Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Iran War sangat mag
اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

ایران کو ’تباہ‘ کرنے کی ڈیڈ لائن: ٹرمپ کی سخت وارننگ، تہران کا دوٹوک مؤقف اور پسِ پردہ سفارت کاری

By Akhtar Rasool
اپریل 7, 2026 3 Min Read
0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران(Iran) کے خلاف جاری عسکری کارروائی کے تناظر میں ایک نئی اور انتہائی سخت مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے واشنگٹن کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو آئندہ حملوں کی لہر غیر معمولی حد تک شدید ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کا عمل ایک مقررہ وقت پر شروع کیا جا سکتا ہے اور چند گھنٹوں میں اہم تنصیبات کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا رکاوٹ ترسیل ایک بنیادی شرط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اگر بڑے پیمانے پر تباہی سے بچنا چاہتا ہے تو اسے ایسا معاہدہ کرنا ہوگا جو واشنگٹن کے لیے قابل قبول ہو۔

ایران کا جواب: جنگ بندی سے انکار، مستقل حل کا مطالبہ

ایرانی حکام نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کے لیے پابندیوں کے خاتمے اور تنازع کے مستقل حل کی ضمانت ضروری ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران نے اپنی سفارشات تیار کر کے سفارتی ذرائع سے آگے بڑھانے کا عمل شروع کر دیا ہے، جن پر قیادت نے تفصیلی غور کے بعد اتفاق کیا۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں مواصلاتی رکاوٹیں بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس کے باعث پیغامات کے تبادلے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ایک علاقائی ذریعے کے مطابق بامعنی پیش رفت کے لیے پہلے کشیدگی میں کمی ناگزیر ہے۔

پاکستان، ترکی اور مصر سمیت چند ممالک پسِ پردہ ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔


  • ایران میں امریکی ایف-15 طیارہ گرنے کا دعویٰ، لاپتہ عملے کی تلاش میں دوڑ تیز


  • ’الجزیرہ‘ کو ایرانی وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی کا خصوصی انٹرویو


  • یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی


دباؤ میں واشنگٹن: ساکھ، قانون اور عسکری حدود

مہلت کے اختتام کے قریب آتے ہی امریکی قیادت ایک نازک مرحلے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو مہلت میں توسیع کی جا سکتی ہے، تاہم سخت بیانات کے بعد پسپائی سیاسی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے اپنی حالیہ پریس بریفنگ میں دعویٰ کیا کہ ایران عسکری لحاظ سے کمزور پوزیشن میں ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ آبنائے ہرمز میں محدود کارروائی بھی عالمی منڈیوں کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون، میزائل یا بارودی سرنگوں کے ذریعے سمندری گزرگاہ کو متاثر کرنے کی صلاحیت خطے میں طاقت کے توازن کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہری انفراسٹرکچر کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تو اسے جنگی قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کی کارروائیاں مخصوص عسکری اہداف تک محدود ہیں، تاہم تنقید کرنے والے اسے خطرناک حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی فوجی کمان کے مطابق کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہے اور متعدد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، مگر خود واشنگٹن میں بھی اس بات پر بحث جاری ہے کہ طویل المدتی نتائج کیا ہوں گے اور تعمیر نو کی ذمہ داری کس پر آئے گی۔

کیا کوئی معاہدہ قریب ہے؟

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا اور ایک فریق سنجیدہ بات چیت کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ تاہم تفصیلات خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یا تو پسِ پردہ بات چیت توقع سے زیادہ آگے بڑھ چکی ہے یا پھر یہ دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ خطہ مزید کشیدگی کی طرف جاتا ہے یا سفارت کاری کوئی درمیانی راستہ نکال لیتی ہے۔ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیاں اور خطے کا امن اس وقت اسی فیصلے سے وابستہ ہیں۔


خطے میں جاری کشیدگی صرف جغرافیائی نہیں بلکہ سماجی و ثقافتی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ترکی کے انٹیلیجنس سربراہ ابراہیم قالن

 

Tags:

breaking international newsDefense StrategyEnergy SecurityGeopolitics AnalysisGlobal Oil Pricesglobal security newsInternational SanctionsIran Ceasefire TalksIran nuclear tensionsiran us warMiddle East conflictMilitary Infrastructure AttacksOil Market CrisisStrait of Hormuz crisisTrump Iran DeadlineUS Foreign PolicyUS Military StrikesWar and Diplomacy
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Green washing
Previous

کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی وعدے: حقیقی پیش رفت یا گرین واشنگ

Jhimpir wildlife crisis sangat mag
Next

جھمپیر، جہاں دہائیوں سے جنگلی حیات کی نسل کشی جاری ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme