ماں بولی (حصہ دوم)
میں مادری زبانوں کی حیثیت اور اہمیت پر لکھ رہا ہوں۔ بات اپنی ماں بولی کے درد کی ہے، مگر کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسے مکمل، تحقیقی اور وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اپنے پیچھے کوئی پورا معاشرتی ڈھانچہ،…
قانون کی حکمرانی یا طاقت کی حکمرانی؟ 2007 سے 2025 تک ہماری جمود کی کہانی
پاکستان میں عوامی مفاد کی عدالتی لیٹیگیشن نہ ہونے کے برابر ہیں، تقریباً موجود ہی نہیں۔ آپ سو موٹو اختیارات چھین سکتے ہیں، عدالتوں کی تشکیلِ نو کر سکتے ہیں، لیکن بنیادی حقوق یا وہ قانونی بنیادیں جن پر مقدمات کھڑے ہوتے ہیں، انہیں کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔…
ملیر اور کارپوریٹ سامراج کی نئی یلغار
اگر ملیر کی تاریخ کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ علاقہ آج بھی نوآبادیاتی کالونیل ازم کے دائرے میں سامراجی طاقتوں کی پیدا کردہ سازشی حالات سے گزر رہا ہے۔ برطانوی سامراج بظاہر تو اس سرزمین سے رخصت ہوگیا، لیکن درحقیقت اس نے اپنے دلالوں کو…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
بدلتے زمانے میں غلامی کی بدلتی شکلیں
قدیم زمانے میں جب طاقتور قومیں کمزوروں پر حملہ کرتی تھیں تو ان کے تین مقاصد ہوتے تھے۔ مالِ غنیمت کو لوٹنا، مفتوح قوم کی زمینوں پر قبضہ کرنا اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا۔ ابتدا میں جنگی قیدیوں کو فتح کے بعد قتل کر دیا جاتا تھا، تاکہ وہ ان کے لیے خطرے کا…
امریکہ کے بانیوں کی نسل پرستی
تاریخی ادوار کی زمانہِ حاضر کے تحت تشریح کی جاتی ہے تو کبھی اسے خوشگوار بنایا جاتا ہے اور کبھی اسے تاریک کہا جاتا ہے۔ امریکہ چونکہ ایک نیا آزاد ہونے والا ملک ہے اور اس کے ابتدائی دور میں آباد ہونے والے انگلستان سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان کی تہذیب کی…
دلت ذات کا المیہ
ہندو سماج کو چار ذاتوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پانچویں ذات اچھوتوں کی ہے، جو اب دلت کہلاتے ہیں۔ اس میں تمام نچلی ذات کے لوگ شامل ہیں، جنہیں ان کے ماضی اور کلچر سے محروم کر کے اونچی ذات والوں نے ان کی غلامانہ حیثیت بنا دی ہے، جن کا کام محنت و…
پاکستان میں ذات پات کا نظام
عام خیال یہ ہے کہ ذات پات کا نظام صرف بھارت میں مضبوط رہا ہے، جہاں ہندو مت کے عقائد کے مطابق الوہی طور پر ہندو سماج کی تقسیم برہمن، کھشتری، ویش اور شودر میں ہے، جن میں برہمن کا کام مذہبی رسومات کی ادائیگی، پوجا پاٹ اور مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہے۔…