امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…
ریاستوں کے بحرالکاہل میں امارت کے جزیرے
سماجی ناہمواریوں کے حوالے سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایک چھوٹی سی اقلیت اس لیے امیر ہے کہ وہ ذہین، محنتی اور جدت پسند ہوتی ہے۔ جب کہ کرہ ارض پر عوام الناس کی ایک بڑی تعداد غالباً اس لیے غریب ہے کیونکہ وہ آگے بڑھنا نہیں چاہتی یا محنت کرنا…
امریکہ میں غربت، جسے چھپایا جاتا ہے
امریکہ اپنی دولت، جمہوریت اور ہر قسم کے مواقع کی وجہ سے مشہور ہے، سفارتی اور سائنسی میدانوں میں اس کا مقابلہ نہیں، لیکن اسی امریکہ میں غربت اور مفلسی بھی ہے، جس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ امریکہ کی غربت دیکھنی ہو تو وہاں سیاہ فام اور آبائی…
ہم انتہائی غربت کو کیسے ختم کریں؟ جواب مضحکہ خیز حد تک واضح ہے!
اس ہفتے جب عالمی رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے جمع ہیں تو انہیں ایک بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔ دنیا نے 2030 تک ’انتہائی غربت‘ کے خاتمے کا وعدہ کر رکھا ہے، یہ 10 سال کے لیے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ہدف ہے، جس کے حصول کے لیے اربوں ڈالر…
کمر توڑ مہنگائی کے باعث لوگ قرض لینے، اثاثے فروخت کرنے پر مجبور۔۔
گزشتہ ڈیڑھ برس کے عرصہ میں منہگائی کے عفریت نے، جس طرح عام آدمی کو دبوچا ہے کہ لوگوں کو دو وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑ گئے ہیں۔ بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں دیکھتے ہی دیکھتے کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے لیکن ذرائع آمدن ہیں کہ سکڑتے جا رہے ہیں معاشی…
والدین نے آئی فون کے لیے آٹھ ماہ کے بیٹے کو بیچ دیا!
معمولی آمدنی سے اشیائے ضروریہ حاصل کرنا ایک معروف حقیقت ہے، لیکن اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے کوئی کس حد تک جا سکتا ہے؟ مزاح کے طور پر مہنگا آئی فون خریدنے کے حوالے سے ’گردہ بیچنا‘ میمرز کا ایک پسندیدہ موضوع رہا ہے، کچھ لوگ انتہائی کام بھی کر سکتے ہیں…
دیکھو دیکھو کون آیا، ڈار آیا ڈار آیا
مالیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے۔۔ جب خزانے میں پڑے ڈالر کئی مہینوں سے ساڑھے تین سے چار ارب ڈالر کے درمیان جھول رہے ہوں اور آئی ایم ایف بھی شرائط کی گرم ریت پر دوڑا دوڑا کے ہنپا رہا ہو اور دسمبر تک بیرونی قرض خواہوں کو ساڑھے چار ارب ڈالر سود…