Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

The-racism-of-Americas-founding-fathers
اہم ترینتازہ ترینکالم

امریکہ کے بانیوں کی نسل پرستی

By Akhtar Rasool
جون 4, 2025 4 Min Read
0

تاریخی ادوار کی زمانہِ حاضر کے تحت تشریح کی جاتی ہے تو کبھی اسے خوشگوار بنایا جاتا ہے اور کبھی اسے تاریک کہا جاتا ہے۔

امریکہ چونکہ ایک نیا آزاد ہونے والا ملک ہے اور اس کے ابتدائی دور میں آباد ہونے والے انگلستان سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے ان کی تہذیب کی بناوٹ میں انگریزی عناصر شامل ہیں۔ بعد میں یہاں دوسری اقوام کے لوگ بھی آئے۔

خاص طور سے اس کے معاشرے میں اس وقت مزید تبدیلی ہوئی، جب یہاں پر افریقہ سے غلاموں کو لایا گیا۔ اس عمل نے رنگ کی بنیاد پر معاشرے کو تقسیم کر دیا اور سفید فام لوگوں کو کالے لوگوں پر فوقیت دی گئی۔

امریکہ کے بانیوں نے اس بات پر زور دیا کہ اینگلو سیکسن نسل کے لوگ دوسری قوموں سے زیادہ اعلیٰ و افضل ہیں۔ اس نظریے کی بنیاد انہوں نے یورپی عہدِ وسطیٰ کی تاریخ پر رکھی۔ ٹامس جیفرسن نے اس نظریے کی توثیق کی اور بار بار یہ اعلان کیا کہ امریکہ میں اینگلو سیکسن تہذیب اور کلچر کی بنیاد ہونی چاہیے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے ورجینیا یونیورسٹی میں قدیم انگلش کا شعبہ کھولا۔ جب جنوب کے علاقے میں مزید یونیورسٹیاں قائم ہوئیں تو ان سب نے عہدِ وسطیٰ کی تاریخ اور قدیم انگریزی پڑھانا شروع کیا۔

اس مطالعے کے نتیجے میں یہ کہا گیا کہ اینگلو سیکسن کی نسل کی اپنی تاریخ ہے اور ان کا شاندار ماضی بھی ہے، جبکہ افریقی، امریکی نسل کے لوگوں کی نہ تو کوئی تاریخ ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ماضی ہے۔ اس لیے یہ افریقی لوگ غلام بن کر امریکہ آئے اپنی تاریخ اور ماضی سے کٹ گئے۔ اس لیے یہ بحیثیت انسان کم تر درجے پر ہیں۔

امریکہ کی خانہ جنگی کے بعد جب غلامی کا خاتمہ ہوا تو جنوب میں بسنے والے امریکیوں نے اس کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا اور وہ عہدِ وسطیٰ کی تاریخ اور ماضی میں ڈوب کر اپنے مسائل کا حل اس میں تلاش کیا۔ مثلاً کلو کلکس کلان، جو سفید فاموں کی ایک دہشت گرد تنظیم تھی اور آزاد ہونے والے افریقی غلاموں کے خلاف تھی۔

اسے وہ عہدِ وسطیٰ کے نائٹس کا درجہ دیتے تھے جو اعلیٰ اخلاقی اقدار کے پابند تھے اور جنگ کرنا ان کا پیشہ تھا۔ اس بنیاد پر وہ سفید فام لوگوں کو افریقی، امریکی کے مقابلے میں ترجیح دیتے تھے۔

اس دلیل کا جواب افریقی، امریکی، دانش وروں نے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عہدِ وسطیٰ میں اینگلو سیکسن کا سماجی درجہ نورمن کے مقابلے میں کم تر تھا۔ کیونکہ 1012 میں فرانس کے ولیم نے انگلستان کے بادشاہ کو شکست دے کر ملک پر قبضہ کیا تو اینگلو سیکسن شکست کھا کر ان کے ماتحت ہو گئے۔

نورمن حکومت نے ان لوگوں سے محنت مزدوری کرائی اور انہیں اپنے تسلط میں رکھا۔ اس لیے عہد وسطیٰ کی تاریخ اور ماضی میں ان کا کوئی اعلیٰ مقام نہیں ہے۔ یہ تاریخ کی غلط تشریح کر کے اس کو اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔

افریقی دانشوروں کی ایک دلیل یہ بھی تھی کہ سفید فام نسل پرستی کی بنیاد عہد وسطیٰ میں نہیں پڑی تھی اور یہ اصطلاح نوآبادیاتی دور میں شروع ہوئی اور امریکہ میں اس کو افریقہ سے لائے گئے غلاموں کو کم تر سمجھنے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔

افریقی، امریکی دانشوروں نے اپنے مساوی سماجی مقام کو حاصل کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دی کہ ان کی اپنی تاریخ بھی ہے اور ماضی بھی۔ انہیں اس سے محروم کرنے کا جرم سفید فام قوم جس نے نہ صرف انہیں اپنے خاندانوں سے جدا کیا، بلکہ اپنے ملک اور قبائل سے بھی علیحدہ کیا، لیکن اب وہ اپنی تاریخ اور ماضی کو نہ صرف افریقہ میں تلاش کرتے ہیں، بلکہ امریکہ کی سرزمین میں بھی ان سے جڑی ہوئی ہے۔

بوبوا نے اپنی تحریروں اور سیاسی تحریکوں کے ذریعے سفید فام نسل کے نظریے کی متھ کو توڑا اور اس پر بھی تنقید کی کہ امریکہ میں اینگلو سیکسن کو اپنی برتری جتانے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اگرچہ اینگلو سیکسن نے عہدے وسطیٰ کی تاریخ کو اپنا ماڈل تو بنایا مگر تاریخ کے ان حصوں کو اپنایا جو ان کے مفادات کو پورا کرتے تھے۔ اس میں ان کی مذہبی انتہا پسندی بھی ہے اور نہ انصافی کے جذبات بھی ہیں۔ امریکہ کے جنوب میں خاص طور سے مذہبی رنگ و نسل کا تعصب بہت گہرا ہے۔

اگرچہ قومیں ماضی کو واپس لانے کی کوشش تو کرتی ہیں مگر ماضی دور حاضر میں کبھی واپس نہیں آتا ہے اور اگر آتا بھی ہے تو اس کی شکل مسخ ہوتی ہے۔

اینگلو سیکسن نسل کی برتری نے امریکہ میں آباد دوسری یورپی اور ایشیائی آباد لوگوں کو بھی ان کی تاریخ اور کلچر سے جدا کر کے انہیں کم تر بنا دیا ہے۔ یہ امریکی قوم کا ایک المیہ ہے کہ وہ اب تک اپنے تہذیبی رشتے انگلستان میں ڈھونڈتے ہیں۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو

Tags:

1012 Norman InvasionAcademic Racismafrican american historyAfrican American ScholarsAfrican HeritageAfrican RootsAfrican SlavesAmerica’s Racial Pastamerican historyAmerican MelancholyAmerican MeltdownAmerican MulticulturalismAmerican RacismAmerican RootsAmerican SoilAnglo InfluenceAnglo-Saxon IdentityAnglo-Saxon SuperiorityBlack EmpowermentBlack IdentityBoboa's Writingscivil rightsCivil War Aftermathcolonial americaColonial RacismColonized IdentityColor-Based HierarchyCritique of White SuperiorityCultural AlienationCultural DisconnectCultural erasureCultural OppressionCultural ResistanceCultural revivalCultural RootsCultural Superiority ComplexCultural SupremacyCurriculum BiasDisplacement of AfricansEducational RacismElite White CultureEnglish Cultural Dependencyenglish heritageEquality Movementethnic discriminationEurocentric NarrativeFamily Separationforced laborFounding Fathers of AmericaHistorical CritiqueHistorical FalsehoodsHistorical Inequalityhistorical injusticeHistorical interpretationHistorical LegacyHistorical Misusehistorical mythsHistorical RevisionismIdentity ReconstructionIntellectual ResistanceKu Klux Klanmedieval EuropeMedieval KnightsMedieval MisinterpretationMisguided NationalismMyth of Anglo-Saxon NobilityMyth of SuperiorityNational AmnesiaNormans vs Anglo-SaxonsPolitical ActivismRace-Based EducationRace-Based PolicyRace-Based Social OrderRacial DiscriminationRacial DivisionRacial IdeologyRacial StereotypingRacist IdeologiesRacist JustificationsReclaiming historyReligious Extremismresistance literatureSegregationslavery in americaSlavery Legacysocial justiceSocial segregationSouth vs North IdeologySouthern AmericaSouthern RacismSuppression of Black HistorySuppression of Diversitysystemic racismTerrorist OrganizationsThomas JeffersonTribal ErasureTruth in HistoryVirginia UniversityWestern Superiority MythWhite Mythologywhite privilegewhite supremacyWilliam the Conqueror
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
The-first-elements-of-life-in-space-Did-life-on-Earth-come-from-the-deserted-asteroid-Bennu
Previous

زندگی کے ابتدائی اجزا خلا میں۔۔ کیا زمین پر زندگی ویران سیارچے ’بینو‘ سے آئی؟

The-Seven-Messengers-Selected-Stories-from-Italian-Literature
Next

سات قاصد (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme