آدمی (افسانہ)
کھڑکی کے نیچے انہیں گزرتا ہوا دیکھتا رہا۔ پھر یکایک کھڑکی زور سے بند کی۔ مڑ کر پنکھے کا بٹن آن کیا۔ پھر پنکھے کا بٹن آف کیا۔ میز کے پاس کرسی پہ ٹک کر دھیمے سے بولا، ’’آج تو کل سے بھی زیادہ ہیں۔ روز بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔‘‘ سرفراز نے ہتھیلیوں پر…
بجوکا (افسانہ)
پریم چند کی کہانی کا ’’ہوری‘‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے، کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولے کھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں اس اثناء میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک…
Three Naught Three (افسانہ)
تیس سالوں کے بعد میں اپنے سسرال لوٹ آئی تھی۔ جو سچ کہوں تو میں تو اس واپسی کہ حق میں نہیں تھی کہ میں دیارِ غیر میں اپنے دونوں بیٹوں کے قریب رہنے کی آرزو مند تھی۔ ماں ہونا بھی کتنا کٹھن ہے نا!! حالانکہ وہ کل کے بچے جو سوتے ہوئے بھی میرا…
گرہن (افسانہ)
روپو، شبو، کتھو اور منا… ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کے چار بچے دئیے تھے اور پانچواں چند مہینوں میں جننے والی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے، سیاہ حلقے پڑنے لگے، گالوں کی ہڈیاں ابھر آئیں اور گوشت ان میں پچک گیا۔ وہ ہولی، جسے پہل پہل میا پیار سے چاند…
بھوک (افسانہ)
ایمپریس مارکیٹ سے چرچ کی طرف جاتی کو رائٹ ہینڈ کو اوزار والا گلی میں مڑنا مانگتا اور پھر فوراً ہی کھبے ہاتھ کو مڑنے کا۔ یہاں ایک لین میں دس بارہ چھوٹے چھوٹے کواٹر ہوتے اور ان میں جو سب سے اچھا والا کواٹر ہے نا، وہی نیلے درواجے والا وہ کالا صاحب کا…
جینی
ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا، جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم مدتوں کے بعد ملے تھے۔…
شادھینتی
آدمیوں سے بھرے میدان میں ایسا گمبھیر سکوت کہ سوئی بھی گرے تو دھماکہ۔ وسط میدان میں لکڑی کی ایک سبز پوش میز اور اس پر قرینے سے دھرے قلم دان۔ اس میز کے ساتھ ہی استادہ دو سادہ سی لکڑی کی کرسیاں اور سامنے سفید کھمبے پر شان سے لہراتا ہوا پرچم۔ میدان میں…
جنت سے نکالے ہوئے لوگ (افسانہ)
اسکول سے واپسی پر اپارٹمنٹ کے سامنے میدان میں کار پارک کر کے میری متلاشی نظریں بلی کی کھوج میں تھیں تاکہ لنچ باکس میں اہتمام سے رکھی ہوئی ہڈیاں اور چوتھائی بچی ہوئی سینڈوچ اس کی پیٹ پوجا کا ذریعہ بن سکے۔ مجھے دور عمارت کی سائیڈ کی پتلی گلی میں گوہرِ…