کراچی: خون کے عطیہ کے وقت 1 ہزار 282 افراد میں ایچ آئی وی کا انکشاف

نیوز ڈیسک

کراچی : سرکاری طور پر جاری کیے گئے صوبائی اعداد و شمار میں خون سے پیدا ہونے والی اور جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی تعداد کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں خون کی جانچ کی خدمات کو بہتر بناتے ہوئے انتہائی رعایتی بنیادوں پر فراہم کیا جائے

سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی (ایس بی ٹی اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 24 ہزار 88 افراد ایک یا ایک سے زائد متعدی بیماریوں میں مبتلا پائے گئے اور ان کے نمونے 2021 کے پہلے 8 ماہ کے دوران 24 اضلاع میں قائم بلڈ بینکوں میں خون کا عطیہ دینے والوں کے ٹیسٹ بعد سامنے آیا، جس کے بعد ان کے عطیات نا اہل قرار دے دیے گئے تھے

اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں کُل 4 لاکھ 55 ہزار 742 نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا.  ایک ہزار 357 افراد میں ایچ آئی وی انفیکشن کا پتہ لگایا گیا، جبکہ 8 ہزار 155 خون کا عطیہ دینے والوں میں ہیپاٹائٹس بی کی تصدیق ہوئی اور 7 ہزار 995 لوگ ہیپاٹائٹس سی سے متاثر پائے گئے

اس کے علاوہ 6 ہزار 142 خون کے عطیہ دہندگان جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن سیفلیس اور 448 ملیریا سے متاثر پائے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں 653 مریضوں کے ساتھ ضلع شرقی ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی فہرست میں سرفہرست ہے جس کے بعد ضلع جنوبی (431)، ضلع ملیر (78)، ضلع کورنگی (77)، ضلع وسطی (23) اور ضلع مغربی (20)

خون کا عطیہ دینے والوں میں سب سے زیادہ سیفلس کیسز (ایک ہزار 625) ضلع جنوبی میں پائے گئے، جس کے بعد ضلع شرقی (926)، ضلع وسطی (522)، ضلع کورنگی (206)، ضلع ملیر (112) اور ضلع غربی (83) ہیں

سینئر پیتھالوجسٹ اور انفیکشن کنٹرول سوسائٹی آف پاکستان کے صدر پروفیسر رفیق خانانی کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو بہت کم سمجھا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر بلڈ بینک اور صحت کی سہولیات نیوکلیک ایسڈ ٹیسٹ (این اے ٹی) کی سہولت سے محروم ہیں، جس میں 99 فیصد درستگی سامنے آتی ہے، ایس بی ٹی اے نے اسکریننگ نہیں کی، بلکہ یہ اعداد و شمار بلڈ بینکوں سے اکٹھے کیے ہیں

انہوں نے نشاندہی کی کہ عام طور پر بلڈ اسکریننگ کی سہولیات یا تو ان ڈائریکٹ کومبس ٹیسٹ استعمال کر رہی تھیں جن میں پانچ فیصد غلطی کا امکان ہوتا ہے یا ایلیسا ٹیسٹ استعمال کررہی ہیں جس میں دو فیصد غلط رپورٹ کا امکان ہوتا ہے

تاہم این اے ٹی میں 0.5 فیصد غلبی کا امکان ہے لیکن یہ طریقہ کار قدرے مہنگا ہے

ان کا کہنا تھا کہ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ اعداد و شمار ابھی تک حیران کن ہیں کیونکہ سامنے آنے والے کیسز میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ متاثر ہیں اور اسکریننگ کا انتخاب صرف اس لیے کیا کیونکہ وہ اپنا خون عطیہ کرنا چاہتے تھے

ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ انہیں ہیپاٹائٹس بی، سی یا ایچ آئی وی جیسے سنگین انفیکشن ہیں کیونکہ ان میں ابھی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں یا بیماری کی ہلکی پھلکی علامات ہیں، وہ اپنے پیاروں، خاص طور پر بیوی یا پارٹنرز میں یہ بیماری پھیلارہے ہیں جن کا ٹیسٹ بھی کروایا جانا چاہیے

پروفیسر رفیق خانانی کے مطابق حکومت کو رضاکارانہ طور پر خون کے عطیہ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور لوگوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار ان بڑی متعدی بیماریوں کے لیے اپنا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close