امّاں (افسانہ)
یہ کھیل اس گھر میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ ہوچکا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے کسی تھیٹر میں ایک ہی ڈرامے کے کئی شوز ہوتے ہیں۔ وہی کردار، وہی پلاٹ، وہی مکالمے، وہی واقعات، وہی سب کچھ۔۔ اب تو اس گھرکے مکینوں کو ایسا لگنے لگا تھا جیسے وڈیو کیسیٹ رِوائنڈ کرکے…
لکژری کروز (افسانہ)
کھڑکی کے دونوں جانب کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ کھڑکی کے باہر بحری جہاز کے عملے کا ایک فرد کرین جیسی مشینری پر چڑھ کر کھڑکیاں دھونے میں مصروف تھا۔ گزشتہ رات کے سمندری طوفان سے کھڑکیاں گدلی ہو گئی تھیں۔ اس سے پہلے کہ خصوصی لگژری کلاس کے مسافر…
پشت پر سوار بیٹا (افسانہ)
شام کے وقت گرنے والی بجلی کے جھٹکے کا اثر اب تک برقرار تھاـ اس تیز جھٹکے سے اس کے وجود کی بنیاد ہی لرز گئی تھی۔ اس کمزور بنیاد کے سہارے وہ کتنی دیر تک استقامت کے ساتھ زمین پر ایستادہ رہ سکتا ہے؟ حسب معمول ٹرین کی چیکنگ کے بعد وہ پلیٹ فارم…
تندور میں پکا چاند (افسانہ)
جب بیٹھے بیٹھے بہت دیر ہوگئی تو ایک ادھیڑ عمر کا شخص زمین پر ہاتھ رکھ کراٹھ کھڑا ہوا۔ ”چلا جائے اب۔“ اس نے دونوں ہتھیلیوں سے دھول جھاڑتے ہوئے کہا۔ دو لوگ جو ابھی تک بیٹھے ہوئے سستا رہے تھے، انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور سر پر انگوچھا ڈالے، اپنا…
جناب کونیکا اور اس کا جانشین (افسانہ)
ٹرین اوریولا کے باغات کی ہموار زمین سے گزر رہی تھی۔ ٹرین سے باہر کے مناظر یکے بعد دیگرے تبدیل ہو رہے تھے۔ لمبے، گھنے، گہرے پٹ سن کے پودوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے شاندار مالٹوں کے درخت ان کی جگہ لے چکے تھے۔۔ اور اب سرسبز ٹیلوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے رستے…
دشمن کی آنکھیں
پئیترو اس صبح چہل قدمی کر رہا تھا، تبھی اسے احساس ہوا کہ کچھ ایسا ہے، جو اسے پریشان کر رہا ہے۔ وہ ایسا کچھ دیر سے محسوس کر رہا تھا لیکن وہ اس سے آگاہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا احساس تھا، جیسے کوئی اس کے پیچھے ہو، کوئی ایسا، جو نظر نہ آتے…
کہانی کا سفر (افسانہ)
برگد نے اپنے پہلو میں بندھے بیل پر ایک نظر دوڑائی تو نامعلوم دکھ کی لہر اس کے وجود میں سرایت کر گئیـ چند سال پہلے یہی بیل جوانی کے نشے میں چُور ادھر ادھر دوڑتا پھرتا تھاـ چمکدار سفیدی مائل جلد چاندی کی مانند چمکتی تھی۔ چوڑا ماتھا اور موٹی گردن پر گوشت کی…
اعجاز عرف ججی کا گھر (افسانہ)
ججی کے بیٹے نے فون کیا کہ رات ابا کو دل کا دورہ پڑا تھا، ہسپتال میں ہیں۔ آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ ہسپتال میرے گھر سے دس منٹ کے فاصلے پر تھا۔ میں جب کمرے میں داخل ہوا تھا، ججی آنکھیں بند کیے نیم دراز تھا۔ آہٹ پر آنکھیں کھولیں اور مسکرایا۔ ”دیکھا۔۔۔…