ایران میں مہسا امینی کی دورانِ حراست ہلاکت پر غم وغصے میں اضافہ
درست طور پر حجاب نہ اوڑھنے پر ایران میں گرفتار ہونے والی خاتون کی پولیس کی حراست میں ہلاکت سے ایران میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان کے جنازے کے موقع پر شدید احتجاج سامنے آیا ہے جبکہ ٹوئٹر پر خاتون کا نام ٹاپ ٹرینڈ ہے خبر رساں ادارے روئٹرز…
ایران آوارگی (قسط 5)
گزشتہ قسط میں، مَیں نے قصر قند سے پہلے ایک خوبصورت علاقے ’ھیت‘ کی بات کی تھی۔ علاقوں کی خوبصورتی کے بارے میں ایک بلوچی شعر ہے، جس میں ھیت، گنجا باد، بگ، پارود، راسک، باھو، کیچ کا ذکر ہے: ھیتءء گنجاباد ءء بگاں، پارودگوں ھاتوئیں جناںز راسک گوں ٹی ءٔ…
ایرانی سرحد بند ہونے سے بلوچستان کی سرحدی آبادی کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
صوبہ بلوچستان کی ایران سے متصل سرحد یہاں کے لوگوں کے لیے معاشی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، لیکن رواں سال یہاں سرحدی باڑ لگنے اور بندش کی وجہ سے مقامی افراد کو معاشی مسائل کا سامنا ہے نیاز محمد بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور کی سبزی منڈی میں ایک دکان چلاتے…
ایران آوارگی (قسط-4)
5 جولائی کی دوپہر کو ہم تین گاڑیوں کے قافلے میں ایران شہر پہنچے، راستے میں یہ علاقے آئے: جیکی کور – یہ نوحانی بلوچوں کی اکثریت کا علاقہ ہے۔ تافتان بارڈر سے آنے والے بھی جکی کور سے ہی آگے جاتے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ سرباز کو جاتا ہے۔ سرباز کا علاقہ…
ایران سے ٹماٹر اور پیاز کی درآمد پر بلوچستان کے زمینداروں کا احتجاج
بلوچستان میں سیلاب سے متاثر ہونے والے زمیندار ایک بار پھر سراپا احتجاج ہیں اور اس بار اس احتجاج کی وجہ ایران سے ٹماٹر کی درآمد ہے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک وڈیو کچھ افراد ایران سے آئے ٹماٹروں کو کنٹینر سے باہر پھینک رہے ہیں وڈیو میں…
ایران آوارگی (قسط 3)
گوات کش پہاڑی سلسلہ ہے۔ گوات کش کنڈ مشہور پاس ہے، یہ بہت تاریخی علاقہ ہے۔ ڈاکٹر مبارک بلوچ کا کہنا ہے کہ ”جب شہنشاہ ایران بلوچوں کے ساتھ لڑائی سے تنگ آگئے تو انہوں نے 1938 میں یہ اعلان کیا کہ بلوچ اپنے ہتھیار حکومت کے پاس جمع کرائیں۔ بہت سے بلوچ سرداروں…
ایران آوارگی (قسط 2)
چابہار کے معنی یہ ہیں کہ "چا” "چات” کنویں کو کہتے ہیں۔ اس علاقے میں کسی زمانے میں بہت سارے کنویں تھے، جس سے زراعت کرتے تھے۔ ان کنووں کے بڑی تعداد میں ہونے کی وجہ سے کہا گیا کہ یہاں چاتوں (کنووں) کی بہار ہے۔ اس طرع یہ چابہار ہوا۔…
ایران آوارگی (قسط 1)
راستے میں ڈاکٹر مبارک سے تاریخ پر گفتگو جاری ہے، جت اور مید قبائل پر بحث، جت اور مید جو پیشے ہیں،جن میں اکثریت ھوت کی ہے۔ ھوت سکندر اعظم کے وقت سے سونمیانی سے جیونی تک پھیلے ہوئے تھے۔ سکندر سے ان کی گدورشیا (آج کا لسبیلہ اور مکران) میں جنگیں ہوئیں۔ ایرین…