کوشش کے ذریعے دوسرا گول اسکور کیا۔ تین بیلجیئن ڈیفینڈرس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ان کا اختتام ایسا تھا کہ لمحہ بھر کے لیے پورا اسٹیڈیم خاموش ہو گیا۔
اسکور 2-0 ہو چکا تھا۔ وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ بیلجیئم کے حملے بے جان دکھائی دے رہے تھے۔ اور یہی وہ لمحہ تھا جب شاید سینیگال نے غیر محسوس انداز میں یہ یقین کر لیا کہ منزل اب زیادہ دور نہیں۔
لیکن ورلڈ کپ کی تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ فٹبال میں سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب کوئی ٹیم خود کو فاتح سمجھنے لگتی ہے۔
اگلے صرف تین منٹ میں پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک جیت، شکست میں بدل سکتی ہے۔
وہ تین منٹ، جنہوں نے سب کچھ بدل دیا
کبھی کبھی پورے ٹورنامنٹ کی کہانی صرف چند لمحوں میں سمٹ آتی ہے۔ سینیگال کے لیے وہ لمحے 86ویں اور 89ویں منٹ کے درمیان تھے۔
بیلجیئم کے ہیڈ کوچ روڈی گارسیا کافی دیر سے کنارۂ میدان پر بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ان کی ٹیم مسلسل جدوجہد کر رہی تھی، لیکن کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ تب انہوں نے وہ فیصلہ کیا جسے بعد میں میچ کا سب سے بڑا ٹیکٹیکل موڑ قرار دیا گیا۔
انہوں نے اپنے دو بڑے ستارے، کیون ڈی بروئنے اور جیریمی دوکو کو میدان سے باہر بلا لیا۔ اس وقت یہ فیصلہ حیران کن محسوس ہوا۔ سوشل میڈیا پر بھی سوال اٹھنے لگے کہ کیا گارسیا نے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟
لیکن فٹبال میں کبھی کبھی سب سے بڑے فیصلے وہی ہوتے ہیں جو ابتدا میں سب سے زیادہ غلط دکھائی دیتے ہیں۔
متبادل کھلاڑی رومیلو لوکاکو ابھی چند ہی منٹ پہلے میدان میں آئے تھے کہ 86ویں منٹ میں انہوں نے سینیگال کے دفاع میں پہلی دراڑ ڈال دی اور دو صفر کا اسکور اچانک دو ایک ہو گیا۔
سینیگال کے چہروں پر پہلی بار گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے۔ ابھی وہ سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ صرف تین منٹ بعد یوری تیلیمانس نے دوسرا گول کر کے اسکور 2-2 پر پہنچا دیا۔
جو ٹیم چند لمحے پہلے راؤنڈ آف 16 میں پہنچتی دکھائی دے رہی تھی، اب اسے ایک نئے امتحان کا سامنا تھا۔
بعد میں سینیگال کے کوچ پاپ تھاو نے اسی لمحے کو شکست کا اصل موڑ قرار دیا، ”ہم 2-0 سے آگے تھے، لیکن پہلا گول کھانے کے بعد ہماری توانائی گر گئی۔ پھر دوسرا گول آ گیا۔ فٹبال کا میچ صرف 85 منٹ کا نہیں ہوتا۔ بیلجیئم نے واپسی کی اور ہم اس کا جواب نہ دے سکے۔“
یہ بیان شکست کی ذمہ داری قبول کرنے والا تھا، لیکن پوری کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔
وہ لمحہ جس نے پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا
برابری کے اسکور پر میچ نوے منٹ کے کھیل کے بعد برابری اضافی دیا گیا۔ اضافی وقت ختم ہونے میں بھی صرف چند سیکنڈ باقی تھے۔
ہر کوئی پنالٹی شوٹ آؤٹ کی تیاری کر رہا تھا۔ تبھی دائیں جانب سے ڈیاگو موریرا نے ایک کراس کیا۔
گیند کی طرف دوڑتے ہوئے یوری تیلیمانس اور پیچھے سے سلائیڈ کرتے ہوئے لامین کامارا تقریباً ایک ہی لمحے میں گیند تک پہنچے۔
ریفری نے کھیل جاری رکھنے کا اشارہ دیا۔ بیلجیئم کے کھلاڑیوں نے احتجاج کیا۔ پھر وی اے آر حرکت میں آیا۔ کئی زاویوں سے ویڈیو دیکھی گئی۔
اسٹیڈیم میں بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ لمحوں بعد ریفری مانیٹر کے سامنے پہنچے۔ انہوں نے ری پلے دیکھا۔ واپس پلٹے۔ اور پنالٹی پوائنٹ کی طرف اشارہ کر دیا۔ اسی ایک اشارے نے پورے میچ کا مقدر بدل دیا۔
پنالٹی کا اشارہ ہوتے ہی سینیگال کے کھلاڑیوں نے ریفری کو گھیر لیا۔ احتجاج، بے بسی اور امید، تینوں جذبات ایک ساتھ ان کے چہروں پر نمایاں تھے۔ شاید وہ جانتے تھے کہ اس ایک فیصلے کے بعد واپسی کا راستہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔
اسی ہنگامے میں سینیگال کے مڈفیلڈر پاتھے سِس خاموشی سے پنالٹی اسپاٹ تک آئے، پھر اچانک گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا سر جھکا لیا اور کافی دیر تک وہیں بیٹھے رہے، جیسے ان کے دل، ذہن اور جسم نے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہو۔ بیلجیئم کے کھلاڑی پنالٹی لینے کی تیاری کر رہے تھے، ریفری کھیل دوبارہ شروع کرانا چاہتے تھے، لیکن پاتھے سِس اٹھنے پر آمادہ نہ تھے۔
یہ محض احتجاج نہیں تھا؛ یہ ایک ایسے کھلاڑی کی خاموش فریاد تھی، جسے محسوس ہو رہا تھا کہ چند لمحوں میں اس کی ٹیم کا ورلڈ کپ خواب اس کی آنکھوں کے سامنے بکھرنے والا ہے۔
بالآخر ساتھی کھلاڑیوں اور آفیشلز نے انہیں اٹھایا، پنالٹی اسپاٹ خالی ہوا، اور یوری تیلیمانس نے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔
شاید اس رات اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ دردناک منظر گول نہیں تھا، بلکہ وہ لمحہ تھا جب ایک کھلاڑی نے پنالٹی اسپاٹ پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر جیسے قسمت کے اس فیصلے کے سامنے خاموش مزاحمت کی۔ چند سیکنڈ بعد کھیل آگے بڑھ گیا، لیکن پاتھے سِس کی وہ خاموش بے بسی اس میچ کی سب سے یادگار تصویروں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔
کیا واقعی یہ پنالٹی تھی؟
یہی وہ سوال ہے جس پر دنیا بھر میں اختلاف پیدا ہوا۔ وی اے آر کی دستیاب ویڈیوز میں دکھائی دیتا ہے کہ لامین کامارا کی سلائیڈنگ ٹیکل کے دوران ان کا پاؤں یوری تیلیمانس کے پاؤں سے ٹکراتا ہے۔
فٹبال کے قوانین کے مطابق اگر ڈفینڈر مخالف کھلاڑی سے ایسا رابطہ کرے جو اسے غیر قانونی طور پر گرا دے، تو پنالٹی دی جا سکتی ہے۔
اسی بنیاد پر وی اے آر نے ریفری کو ریویو کی سفارش کی، اور ریفری نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے پنالٹی دے دی۔
لیکن دوسری طرف ناقدین کا مؤقف مختلف تھا۔ ان کے نزدیک رابطہ انتہائی معمولی تھا، اور اہم بات یہ کہ بال کو ہٹ کرنے کے لیے لامین کامارا کا پاؤں یوری تیلیمانس سے پہلے لمحات میں آگے تھا۔ دونوں نے بال کو کک کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد تیلیمانس نے گرنے میں مبالغہ کیا۔
اسی لیے یہ فیصلہ صرف ایک تکنیکی قانونی بحث نہیں رہا بلکہ انصاف اور کھیل کی روح پر بھی سوال بن گیا۔
فیصلے کے فوراً بعد ردِعمل آنے شروع ہو گئے۔ کینیڈین مبصر کریگ فاریسٹ نے نشریات کے دوران کہا، ”میرے خیال میں سینیگال کے ساتھ بہت سختی ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں ان کے خلاف کئی بڑے فیصلے گئے ہیں۔“
آئی ٹی وی (ITV) پر انگلینڈ کے سابق ڈیفینڈر گیری نیول نے کہا: ”میں سچے دل سے یہ نہیں مانتا کہ وہ پنالٹی تھی۔ پنالٹی کا فیصلہ تھوڑا سخت ہے اور ریفری نے اسکرین کو دیکھنے میں بہت زیادہ وقت لیا۔ آپ ریفری کے فیصلے میں یقین اور پختگی دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن وہ کافی دیر تک ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔“
پروگرام میں موجود رائٹ اور کین نے بھی ان کی کی بات سے اتفاق کیا، جو کہ اپنے طور پر ایک اہمیت رکھتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ سابق سویڈش اسٹار زلاٹن ابراہیمووچ نے استعمال کیے۔ انہوں نے برملا کہا، ”میرے نزدیک یہ پنالٹی نہیں تھی۔ سینیگال کو لوٹ لیا گیا۔“
زلاٹن ابراہیموچ نے امریکہ میں فاکس اسپورٹس کو بتایا، ”میں نہیں مانتا کہ بیلجیئم کے لیے وہ پنالٹی تھی۔ سینیگال کو لوٹ لیا گیا۔ رابطہ معمولی تھا، بیلجیئم کے کھلاڑی نے اس کا پورا فائدہ اٹھایا، اور ریفری مکمل طور پر ان کے دھوکے میں آ گئے۔“
ان کا مزید کہنا تھا، ”جدید فٹ بال کا یہی مسئلہ ہے۔ اب فارورڈز یہ سمجھ چکے ہیں کہ جیسے ہی انہیں ڈی باکس میں ہلکا سا بھی ٹچ محسوس ہو، وہ نیچے گر جاتے ہیں اور وی اے آر کے فائدے کا انتظار کرتے ہیں۔“
زلاٹن ابراہیمووچ کہتے ہیں، ”میرے نزدیک، پنالٹی بالکل واضح ہونی چاہیے۔ یہ بالکل عیاں ہونی چاہیے۔ یہ ان فیصلوں میں سے نہیں ہونی چاہیے جہاں لوگوں کو قائل کرنے کے لیے آپ کو 10 ری پلے، تین کیمرہ اینگلز اور پانچ منٹ کی بحث کی ضرورت پڑے۔ ایک اتنے بڑے ناک آؤٹ میچ کا پانسہ صرف ایک معمولی پنالٹی کی وجہ سے پلٹتے دیکھنا تکلیف دہ ہے۔“
انہوں نے کہا ”اگر میں سینیگال کی جگہ ہوتا تو سنجیدہ سوالات اٹھاتا۔ یہ اب ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ پہلے مراکش کے خلاف افکن (AFCON) فائنل، اب ایک اور بڑا ٹورنامنٹ، ایک اور بڑا میچ، اور ایک بار پھر ان کے خلاف آخری لمحات میں پنالٹی کا فیصلہ۔“
یاد رہے کہ سینیگال کے لیے یہ مناظر رباط اور جنوری میں ہونے والے افکن (Afcon) فائنل کی یادیں تازہ کر گئے ہوں گے۔
وہاں، مراکش کو اضافی وقت میں پنالٹی دی گئی تھی، جب الحاجی مالک دیوف کے براہیم دیاز پر چیلنج کے بعد وار (VAR) کی جانچ کی گئی تھی۔
ان سنسنی خیز مناظر کے دوران، ہیڈ کوچ تھیاؤ اپنی ٹیم کو میدان سے باہر لے گئے – جو کہ بالآخر سینیگال کے لیے بہت مہنگا ثابت ہوا کیونکہ میزبان ٹیم کے خلاف 1-0 سے جیت کے باوجود بعد میں ان سے ٹائٹل چھین لیا گیا۔
تھیاؤ نے کہا: ”ہم باہر ہو گئے ہیں – اس کا دکھ ہے۔ ہمیں ٹیم کو مبارکباد دینی چاہیے جس نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا، لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی دو گول کی برتری کو برقرار نہ رکھ سکے۔ ہمیں اسے قبول کرنا ہوگا۔ یہی فٹ بال ہے۔“
دوسری طرف بیلجیئم کے حق میں دیے گئے پنالٹی کے متنازع فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی لاکھوں شائقین دو واضح حصوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق رابطہ موجود تھا، اس لیے پنالٹی درست تھی۔ دوسرے کا مؤقف تھا کہ ایسے معمولی رابطے پر ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے کا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہی تقسیم اس میچ کی سب سے بڑی میراث بن گئی۔
سینیگال کے کوچ کیا کہتے ہیں
شکست کے باوجود سینیگال کے کوچ پاپ تھاو نے ریفری پر براہِ راست الزام لگانے سے گریز کیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا: ”ہمیں یقین تھا کہ یہ پنالٹی نہیں تھی، لیکن میں ریفری کے فیصلے پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔“
یہ الفاظ شاید کسی احتجاج سے زیادہ وزنی تھے۔ انہوں نے ریفری کے فیصلے کو غلط قرار دینے کے ساتھ شکست کا ایک بڑا سبب اپنی ٹیم کی غلطیوں کو بھی قرار دیا۔
دوسری جانب ڈفینڈر کریپن دیاٹا کے الفاظ کہیں زیادہ جذباتی تھے۔ ”یہ واقعی بہت افسوسناک ہے۔“
جبکہ گول اسکورر حبیب دیارا نے اعتراف کیا: ”ہم نے شاندار آغاز کیا، لیکن میچ نوّے منٹ سے زیادہ کا بھی ہوتا ہے۔ آخر میں ہم خود کو سنبھال نہیں سکے۔“ لیکن اس میں وہ اپنی غلطیوں کو اعتراف تو کر رہے ہیں، لیکن ایسا نہیں کہ وہ ریفری کے پنالٹی کے فیصلے کو درست قرار دے رہے ہیں۔
ان بیانات سے ایک اہم حقیقت سامنے آتی ہے۔ سینیگال نے پنالٹی پر اعتراض ضرور کیا، لیکن اپنی شکست کا سارا بوجھ صرف ریفری کے کندھوں پر نہیں ڈالا۔ شاید یہی اس ٹیم کے وقار کی سب سے بڑی دلیل بھی تھی۔
تین ماہ، دو ٹورنامنٹس۔۔۔ اور ایک جیسا درد
کسی ایک متنازع فیصلے کو محض بدقسمتی کہا جا سکتا ہے۔ دو فیصلے بھی اتفاق قرار دیے جا سکتے ہیں، لیکن جب ایک ہی ٹیم، ایک ہی کوچ اور تقریباً وہی کھلاڑی صرف چند ماہ کے وقفے میں دو بڑے ٹورنامنٹس کے بعد ایک جیسے احساس کے ساتھ میدان سے باہر نکلیں، تو کہانی صرف اسکور لائن تک محدود نہیں رہتی۔
سینیگال کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنل میں پنالٹی کے ایک متنازع فیصلے نے ایسا ہنگامہ کھڑا کیا کہ بعد میں اپیلز بورڈ نے پورا نتیجہ ہی بدل دیا۔ اس واقعے نے افریقی فٹبال میں ریفریوں، قوانین اور انصاف کے بارے میں ایک تلخ بحث چھیڑ دی۔
اب ورلڈ کپ میں، ایک بار پھر، فیصلہ ایک ایسے پنالٹی پر ہوا جس پر دنیا بھر میں اختلافِ رائے سامنے آیا۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دونوں واقعات ایک جیسے تھے، یا یہ کہ کسی سازش کا ثبوت موجود ہے۔ لیکن پس پردہ موجود کہانی کون جانتا ہے؟
اایک حقیقت، جس سے انکار ممکن نہیں۔ سینیگال کے کھلاڑیوں، اس کے شائقین اور کئی غیر جانبدار مبصرین کے ذہن میں یہ احساس ضرور پیدا ہوا کہ کھیل کے سب سے نازک لمحات میں قسمت اور فیصلے بار بار ان کے خلاف جا رہے ہیں۔
اور کھیل میں بعض اوقات احساس بھی اتنا ہی طاقتور ہوتا ہے جتنا حقیقت۔
بیلجیئم کی کامیابی بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے
اگرچہ یہ متنازع پینلٹی بیلجیئم کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئی لیکن اگر صرف پنالٹی کی بات کی جائے تو شاید بیلجیئم کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی۔
کیونکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ ریڈ ڈیولز نے شکست کے دہانے سے واپس آ کر میچ کو زندہ کیا۔ روڈی گارسیا کی بروقت تبدیلیاں، رومیلو لوکاکو کی آمد، یوری تیلیمانس کی قائدانہ ذمہ داری اور پوری ٹیم کی آخری لمحوں تک لڑنے کی صلاحیت اس کامیابی کی بنیادی وجوہات تھیں۔
اسی لیے یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ بیلجیئم صرف ریفری کے فیصلے کی بدولت جیتا۔ اگر اس نے آخری دس منٹ میں غیر معمولی واپسی نہ کی ہوتی تو 125ویں منٹ کی پنالٹی کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔
دوسری جانب بیلجیئم کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ماہرین نے ای ایس پی این آسٹریلیا پر اپنے تجزیے میں کہا، بیلجیئم کی اس کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کو بیلجیئم کی اس ٹیم سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو لوکاکو کی طرف لمبی ہٹیں مارنے کے علاوہ دیگر تمام منصوبوں سے عاری نظر آئی۔
وی اے آر: انصاف کا ذریعہ یا اختلاف کا نیا دروازہ؟
جب وی اے آر متعارف کرایا گیا تھا تو دعویٰ یہ تھا کہ یہ واضح غلطیوں کو ختم کر دے گا۔ کسی حد تک ایسا ہوا بھی۔
آج آف سائیڈ کے فیصلے غلطیوں کے باوجود ہم اس کم پہلے سے زیادہ درست ہیں، گول لائن ٹیکنالوجی نے کئی تنازعات ختم کر دیے ہیں اور بہت سی واضح غلطیاں بھی درست ہونے لگی ہیں۔
لیکن سینیگال اور بیلجیئم کا یہ مقابلہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف تصویر دکھا سکتی ہے، فیصلہ اب بھی انسان ہی کرتا ہے۔
ویڈیو ہر زاویہ دکھا سکتی ہے، لیکن یہ نہیں بتا سکتی کہ رابطہ اتنا شدید تھا کہ پنالٹی دی جائے یا نہیں۔
اسی لیے وی اے آر کے دور میں بھی اختلاف ختم نہیں ہوئے، بلکہ بعض اوقات پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
شاید اس رات بھی اصل تنازعہ ٹیکل نہیں، بلکہ اس کی تشریح تھی۔
ایک شکست، جو تاریخ میں زندہ رہے گی
میچ ختم ہونے کے بعد لومن فیلڈ کے ایک حصے میں سرخ جرسیوں کا جشن تھا۔ دوسری طرف سبز جرسیوں میں ملبوس سینیگال کے کھلاڑی خاموش کھڑے تھے۔
کچھ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ کچھ نے اپنا چہرہ جرسی میں چھپا لیا اور کچھ دیر تک خالی نظروں سے اس اسکرین کو دیکھتے رہے، جہاں چند لمحے پہلے وہ ویڈیو چلائی گئی تھی جس نے شاید ان کے خوابوں کی سمت بدل دی تھی۔
فٹبال بے رحم ہے۔ کبھی ایک گیند پوسٹ سے ٹکرا کر باہر نکلتی ہے، کبھی اندر۔
کبھی ایک معمولی سا رابطہ پنالٹی بن جاتا ہے، اور کبھی ویسا ہی رابطہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ لوگوں کے نزدیک اس کھیل کی خوبصورتی ہے اور کچھ کی نظر میں اس کا سب سے بڑا المیہ
فیصلہ پنالٹی کا نہیں، احساس کا تھا
شاید تاریخ یہ لکھے گی کہ بیلجیئم نے سینیگال کو 3-2 سے شکست دے کر راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنائی۔
شاید ریکارڈ بک میں صرف اتنا درج ہوگا کہ یوری تیلیمانس نے ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے تاخیر سے ہونے والی فیصلہ کن پنالٹی اسکور کی۔
لیکن جو لوگ اس رات یہ میچ دیکھ رہے تھے، وہ شاید اسے ایک مختلف انداز میں یاد رکھیں گے۔
وہ اسے اس رات کے طور پر یاد رکھیں گے جب ایک پنالٹی نے دنیا بھر میں بحث چھیڑ دی؛ جب کچھ لوگوں نے اسے قانون کے مطابق درست فیصلہ کہا اور کچھ نے اسے کھیل کی روح کے خلاف قرار دیا۔ یہاں تک کہ سینیگال کے خلاف اسے ڈاکا تک قرار دیا گیا۔
حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہو۔
قوانین ریفری کے فیصلے کا جواز فراہم کر سکتے ہیں، لیکن وہ ان لاکھوں دلوں کی مایوسی کی شدت کم نہیں کر سکتے جنہیں یہ محسوس ہوا کہ ایک بار پھر فیصلہ ان کے خلاف گیا۔
اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم سبق بھی ہے۔
فٹبال صرف گولوں سے نہیں جیتا یا ہارا جاتا؛ کبھی کبھی ایک سیٹی، ایک اشارہ اور چند لمحوں کی ویڈیو ریویو بھی تاریخ کا رخ موڑ دیتی ہے۔
_________________




