سیلفی، شوق سے لت بننے تک: کیا یہ ذہنی فتور اور بیماری ہے؟

ویب ڈیسک

اپنی تصاویر اُتارنے کی حد تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب یہ جنون بن جائے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یہ کوئی دماغی عارضہ تو نہیں؟

اسے جنون کہنا اس لیے بھی درست ہے کہ لوگ اکثر سیلفی لیتے ہوئے جان سے گزر جاتے ہیں اور حیرت تو یہ ہے کہ لوگ اب ایسی خبروں پر حیرانی کا اظہار بھی نہیں کرتے کہ کبھی کوئی نوجوان سیلفی بناتے ہوئے نہر میں گر جاتا ہے اور کبھی پہاڑ سے پائوں پھسل جانے کے باعث کھائی میں جا گرتا ہے

چند برس قبل امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن نے بار بار سیلفی لینے کے عمل کو ایک نیا ذہنی فتور یا بیماری قرار دیا تھا

امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن نے اسے ’سیلفی کا جنون‘ بھی قرار دیا تھا، جس میں عجیب و غریب انداز میں سیلفیاں لینے اور انہیں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی شدید خواہش ہوتی ہے

ایسوسی ایشن نے اس عارضے کو تین درجوں میں تقسیم کیا، جن میں پہلے درجے کو ’ابتدائی سیلفی کی لت‘ دوسری قسم میں ’سیلفی بنانے کی شدید ترین خواہش‘ جبکہ تیسری قسم میں ’سیلفی کا نشہ‘ شامل ہے

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسانی فطرت میں ’نرگسیت‘ کا عنصر بڑی حد تک موجود ہے جو خود پسندی اور خود ستائشی سے عبارت ہوتا ہے۔ یہ عنصر ہر انسان میں پایا جاتا ہے لیکن کسی میں اس کا ابھار کم جبکہ کہیں بہت زیادہ ہوتا ہے

مذکورہ صورت میں سیلفی لینے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے پس پردہ وہ جذبہ کار فرما ہوتا ہے، جسے خود نمائی یا خود ستائشی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ جب کوئی اپنی سیلفی کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا ہے تو وہ یہ جانتا ہے کہ اب بہت سے لوگ اسے دیکھیں گے

تو کیا سیلفی کی لت دماغی عارضے کی علامت ہے؟ بلاشبہ جو لوگ روزانہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپنی درجنوں سیلفیاں پوسٹ کرتے ہیں وہ ایک قسم کے عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں

اپنی تصویر لے کر اسے اپنی مرضی کے مطابق پوسٹ کرنے سے اس شخص کو اس بات کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی چیز دوسروں کو دکھائے۔ یعنی ایسا شخص خود پسندی کے رجحان میں مبتلا ہونے لگتا ہے، جس میں وہ دوسروں کو کوئی اہمیت نہیں دیتا

تاہم ایک تحقیق میں اس کا ایک اور پہلو بھی واضح کیا گیا ہے، جس کے مطابق: کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ لوگ صرف خود نمائی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے تجربے کی اہمیت محفوظ بنانے کے لیے بھی سیلفی لیتے ہیں

سوشل سائیکالوجیکل اینڈ پرسنلٹی سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ جو لوگ سیلفی لے کر منظر میں خود کو دکھاتے ہیں، وہ اس واقعے کی اہمیت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایسا کرتے ہیں

ٹیم نے مزید کہا کہ جب وہ فرسٹ پرسن فوٹوگرافی (خود تصویر لینا) کا استعمال کرتے ہیں، تو وہ منظر کی تصویر ویسے لیتے ہیں، جیسا ان کو لگ رہا ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جسمانی تجربے کو دستاویزی شکل دینا چاہتے ہیں

جبکہ ایک ماہر نفسیات ڈاکٹر ڈیوڈ ویل کا کہنا ہے کہ جو لوگ کیمرا فون کا استعمال زمانے سے کرتے چلے آئے ہیں، ان ہر تین میں سے دو افراد ’’بی ڈی ڈی‘‘ یعنی ( باڈی ڈسمورفک ڈس آرڈر) کے شکار ہوتے ہیں۔ اس نفسیاتی بیماری کے باعث آدمی اپنے ہی بارے میں سوچتا رہتا ہے اور اس بارے میں پریشان رہتا ہے کہ لوگوں کے سامنے زیادہ سے زیادہ کیوں کر بہتر اور نمایاں نظر آیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سیلفی لینا فیشن یا رواج نہیں، آپ کے بیمار ذہن کی علامت ہو سکتی ہے

بہرحال نرگسیت پسندی کی علامات کی بات کی جائے تو نرگسیت پسندی یا خود پسندی میں اتنا مبتلا ہونا کہ دوسروں کو کم تر سمجھنے لگنا۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ ایک بزدلانہ صفت ہے

اس حوالے سے نرگسیت پسند شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک قسم کے عارضے میں مبتلا ہوتا ہے، جسے سوچ یا فکر کی خرابی بھی کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ذات میں انتہا سے زیادہ خود پسند ہو جانا ایک قسم کا دماغی عارضہ ہے، جس کی علامات یہ ہیں:
•مستقل بنیادوں پر پسند کیے جانے کی خواہش
•ہمدردانہ جذبات میں کمی
•ہمہ وقت وہم میں مبتلا رہنا
•طاقت، مال، شہرت اور کامیابی کی سوچوں میں گم رہنا
•دوسروں کو کم تر اورخود کو اعلٰی سمجھنا
•خود کو ہرچیز کا حق دار سمجھنا یعنی بہتر جاننا
•یہ سوچ کہ ہر کوئی مجھ سے حسد کرتا ہے
•دوسروں کو نیچا دکھانا یا ان کے جذبات سے کھیلنا

ان کے علاوہ سابقہ کی گئی تحقیق میں بھی اس جانب اشارہ ملتا ہے کہ سیلفی کے نشے میں مبتلا بعض افراد اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ یہ تصور کر بیٹھتے ہیں کہ جس دن ان کی کوئی سیلفی پوسٹ نہیں ہوتی، ان کا دن ہی مکمل نہیں ہوتا

سیلفی کی لت کو ایک طرح کا دماغی عارضہ بھی کہا جاتا ہے اور یہ بڑھ جانے کی صورت میں نشے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے اجتناب برتنا ضروری ہے

علاوہ ازیں سیلفی کی لت، خود اعتمادی کے مسئلے سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ’سیلفی کا جنون‘ انسان میں خود اعتمادی کی کمی کا باعث بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ شخص اپنے ہی حصار میں قید ہو جاتا ہے اور صرف اپنی پسند کو دوسروں پر لاگو کرنے کا خواہاں ہوتا ہے، اور وہ بالآخر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ کوئی اور ہی انسان ہے اور دوسروں سے قطعی مختلف ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close