نہ انجن کی خوبی نہ کمالِ ڈرائیور
کتنے لوگوں کو تب معلوم تھا یا اب معلوم ہے کہ پاکستانی بری فوج کے پہلے سربراہ جنرل سر فرینک والٹر میسروی کا ملازمتی دورانیہ صرف چھ ماہ تھا اور ان کی جگہ لینے والے جنرل ڈگلس گریسی تین برس دو ماہ تک بری فوج کے سربراہ رہے۔ کشمیر سے متعلق حکومت کی عسکری…
پاکستانی سیاست کی پہیلیاں: ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
’سہیلی بوجھ پہیلی‘ گئے وقتوں میں فرصت کا مشغلہ ہوا کرتا تھا۔ یہ لفظی تفریح ذہنی آزمائش کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی جو مخاطب کو ’بوجھو تو جانیں‘ کا چیلنج دیتی تھی۔ مگر بھلا ہو ہمارے سیاستدانوں کا، جنہوں نے ایک بار پھر پہیلیاں بجھوانے کا یہ سلسلہ شروع…
ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟
پاکستان میں کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کے ساتھ لڑائی میں پیپلز پارٹی کا ’غیر معمولی محتاط طرز عمل‘ بہت نمایاں ہے واضح رہے کہ پاکستان میں کثیرالجماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو…
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔۔
سیاست کہنے کو تو یونانی زبان کے سادہ سے لفظ "پولیٹکا” لغوی معنی "شہری معاملات” سے ماخوذ ہے لیکن ذرا تفصیل میں جائیں تو سیاسیات کا تعلق اجتماعی فیصلہ سازی اور معاشرے میں طاقت و اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اختیارات کی اس تقسیم میں…
آبادیاتی تبدیلی یورپی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے؟
رواں سال کنزرویٹیو پارٹی کی سربراہی کی دوڑ میں رشی سوناک کو لزٹرس سے شکست ہوگئی تھی، تاہم اب وہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ اس امر نے برطانیہ کی سیاست میں رنگ و نسل اور مذہب پر نئی بحث چھیڑ دی ہے برطانیہ کے پہلے ہندو اور غیر سفید فام وزیراعظم…
بات اگر واوڈا تک آ گئی ہے تو پھر صلح کر لیں
فوج کے مؤقف، خیالات و جذبات کی ترجمانی کے لیے شعبہِ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) سنہ 1949 سے موجود ہے جس شعبے کو ماضی میں ایک کرنل یا بریگیڈیئر باآسانی سنبھال لیتا تھا، اسے اب ایک تھری اسٹار لیفٹیننٹ جنرل کی ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ آئی ایس پی آر اب ایک…
یہ فلم کئی بار دیکھی ہے
پاکستان میں اب تک چار فوجی حکمران آئے، جنہوں نے مجموعی طور پر پچھتر برس میں سے بتیس برس براہ راست حکومت کی اور تینتالیس برس بلاواسطہ انداز میں ریاستی اختیارات استعمال کیے جو بھی فوجی حکمران براہِ راست آیا، اس نے آتے ہی چار باتیں ضرور کہیں۔ اوّل، مجھے…
وہ تین لانگ مارچ جنہوں نے حکومتوں کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔۔
اگر پاکستانی سیاست میں لانگ مارچ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو لگ بھگ ایک درجن کے قریب لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف کیے گئے، لیکن ان میں صرف تین ہی نتیجہ خیز رہے اور اس وقت کی حکومت کو لانگ مارچ کرنے والوں کے مطالبات کے سامنے جھکنا پڑا اب…