چچا منٹو کے نام ایک بھتیجے کا خط
۱۱ مئی ۱۹۵۲ء چچا منٹو صاحب السلام علیکم۔ یہ خط اس بھتیجے کی طرف سے ہے، جسے آپ نہیں جانتے اور نہ جسے آپ نے جاننے کی کبھی کوشش کی۔ جسے پاکستان میں شاید کوئی بھی نہیں جانتا اور وہ اپنے کام سے بچے ہوئے اس تھوڑے سے وقت میں آپ جیسے بلند پایہ ادیب…
شہید ساز (افسانہ)
میں گجرات کاٹھیا واڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان پر ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ٹنٹا استعمال کیا، مگر اس کا کوئی ہرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے ہی چاہئیں۔ چاہے وہ…
مٹی کا زنگ (افسانہ)
یہ سب جیسے اچانک ہی ہوا۔ ریلوے اسٹیشن پر معمول کی زندگی نے یکلخت کروٹ لی اور پھر ستے ہوئے چہروں اور نیند سے بوجھل آنکھوں والے مسافروں کا ایک ہجوم اکٹھا ہوتا چلا گیا رات کا پہلا پہر ہوگا، جب یہ واقعہ پیش آیا دُور کے سفر پر نکلنے والے مسافروں اور اسٹیشن کے…
رحمان کے جوتے
دن بھر کام کرنے کے بعد، جب بوڑھا رحمان گھر پہنچا تو بھوک اسے بہت ستا رہی تھی۔ ”جینا کی ماں، جینا کی ماں۔۔۔!“ اس نے چلاتے ہوئے کہا۔۔۔ ”کھانا نکال دے بس جھٹ سے۔۔۔“ بڑھیا اس وقت اپنے ہاتھ کپڑوں لتوں میں گیلے کیے بیٹھی تھی اور پیشتر اس کے کہ وہ اپنے ہاتھ…
موذیل (افسانہ)
ترلوچن نے پہلی مرتبہ۔۔۔ چار برسوں میں پہلی مرتبہ رات کو آسمان دیکھا تھا اور وہ بھی اس لیے کہ اس کی طبیعت سخت گھبرائی ہوئی تھی اور وہ محض کھلی ہوا میں کچھ دیر سوچنے کے لیے اڈوانی چیمبرزکے ٹیرس پر چلا آیا تھا آسمان بالکل صاف تھا۔ بادلوں سے بے نیاز، بہت بڑے…
آخری گجرا
اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔ رضیہ میرے خوابوں کی شہزادی تھی۔ میں کیا اور میرے خواب کیا۔۔ لیکن خواب تو سبھی کے ہوتے ہیں اور خوابوں کی شہزادیاں بھی۔ میرے پاس تھا کیا اسے دینے کو؟ پھر بھی وہ خوش تھی کہ جو کچھ چھوڑ کر آ رہی تھی، وہ بھی کسی کو شہزادی…
کفن (اردو ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے۔ جاڑوں کی رات تھی،…
وقت سمندر (افسانہ)
قلعہ نما عالی شان عمارت کے اندر داخل ہوتے ہی میرے قدم رک جاتے ہیں۔ میں اس منظر کی تاب نہیں لا سکتا اور آنکھیں بند کر لیتا ہوں مگر پھر آنکھیں کھولتا ہوں تو کچھ دکھائی اور سجھائی نہیں دیتا اور کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کون سا وقت اور مقام ہے دن ہے…